بھارت میں بش مقبول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے چار بڑے شہروں ممبئی، کلکتہ، دہلی اور چینائی میں کیے گئے سروے میں بش انتظامیہ کو ایک اچھی انتظامیہ قرار دیا گیا ہے۔ ملک کے اقتصادی طور پر طاقتور ترین شہروں میں اکثریتی عوام نے بی بی سی کی طرف سے کروائے گئے سروے میں کہا ہے کہ بش انتظامیہ بھارت کے ساتھ تجارت کے لیے بہتر ہے اور اس کی بھارت کے ساتھ قریبی تجارتی تعلقات کی خواہش ملک کی زبردست اقتصادی ترقی کا بنیادی جز ہے۔ نومبر میں ہونے والے امریکی انتخابات سے پہلے بھارت کی تاجر برادری نے اس تشویش کا اظہار کیا تھا کہ ڈیموکریٹ امیدوار جان کیری کی جیت بھارت کی بڑھتی ہوئی اقتصادی ترقی کے لیے اچھی خبر نہیں ہو گی۔
اس طرح بظاہر لگتا ہے کہ صدر بش کی بھارت میں مقبولیت کسی اور وجہ سے نہیں بلکہ اقتصادی ضرورت کی وجہ سے ہے۔ سروے میں بھارتیوں کی ایک بڑی تعداد، 54 فیصد، نے امریکہ کے بارے میں مثبت رائے دی ہے۔ تاہم جائزے میں رائے دینے والے باقی افراد اتنی مثبت سوچ نہیں رکھتے تھے۔ اس کی ایک وجہ امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات ہو سکتے ہیں جو کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ایک بڑا اتحادی ہے۔ اٹھارہ فیصد افراد کے علاوہ باقی عوام نے عراق میں بھارتی فوج بھیجنے کی مخالفت کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||