صدر بش دنیا کے لیے خطرہ ہیں: سروے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر جارج بش کی حلف برداری کے موقع پر بی بی سی ورلڈ سروس کی طرف سے دنیا میں اکیس مختلف ممالک میں کروائے گئے ایک رائے عامہ کے جائزے کے مطابق بہت سے افراد صدر بش اور امریکہ کے دنیا پر اثر و رسوخ کے متعلق منفی تاثر رکھتے ہیں۔ سروے کے نتائج سے یہ سامنے آیا ہے کہ بہت سے افراد سمجھتے ہیں کہ جارج بش کے دوبارہ صدر منتخب ہونے سے دنیا کو مزید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ سروے گلوب سکین اور پروگرام آن انٹرنیشنل پالیسی ایٹیچیوڈ نامی اداروں نے کیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار ڈین آئزک لکھتے ہیں کہ اس سروے کا سب سے بڑا انکشاف یہ ہے کہ نہ صرف یہ صدر بش کی بیرون ممالک میں مایوس کن تصویر پیش کرتا ہے، اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جن امریکیوں نے صدر بش کو منتخب کیا ہے لوگ ان کے بارے میں بھی منفی رویہ رکھتے ہیں۔ صرف دو ممالک ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ صدر بش کے وائٹ ہاؤس میں رہنے سے دنیا ایک محفوظ جگہ بن گئی ہے ۔ اور وہ ہیں بھارت اور فلپائن۔ یورپ میں یورپی یونین کا نیا رکن ملک پولینڈ ہی ایسا ہے جسے کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ وہاں لوگ صدر بش کی خارجہ پالیسی کے متعلق مثبت رویہ رکھتے ہیں۔ باقی دنیا کی اکثریت یعنی اکیس ممالک میں سے سولہ ملکوں کے عوام یہ سمجھتے ہیں کہ صدر بش کے دوبارہ منتخب ہونے سے دنیا کو ایک بڑا خطرہ لاحق ہے۔ ان میں سب سے زیادہ بش مخالف تاثرات ترکی میں پائے جاتے ہیں۔ وہاں پر اسی فیصد سے زیادہ ووٹ ڈالنے والوں نے بش کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔ دو دوسرے بڑے مسلمان ممالک، لبنان اور انڈونیشیا، بھی ترکی کی طرح ہی بش کے متعلق سوچ رکھتے ہیں۔
بش کے خلاف جن ملکوں میں سب سے زیادہ منفی تاثرات پائے جاتے ہیں وہ امریکہ کے روایتی اتحادی مغربی یورپی ممالک فرانس، جرمنی اور برطانیہ ہیں۔ ان ممالک میں عوام کی ایک بڑی تعداد نے کہا ہے صدر بش کے وائٹ ہاؤس میں دوبارہ آنے سے دنیا ایک خطرناک جگہ بن گئی ہے۔ لاطینی امریکہ سے آنے والے بش مخالف تاثرات مزید سخت ہیں۔ یہ اس لیے بھی عجیب بات لگتی ہے کہ یہاں امریکہ کی خارجہ پالیسی کی بالواسطہ مداخلت قدرے کم ہے۔ لیکن پھر بھی ارجنٹائنا، ترکی کے بعد دوسرا ملک ہے جس میں صدر بش کے منتخب ہونے پر سب سے زیادہ تنقید کی گئی ہے۔ برازیل میں بھی کچھ اسی طرح کا رجحان سامنے آیا ہے۔ سروے سے ایک اور بات جو سامنے آئی ہے وہ ہے عراق میں فوج بھیجنے کی عالمی مخالفت۔ سروے میں شرکت کرنے والے کسی بھی ملک کے اکثریتی عوام نے اپنی فوج عراق میں بھیجنے کے حق میں فیصلہ نہیں دیا۔ یہ نتیجہ ان ممالک میں بھی سامنے آیا ہے جو صدر بش کی خارجہ پالیسی کی حمایت کرتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||