| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بوسنیا پھر مسلمان ہو رہا ہے
ساراژیوو اور موستار جیسے تاریخی شہروں کی پہلی جھلک دیکھنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ سلطنتِ عثمانیہ کے چار سو سالہ دور نے واقعی اس علاقے پر اپنا گہرا اثر چھوڑا ہے۔ ساراژیوو کے قدیم علاقے باشچرشیہ اور دریائے نریتوا کے آس پاس موستار کے پرانے شہر کی قدیم مسجدیں، چھوٹی چھوٹی دکانوں میں سجے پیتل اور تانبے کی میناکاری کیے ہوئے گلدان، مشرقِ وسطیٰ کے روائیتی لمبی نالی والے حقے، قہوہ خانوں سے اٹھتی کافی کی خوشبو، بیکریوں میں ’بورک‘ اور ’چواپی‘ جیسے لذیذ کھانے غرض اسلامی تہذیب کی بے شمار علامتیں اس بات کی گواہ ہیں کہ ترک حکمرانوں نے بلقان کی تہذیب و تمدن پر گہری چھاپ چھوڑی ہے۔ اسی طرح گھروں میں آویزاں قرانی آیات کے تختے، کہیں کہیں مدرسوں کی عمارتیں، گنبد نما قبریں اور گاہے بگاہے اذان کی آواز سن کر یہی لگتا ہے کہ آپ مشرقِ وسطیٰ کے کسی اسلامی ملک میں آئے ہیں اور جنگ کی تباہ کاریوں اور دشمن قوتوں کی جانب سے اس علاقے کی اسلامی تاریح اور ورثے کو مٹا دینے کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔ لیکن تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ ذرا غور سے دیکھنے پر معاشرے پر مغرب کی ایسی گہری چھاپ نظر آتی ہے کہ لگتا ہے کہ پچھلی ایک صدی اسلامی دور کی چار صدیوں پر بھاری رہی ہے۔ وہ لوگ جو مرحبا اور اسلام و علیکم کہہ کر آپ کا خیرمقدم کرتے ہیں تھوڑی دیر بعد ریستوران میں بیٹھے پورک چاپ کا آرڈر دیتے نظر آتے ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء کی دکانوں میں بھی پنیر کے ساتھ ساتھ ہیم کے باریک قتلے رکھے نظر آتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ انیس سو چورانوے کے سفر کے دوران میں نے اپنے نوجوان مترجم ایدن سے پوچھا کہ جنگ میں راشن کی وجہ سے تمہیں کس چیز کی کمی سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے تو اس نے بڑی حسرت سے کہا کہ ’پیسے نہ ہونے کی وجہ سے میں شام کو شراب خانے میں دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر بیئر نہیں پی سکتا‘ اور اس بار میں نے دیکھا کہ نوجوان عورتوں اور مردوں کا یہ مسئلہ حل ہو چکا تھا۔
ہر شہر میں نہ صرف قہوہ خانوں اور کافی ہاؤسز میں خوب گہما گہمی تھی بلکہ شراب خانے بھی خوب بارونق تھےاور کہیں کہیں رقص و موسیقی کی آواز میں مغرب اور عشاء کی آواز بمشکل سنائی دیتی تھی۔ انیس سو چورانوے کے جنگی حالات میں یہ واضح تھا کہ بوسنیا میں نئی پود کو ان کے آباؤ اجداد کی تاریخ اور مذہب سے متعارف کرانے کی غالباً پہلی بار کوشش کی جا رہی ہے اور ٹی وی، مسجدیں اور مدرسے، مذہب اور اسلامی تاریخ کے درس و تدریس پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ اس وقت مفتی ہرزِگووینا سعید سمائکیچ سے میری ملاقات ایک ٹیکنیکل کالج میں ہوئی تھی۔ وہ وہاں اساتذہ کو اسلامی تاریخ اور دینیات کے مضامین پڑھانے کی تربیت دے رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ کمیونسٹ دور میں چونکہ مذاہب پر پابندیاں عائد تھیں اور تعلیمی اداروں میں مذہبی تعلیم کی اجازت نہیں تھی اس لئے لوگ مذہب سے دور ہو گئے تھے۔
’لیکن اسلام دشمن قوتوں کی جانب سے مسلمانوں کا اس خطے سے صفایا کرنے کی کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ نوجوان نسل کے اندر اپنے مذہب اور قومیت کا احساس بیدار ہوا ہے اور وہ آہستہ آہستہ مذہب کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔‘ موستار کے قریب ایک قصبے یابلدنِتسا میں عید میلادالنبی کے موقع پر وہاں کی چھوٹی سے مسجد کو بارونق دیکھ کر واقعی ایسا لگتا تھا کہ لوگ مذہب سے کسی حد تک آشنا ہیں اور ایسے خاص مواقع پر غالباً اب بھی نمازی بڑی تعداد میں مسجد یا جامعہ جاتے ہیں لیکن جہاں تک روزمرہ کی زندگی کا تعلق ہے تو مجھے ایسے کوئی آثار نظر نہیں آئے کہ بوسنیائی لوگ اسلامی طرزِ حیات کو پوری طرح سے اپنانے پر تیار ہیں۔
