شام لبنان سے باز رہے: امریکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ نے شام کو خبردار کیا ہے کہ وہ لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کی ہلاکت کے بعد لبنان کے معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ کونڈولیزا رائس نے شام سے امریکہ کے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں کہ وہ شام پر حریری کے قتل کا الزام نہیں لگا رہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ شام کی لبنان میں موجودگی عدم استحکام کا باعث ہے۔ اقوام متحدہ نے لبنان میں ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے اور کوفی عنان نے شام کو لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کے لیے کہا ہے۔ لبنان کی وزارت داخلہ نے کہا کہ انہیں کافی حد تک یقین ہے کہ رفیق حریری خود کش حملے میں ہلاک ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی لبنان میں ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ملک میں ماضی کی طرح ایک بار پھر طویل خانہ جنگی کا دور شروع ہو جائے گا۔ شام میں امریکی سفیر مارگریٹ سکوبی نے واپس جانے سے پہلے شام کی حکومت کو امریکی حکومت کا ایک پیغام پہنچایا جس میں رفیق حریری کی ہلاک پر شدید غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے امریکہ لبنان میں حملے کے جواب میں ممکنہ رد عمل کے لیے اقوام متحدہ سے بات چیت کر رہا ہے۔ رائس نے کہا کہ شام ایسے راستے پر چل رہا جس پر تعلقات بہتر ہونے کی بجائے خراب ہو رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||