| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق: اطالوی رکن مستعفی
عراق میں امریکی قیادت میں عبوری انتظامیہ کے ایک اطالوی رکن مارکو کالامائی نے استعفٰی دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پال بریمر کی انتظامیہ سے انہیں شدید اختلاف ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ عبوری انتظامیہ کی غلط پالیسیاں گزشتہ ہفتے ناصریہ میں اطالوی فوج کے صدر دفتر پر حملہ کی وجہ بنیں۔ کالامائی نے کہا کہ عراق کی صورتحال اس وقت مکمل طور پر مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ اطالوی ٹیلیویژن پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے عراق میں اطالوی فوج کی کارکردگی کی تعریف کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ اتحادی انتظامیہ غیر موثر ہے۔ انہوں نے کہا ’عراق میں قائم عبوری انتظامیہ کو بے یقینی اور ناکامیوں کا سامنا ہے۔ عراق میں اطالوی فوج نے بہت کام کیا ہے لیکن اتحادی انتظامیہ نے کچھ نہیں کیا۔ صورتحال بہتر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ عراق کی مقامی تنظیموں اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر منصوبوں پر عمدرآمد کیا جائے‘۔ اطالوی ذرائع کے مطابق ناصریہ میں مارکو کالامائی نے اپنے استعفے سے قبل اتوار کے روز اطالوی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا ’عراقی معاشرے کو نہ سمجھنے کے باعث عبوری انتظامیہ نے معاشرے میں بے اطمینانی اور اشتعال پیدا کردیا ہے‘۔ مارکو کالامائی بھی ناصریہ میں تعینات تھے۔ روم میں اطالوی دفترِ خارجہ نے کالامائی کے مستعفی ہونے کی تصدیق تو کی ہے تاہم انہوں نے اس کی وجہ بیان نہیں کی۔ گزشتہ ہفتے ناصریہ میں کئے جانے والے خودکش بم حملے میں انیس اطالوی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ کالامائی نے پال بریمر کی عبوری انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عراقی معاشرے کو سمجھنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عراق میں صرف اور صرف اقوامِ متحدہ کی انتظامیہ ہی حالات بدل سکتی ہے۔ تاہم امریکی حکام نے ان الزامات کو رد کیا ہے۔ واشنگٹن میں امریکی انتظامیہ کے ایک ترجمان رچرڈ باؤچر نے کہا ہے کہ عراق میں عبوری انتظامیہ نے مثبت پیش رفت کی ہے اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ عراق میں مختلف سہولیات کی بحالی اور عراق کی سیاسی آزادی کے لئے کے لئے کام کررہی ہے۔ عراق میں برطانیہ کی اعلیٰ ترین اہلکار جیریمی گرین سٹاک نے کہا ہے کہ عراق کے سیکورٹی کے مسائل صرف فوجی کارروائیوں میں تیزی لانے سے حل نہیں کئے جاسکتے۔ دریں اثناء روس اور فرانس نے بھی امریکہ کے عراقی حکومت کو اقتدار سونپنے کے لئے متعین کردہ وقت پر اعتراض کیا ہے۔ امریکہ نے اقتدار کی منتقلی کے لئے یکم جولائی دو ہزار چار کی تاریخ دی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||