اس بارے میں میں نے موستار میں مسلمان صحافی مِرسِد بہرام سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ مذہب لوگوں کا ذاتی معاملہ ہے۔ سعید سمائکیچ نے کہا کہ جنگ نے انہیں اپنے اسلامی تشخص کی یاد دہانی ضرور کرائی ہے کیونکہ ان کے مطابق ’بوسنیائی قوم اور کروشیائی اور سرب قوموں میں نہ رہن سہن کا فرق تھا اور نہ ان سے سیاسی اختلافات تھے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ پھر کیا وجہ تھی کہ انہوں نے ہمیں ختم کرنے کی کوشش کی۔ ہمیں اس کے سوا کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ہمارے مذہب کی وجہ سے وہ ہمیں فنا کرنے کی کوشش کر رہے تھے‘۔ نریتوا کے کنارے ایک کافی ہاؤس میں بیٹھے مِرسِد نے دریا کی دوسری جانب واقع مسجد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں بیرام (عید) کے موقعہ پر جامعہ جاتا ہوں لیکن اس میں بھی خدا کی نسبت اپنی ماں کو خوش کرنے کا عنصر زیادہ اہم ہے اور جہاں تک میرے تشخص کا معاملہ ہے تو میں خود کو مسلمان سمجھتا ہوں، باقی رہا کھانے پینے اور لڑکیوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کا معاملہ تو وہ میرے اور میرے خدا کے درمیان ہے‘۔ مِرسِد کے یہ نظریات موجودہ نسل کی اکثریت کی عکاسی کرتے ہیں۔ جب میں نے اس کا ذکر مفتی سعید سمائیکیچ سے کیا تو وہ ہنسنے لگے اور معذرت کے انداز میں جھینپتے ہوئے کہا کہ ’دیکھو کمیونسٹ دور میں ہمارے لیے یہ سب حلال تھا اب ان بچوں کی عادات بدلنے سے پہلے ان کی ذہنیت اور سوچ بدلنے کی ضرورت ہے اور یہ کام فوراً نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے کئی نسلوں کے بعد تبدیلی آئے گی‘۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ مسجدوں میں نمازیوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کا ثبوت مجھے نہ تو سرے برنِتسا کی مسجد میں ملا جہاں اکیس سالہ امام محمد نے عصر کی اذان دینے کے بعد کچھ جھینپتے ہوئے کہا کہ ’میں ذرا نماز پڑھ لوں تو آپ سے بات کرتا ہوں۔‘
میں نے پوچھا کہ نمازیوں کا انتظار نہیں کریں گے تو کہنے لگے کہ نمازی جمعہ کی نماز پر آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سچ ہے کہ سرے برنِتسا میں مسلمانوں کی آبادی اب بہت کم رہ گئی ہےلیکن جو لوگ ہیں وہ دل میں تو پختہ ایمان رکھتے ہیں لیکن اس پر عمل میں سستی کر جاتے ہیں‘۔ اسی طرح بانیا لوکا کی ایک مسجد میں جو اس وقت زیرِ تعمیر تھی میری ملاقات دبلے پتلے اور نہایت شرمیلے امام آفندی مرچیچ سے ہوئی جنہوں نے بتایا کہ تعمیری کام جاری ہے لیکن لوگ دالان میں نماز ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً پچاس کے قریب لوگ شام کی نمازوں میں شریک ہوتے ہیں۔ میں نے مذاقاً پوچھا کہ آپ قدرے زیادہ مثبت رویے کا اظہار نہیں کر رہے تو مسکرا کر کہنے لگے کہ ’ہم یوں حوصلہ ہارنے والے ہوتے تو اس شہر میں آج کوئی مسلمان باقی نہ رہتا‘۔ بوسنیا کے مسلمان رہنما اسی مثبت رویے اور حوصلے سے کام لیتے ہوئے اپنی قوم کو واپس دین کے راستے پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں اور کہیں کہیں کامیابی کے آثار بھی نظر آتے ہیں۔ موستار میں پرانے پل ستاری موست کے تقریباً سامنے مدرسے کی عمارت ہے جہاں بیس پچیس نوجوان لڑکے اور لڑکیاں تعلیمی سال کے خاتمے پر خدا حافظ کہہ رہے تھے۔ بیس سالہ امینہ شلیوا سے میں نے پوچھا کہ وہ تعلیم مکمل ہونے پر کیا کرنا چاہتی ہے تو انہوں نے اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بتایا کہ وہ اپنی قوم کی خدمت کرنا چاہتی ہیں اور انہیں اسلامی تعلیم دینا چاہتی ہیں کیونکہ ’اللہ نے ہمیں اس دنیا میں ایک دوسرے کی مدد اور اسلام کی خدمت کے لیے بھیجا ہے اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اچھے مسلمان کی زندگی بسر کریں‘۔ مفتی سمائکیچ جو پاس ہی کھڑے اپنے شاگردوں کی باتیں سن رہے تھے، مطمئن نظر آ رہے تھے کہ آٹے میں نمک کے برابر ہی سہی لیکن وہ کہیں کہیں بوسنیائی نوجوانوں کی سوچ بدلنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||