مزید نیٹو فوج کوسوو روانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوسوو میں پانچ برس کے دوران ہونے والے شدید ترین نسلی فسادات کے بعد نیٹو وہاں مزید امن فوج بھیج رہا ہے۔ سرب اور البانوی باشندوں کے منقسم شہر متروویچا میں چپقلش کا آغاز اس وقت ہوا جب اِن لوگوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ کی اور دستی بم پھینکے جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے۔ اقوام متحدہ کے حکام نے کہا ہے کہ اس واقعہ کے باعث اقوام متحدہ کے زیر انتظام صوبہ میں پرتشدد واقعات کا آغاز ہو گیا اور اطلاعات کے مطابق اِن جھڑپوں کے نتیجے میں بائیس افراد ہلاک اور پانچ سو سے زائد زخمی ہو گئے۔ اس واقعہ کی خبر بلغراد اور دیگر سربیائی شہروں میں مظاہروں کو وجہ بھی بنی۔ برسلز میں قائم نیٹو کے صدر دفاتر سے تنظیم کے ترجمان نے بتایا ہے کہ امن فوج کو بوسنیا سے کوسوو منتقل کیا گیا ہے۔ ترجمان نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک سو پچاس فوجیوں پر مشتمل ایک امریکی دستہ پہلے ہی روانہ ہو چکا ہے جبکہ دو مزید دستے روانگی کے لئے تیار ہیں۔ عالمی برادری نے ان جھڑپوں کی مذمت کی ہے اور نیٹو نے انہیں انیس سو ننانوے کی جنگ کے بعد ہونے والے بدترین فسادات قرار دیا ہے۔ منگل کو کوسوو کے شمالی شہر متروویچا میں کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب سربیائی باشندوں کی قید سے مبینہ طور پر فرار ہونے والے تین البانوی بچے ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ ان بچوں کی ہلاکت سے ایک روز قبل اٹھارہ برس کا ایک سربیائی باشندہ وسطی کوسوو کے ایگ گاؤں میں گاڑی میں سفر کے دوران فائرنگ کے باعث زخمی ہو گیا تھا جس کے بعد سرب باشندوں اور نیٹو کی امن فوج کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق علاقے میں ہونے والے متعدد پرتشدد واقعات کے نتیجے میں اب تک بائیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||