BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 June, 2004, 17:13 GMT 22:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نو بش، تھینک یو‘مظاہرے ۔۔۔
News image
امریکی صدر جارج بش کے اٹلی پہچنے پر ہزاروں لوگوں نے ان کے خلاف مظاہرہ کیااور ان کو ملک سے نکل جانے کے لیے کہا۔

ہزاروں کی تعداد میں اطالوی مظاہرین نے جو ملک کے کونے کونے سے روم میں اکھٹے ہوئے تھے صدر بش کے خلاف نعرے لگائے۔ انہوں نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا’نو بش نو وار‘۔

منتظمین کے مطابق مظاہرین کی تعداد ڈیڑہ لاکھ تھی جبکہ پولیس کے مطابق ان کی تعداد صرف پچیس ہزار تھی۔

ہزاروں کی تعداد میں اٹلی کی پولیس شہر کی سڑکوں پر تھی۔

صدر جارج بش دو دن اٹلی میں رہیں گے جس کے بعد وہ فرانس جائیں گے۔

صدر جارج بش پوپ جان پال دوئم سے بھی ملے۔ پوپ جان پال دوئم نے جو عراق میں جنگ کے شدید مخالف ہیں ، صدر جارج بش کے ساتھ ملاقات میں اپنے موقف کا پھر اعادہ کیا۔

اپنے دورے میں جارج بش اطالوی وزیر اعظم سلویو برلسکونی کے ساتھ بھی ملاقات کریں گے جو عراق جنگ میں امریکی کے اتحادی ہیں۔

عوام کی شدید مخالفت کے باوجود اطالوی حکومت نے امریکہ کی عراق پالیسی کی مکمل حمایت کی اور اتحادی فوج کا حصہ بنے۔

عراق میں مزاحمت کاروں نے تین اطالوی باشندوں کو اپنے قبضے میں رکھاہوا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر اطالوی عوام نے جارج بش کے اور اطالوی حکومت کےخلاف مظاہرہ نہ کیا تو وہ ان تین اطالوی باشندوں کو ہلاک کر دیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد