صدر بش ترکی سے خوش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر جارج بش نے انقرہ میں ترک رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کے دوران علاقائی اتحادی ترکی کے تعاون کو سراہا ہے۔ صدر بش نیٹو کے سربراہ اجلاس میں شمولیت کے لیے انقرہ پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی نے دکھا دیا ہے کہ مسلم ملک ہوتے ہوئے بھی اس نے جمہوریت، آزادی اور قانون کی بالادستی قائم رکھی ہے۔ صدر بش کی ترکی کے صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مارچ دو ہزار تین میں اس وقت خراب ہوگئے تھے جب ترکی نے امریکہ کو عراق کے خلاف اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے لیے ان کے ساتھ تعاون کرنے کا وعدہ کیا۔ امریکی صدر بعد میں نیٹو کے دو روزہ اجلاس میں شرکت کے لیے استنبول روانہ ہوگئے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اجلاس میں عراق کا مسئلہ زیر غور رہے گا۔ استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار ٹم فرینکس کا کہنا ہے کہ نیٹو کے سفارتکار عراق میں سکیورٹی فورس کی ٹریننگ کے لیے عراقی وزیراعظم کی درخواست پر مثبت جواب پر آمادہ ہیں۔ لیکن اس ٹریننگ کی نوعیت کے بارے میں ملکوں کے سربراہوں کو فیصلہ کرنا ہوگا۔ نیٹو کے اس اجلاس کے لیے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں جس میں پولیس کے علاوہ ترکی کے بحری جنگی جہاز اور ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہے ہیں۔ صدر بش کے ترکی کے آمد پر کئی دھماکے اور احتجاج ہوئے ہیں۔ استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں کا صدر بش پر کوئی اثر نہیں پڑا اور نہ ہی انہوں نے عراق میں ترک باشندوں کے اغوا پر تبصرہ کیا ہے۔ امریکہ کے وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اجلاس عراق میں سکیورٹی فورس کی ٹریننگ کے حوالے سے معاہوہ طے پا جائے گا۔ ترکی میں نیٹو اجلاس کا خاص مقصد یہ ہے کہ چھبیس ممبر ممالک عراق، افغانستان اور اتحاد کے مستقبل پر اختلافات ختم کرنا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس اجلاس کے ذریعے صدر بش صدارتی انتخابات سے پہلے عراق کے مسلے پر ان ممالک کا تعاون حاصل کرنی چاہتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||