’نو بش، تھینک یو‘مظاہرے ۔۔۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش کے اٹلی پہچنے پر ہزاروں لوگوں نے ان کے خلاف مظاہرہ کیااور ان کو ملک سے نکل جانے کے لیے کہا۔ ہزاروں کی تعداد میں اطالوی مظاہرین نے جو ملک کے کونے کونے سے روم میں اکھٹے ہوئے تھے صدر بش کے خلاف نعرے لگائے۔ انہوں نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا’نو بش نو وار‘۔ منتظمین کے مطابق مظاہرین کی تعداد ڈیڑہ لاکھ تھی جبکہ پولیس کے مطابق ان کی تعداد صرف پچیس ہزار تھی۔ ہزاروں کی تعداد میں اٹلی کی پولیس شہر کی سڑکوں پر تھی۔ صدر جارج بش دو دن اٹلی میں رہیں گے جس کے بعد وہ فرانس جائیں گے۔ صدر جارج بش پوپ جان پال دوئم سے بھی ملے۔ پوپ جان پال دوئم نے جو عراق میں جنگ کے شدید مخالف ہیں ، صدر جارج بش کے ساتھ ملاقات میں اپنے موقف کا پھر اعادہ کیا۔ اپنے دورے میں جارج بش اطالوی وزیر اعظم سلویو برلسکونی کے ساتھ بھی ملاقات کریں گے جو عراق جنگ میں امریکی کے اتحادی ہیں۔ عوام کی شدید مخالفت کے باوجود اطالوی حکومت نے امریکہ کی عراق پالیسی کی مکمل حمایت کی اور اتحادی فوج کا حصہ بنے۔ عراق میں مزاحمت کاروں نے تین اطالوی باشندوں کو اپنے قبضے میں رکھاہوا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر اطالوی عوام نے جارج بش کے اور اطالوی حکومت کےخلاف مظاہرہ نہ کیا تو وہ ان تین اطالوی باشندوں کو ہلاک کر دیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||