مہنگی ترین حلف برداری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش آج یعنی جمعرات کو کیپٹل ہل واشنگٹن میں باضابطہ طور پر بحیثیت امریکی صدر حلف اٹھائیں گے۔ وہ حلف کے لیے بائیبل کا خاندانی نسخہ استعمال کریں گے جس پر وہ خود بھی اور ان سے پہلے ان کے والد حلف اٹھا چکے ہیں۔ صدر جارج بش انتہائی سخت سکیورٹی کے بیچ ’خطابِ آزادی‘ کے عنوان سے تقریر کریں گے جس کا مقصد اندرون و بیرونِ ملک آزادی کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ جارج بش صدارت کے دوسرے دور کا حلف اٹھانے کے بعد جو تقریر کرنے والے ہیں اس کے اکیس مسودے لکھے اور پھاڑے جا چکے ہیں اور ابھی تک تقریر تیار نہیں ہوئی ہے۔ صدر بش کی حلف برداری کی تقریب کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ یہ مہنگی ترین تقریب ہو گی اور اس تین روزہ تقریب پر 40 ملین ڈالر خرچہ آئے گا۔
توقع کی جا رہی ہے کہ واشنگٹن میں منعقد ہونے والی تقریب اور پریڈ میں تقریباً پانچ لاکھ افراد شرکت کریں گے۔ منگل سے ہی ڈنر پارٹیاں اور آتش بازی شروع ہو چکی ہے اور نو سرکاری پارٹیاں بھی متوقع ہیں۔ حلف برداری کی تقریبات کا خرچہ انفرادی طور پر مخیر افراد اور کارپوریشنوں کے چندے سے پورا کیا جائے گا جبکہ واشنگٹن سٹی کو کہا گیا ہے کہ سکیورٹی کے 17 ملین ڈالر کا خرچہ وہ خود برداشت کرے۔ واشنگٹن میں کیپیٹل ہل اور وائٹ ہاؤس کا پورا علاقہ بند کیا جا چکا ہے۔ ساری تیاریاں مکمل ہیں صرف ایک بات کا دھڑکہ ہے۔ موسم کا۔ پیش گوئی ہے کہ برف پڑے گی اور ایسی سردی ہوگی کہ بدن پر کپکپی طاری ہو جائے۔ باقی دنیا کے لیے صدر کی پالیسیاں کیا ہوں گی اس بارے میں بہت قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔ اور لوگوں کی نگاہیں بار بار نئی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کی طرف جاتی ہیں جو آج صدر کے بعد اپنے عہدے کا حلف اٹھانے والی ہیں۔
کولن پاؤل چار سال تک وزارت خارجہ کی ذمہ داریاں اٹھانے کے بعد کل اپنے محکمے کے عملے سے رخصت لینے گئے تو لوگوں کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اُدھر امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی نے دو روزہ سماعت کے بعد کونڈولیسا رائیس کا نام نئی وزیر خارجہ کے طور پر منظور کرلیاہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے اراکینِ سینیٹ نے عراق پر امریکی حملے کے حوالے سے کونڈولیزا رائیس کو آڑے ھاتھوں لیا جسکے جواب میں انہوں نے تسلیم کیا کہ چند غلطیوں کے باوجود عراق پر حملہ حق بجانب تھا۔ عراق کے وسیع تر تباہی کے ہتھیاروں کے بارے میں سینٹ کی کمیٹی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ’ہمیں یقین تھا اُن خفیہ معلومات کی بنیاد پر جو ہمیں خفیہ ایجنسیوں اور اقوام متحدہ سے ملی تھیں کہ صدام حسین کے پاس وسیع تر تباہی کے ہتھیار موجود تھے۔ اتحادی فوجوں کے اپنی سرحدوں پر ہونے کے باوجود اُنہوں نے ہمیں اُن ہتھیاروں کا حساب نہیں دیا۔ اور صدام حسین کے ماضی کو دیکھتے ہوئے ہم تیار نہیں تھے کہ اُنہیں شک کا فائدہ دیا جائے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||