نیٹو کی توسیع‘ روس کی تشویش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس نے کہا ہے کہ اگر نیٹو روسی مفادات کو بدستور نظر انداز کرتا ہے تو حکومت اپنی دفاعی حمکت عملی کا ازسرِ نو جائزہ لے گی۔ روس کے یہ خدشات نیٹو میں سات نئے ممالک کی شمولیت کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں بلغاریہ، ایسٹونیا، لیٹویا، لیتھوینیا، رومانیہ، سلوواکیہ اور سلووینیا شامل ہیں روسی ایوان زیریں یعنی ڈوما نے اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ ٹینو روسی سرحدوں کے قریب اسلحہ جمع کرنے پر پابندی عائد کرنے کے معاہدے کی توثیق کرے۔ دنیا کے ان سات نئے ممالک کو نیٹو کی رکنیت دینے کے لئے جمعہ کو برسلز میں تقریب منعقد ہو رہی ہے جن کے جھندے پہلی بار نیٹو کے صدر دفاتر کے باہر بلنگ کئے جائیں گے۔ نئے ارکان کے لئے یہ ایک تاریخی موقع ہے جنہوں نے واشنگٹن میں اسی ہفتے نیٹو کا ممبر بننے کے لیے واشنگٹن میں اہم مطلوبہ دستاویزات پیش کئے تھے۔ ان ممالک کو نیٹو کی رکنیت دیئے جانے سے تنظیم کے رکن ممالک کی تعداد چھبیس ہو گئی ہے۔ نیٹو کے ارکان کی تعداد میں اضافے سے سیاسی اور عملی مسائل پیدا ہوں گے جن میں سب سے اولین مسئلہ یہ ہو گا کہ برسلز کے قریب واقع سرد جنگ کے دور کے صدر دفاتر میں سات نئے ارکان کے لئے کس طرح جگہ بنائی جائے۔ صدر دفاتر کے مین گیٹ پر سات نئے جھنڈے نصب کرنے کے لئے پہلے ہی جگہ نہیں تھی اس لئے یہ چھبیس جھنڈے عمارت کے مرکزی دروازے کے بالکل سامنے نصب کئے گئے ہیں۔ پیر کے روز واشنگٹن میں ہونے والی ایک تقریب میں یہ سات ممالک نیٹو کے ساتھ شامل ہوئے تھے لیکن جمعہ کو محض ایک علامتی تقریب منعقد کی جا رہی ہے۔ نیٹو میں تیزی سے تبدیلیاں جاری ہیں۔ نیٹو کی امن افواج خطہ بلکان کے ممالک میں فرائص انجام دینے کے علاوہ افغانستان میں سرگرمیوں میں اضافہ کرنے پر بھی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ اس بات پر بھی غور جاری ہے کہ یہ امن افواج عراق میں کیا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||