| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیٹو عراق میں حمایت بڑھائے، پاول
امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے معاہدۂ شمالی اوقیانوس، یعنی نیٹو کے ارکان ممالک سے کہا ہے کہ وہ جنگ کے بعد کے عراق میں ایک زیادہ بڑا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا ’ہم اس اتحاد کے ارکان سے کہتے ہیں کہ اس بات پر غور کیا جائے کہ وہ عراق میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ہماری حمایت کے لیے کیا جاسکتا ہے۔‘ نیٹو ممالک کے انیس میں سے سولہ ممالک پہلے ہی امریکہ کی قیادت میں عراق میں جاری فوجی کارروائی میں اس کے ساتھ شامل تھے۔ عراق پر فوج کشی کے معاملے پر جرمنی اور فرانس اور امریکہ کے درمیان اختلافات نے اس اتحاد کی تاریخ کے بدترین بحران کو جنم دیا تھا۔ برسلز میں منعقدہ نیٹو ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کی اس اپیل کے بارے میں بی بی سی کے نامہ نگار ایما جین کا کہنا ہے کہ عراق میں جنگ کے بعد سے اب تک یہ پہلی بار ہے کہ امریکہ نے اس اتحاد سے کسی قسم کی مدد کا مطالبہ کیا ہے۔ فی الحال نیٹو ممالک وسطی عراق پولینڈ کی قیادت میں موجود کثیرالقومی فوج کو محض ہلکی اور بالواسطہ امداد کے ذریعے برائے نام حمایت فراہم کررہے ہیں۔ برسلز کے اس اجلاس میں نیٹو کے سربراہ جارج رابرٹسن نے بھی امریکی وزیر خارجہ کی تائید کی۔ ان کا کہنا تھا ’اس اتحاد کو لازماً عراق میں کسی قائدانے کردار کی ادائیگی کے لیے نیٹو ممالک کو حمایت کرنی ہوگی۔ اور جہاں ضروری ہو وہاں نئے امور کردار کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||