مشرقِ وسطیٰ میں امن، اولین ترجیح | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے یہ بیان برسلز میں یورپی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ بین ااقوامی برادری کو اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھنا چاہیے جب تک اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعہ کا حل نہیں نکل آتا۔ انہوں نے امریکہ اور یورپی برادری کے درمیان اتحاد کے ایک نئے دور کے آغاز کی اپیل کی اور کہا کہ ان کے خیال میں یورپ امریکہ کی سیکیورٹی کا مرکزی ستون ہے۔ صدر بش نے یہ خطاب یورپ کے پانچ روزہ دورے کے آغاز میں کہا ہے۔ صدر بش یہ دورہ ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان ایران کے نیوکلیئر پروگرام، چین پر اسلحہ حاصل کرنے کی پابندی اور کیوٹو معاہدے جیسے معاملات پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ صدر بش نے تقریر کا زیادہ حصہ مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کے معاملے پر صرف کیا اور کہا کہ یورپ اور امریکہ دونوں اسرائیل اور فلسطین کو دو جمہوری ریاستوں کے طور پر پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن زیادہ دور نہیں اور اس سے خطے کی سلامتی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ صدر بش نے کہا کہ امریکہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کا خواہاں ہے اور اسے معلوم ہے کہ ایک پُرامن فلسطین ہی پورے مشرق وسطیٰ میں وسیع تر اصلاحات میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے یورپی ممالک سے عراق میں بھی ٹھوس امدادی کام کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ عراق میں جمہوریت کا استحکام تمام ممالک کے لیے سود مند ہے کیونکہ اس صورت میں عراقی قوم دہشت گردی کا مقابلہ کر سکے گی اور خطے میں امن و استحکام کی ضامن بنے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||