صدر بش پر کیری کی تنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں القاعدہ کےحملوں کی وارننگ کے بعد دہشت گردی کےخلاف جنگ سے نمٹنے کے حوالے سےصدر جارج بش تنقید کی زد میں ہیں۔ امریکہ کے اٹارنی جنرل جون ایشکرافٹ کا کہنا ہے کہ القاعدہ تنظیم امریکہ پر حملے کر سکتی ہے۔ انہوں نے بدھ کو ایسے سات افراد کا نام لیا جو ان کے خیال میں امریکہ کے لئے واضح خطرہ ہیں۔ لیکن صدر بش کے سیاسی حریف اور نومبر کے انتخابات میں ان کے ڈیموکریٹ پارٹی سے ان کے مدِ مقابل جون کیری نے سوال اٹھایا ہے کہ صدر بش کا وہ وعدہ کیا ہوا کہ کہ ملک کی سلامتی کے لئے تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ جان کیری کا کہنا تھا کہ اس خطرے سے امریکی انتظامیہ کی چند ناکامیوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکام ٹرینوں، کیمیائی پلانٹس پر سکیورٹی فراہم کرنے اور بندرگاہوں پر آنے والے سامان کے معائنے میں بھی ناکام ہوگئی ہے۔ سیئٹل میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہمیں ایسا صدر چاہیئے جو ہوم لینڈ سکیورٹی کو صرف تصویریں بنوانے کا ایک موقع نہ سمجھے۔ ہمیں وہ صدر چاہیے جو امریکہ کو محفوظ بنائے۔‘ صدر بش کے دیگر نقاد بھی بظاہر نئی دھمکیوں کے صحیح ہونے کے بارے میں مشکوک تھے کیونکہ ابھی رنگوں کے ذریعےخطرے سے آگاہی کا نشان زرد ہی ہے جبکہ سخت خطرے کے لئے استعمال کیا جانے والا سرخ رنگ ابھی دو درجے دور ہے۔ آگ بجھانے والے ادارے کی یونین کے صدر کا کہنا ہے کہ بش انتظامیہ کو نئی دھمکیوں کا علم ایک ماہ پہلے ہوا تھا۔ ادھر امریکی سینیٹ کی انٹیلیجینس کمیٹی کے ایک ڈیموکریٹ رکن ڈک ڈربن نے کہا ہے بش انتظامیہ کی طرف سے خطرے کی نئی وارننگ پر بہت سے لوگوں کو شک ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||