عراق کی جنگ کے خلاف فلم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش اور عراق کی جنگ کے خلاف بنائی جانے والی دستاویزی فلم کی نمائش شروع ہوگئی۔ مائیکل مور کی متنازع دستاویزی فلم فارن ہائٹ 11/9 کی نمائش جمعہ کو امریکہ کے آٹھ سو سے زائد سنیما گھروں میں شروع ہوگئی ہے۔ فلم چونکہ امریکی صدر جارج بش اور عراق کی جنگ کے خلاف ہے اس لیے ڈیموکریٹس نے اس کی تعریف کی ہے جب کہ ریپبلیکن کی رائے کوئی اچھی نہیں ہے۔ نیو یارک میں بدھ کے روز جب اس کی نمائش کا آغاز ہوا تو اس نے ایک دن کے بوکس آفس ریکارڈ توڑے دیے۔ فلم کا آغاز انتخابات میں صدر بش کی متنازع کامیابی سے ہوتا ہے۔آگے چل کے اس میں صدر بش اور سعودی خاندان بشمول بن لادن کے مبینہ تعلقات کا ذکر آتا ہے۔ مائیکل مور نے فلم یہ ثابت کرنےکی کوشش کی ہے کہ لوگوں میں بے وجہ خوف پیدا کر کے عراق جنگ کا آغاز کیا جس کی ہر گز ضرورت نہ تھی۔ ابھی تک ہونے والے تبصروں میں فلم کو پراپیگنڈا قرار دیا ہے۔ مور نے خود بھی کہا ہے کہ فلم نومبر میں ووٹ ڈالنے کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرےگی۔ انہوں نے کہاکہ ’اگر مجھے کہا جائے کہ فارن ہائٹ 11/9 بش کے خلاف فلم ہے تو میرا خیال کہ میں اپنے دو گھنٹے یہ جاننے پر ضائع نہیں کروں گا کہ بش برا ہے اس لیے کہ یہ تو پہلے سے ہی جانتا ہوں‘۔ ایک قدامت پسند گروہ سٹیزن یونائٹڈ نے حکومت کے فیڈرل الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ وہ دیکھیں کہ آیا فلم کے اشتہارات میں صدارتی انتخابات کے قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ مور نے یہ فلم آنے والے انتخابات میں صدر بش کے خلاف انتخابی ہتھیار کے طور پر بنائی ہے۔ دریں اثنا مور کے نقاد ان کی اس فلم کے جواب میں ایک کتاب اور دستاویز فلم شائع کر رہے ہیں جس میں ان کے طریقوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||