صدر بش کو 30 ملکوں میں شکست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک عالمی سروے کے مطابق دنیا میں زیادہ تر لوگ اگر امریکی انتخابات میں ووٹ دینے کا حق ہوتا تو وہ صدر بش کی بجائے ان کے حریف سنیٹر جان کیری کو منتخب کرتے۔ اس سروے میں شامل پینتیس میں سے تیس ملکوں کے زیادہ تر لوگوں نے صدر بش کے خلاف ووٹ ڈالا۔ ایشیا کے ممالک چاہتے ہیں کہ ڈیموکریٹ امیدوار جان کیری صدر بش کی جگہ وائٹ ہاؤس میں منصبِ صدارت پر فائز ہوں۔ سروے میں صدر بش کو ناروے میں سب سے کم ووٹ ملے۔ وہاں صرف سات فیصد لوگوں نے انہیں ووٹ دیا جس کے مقابلے میں سینیٹر کیری نے چوہتر فیصد ووٹ حاصل کئے۔ برطانیہ میں، جو امریکہ کا سب سے اہم اتحادی ہے، محض سولہ فیصد لوگوں نے صدر بش کے حق میں ووٹ ڈالے۔ ایشیا کے ساتھ ملکوں میں جو اس سروے میں شریک تھے، چین، جاپان، اور انڈونیشیا نے صدر بش کے خلاف جبکہ فلپائن نے ان کے حق میں ووٹ دیا۔ بھارت اور تھائی لینڈ میں رائے عامہ کیری اور بش کی موافقت اور مخالفت میں منقسم رہی۔ صدر بش صرف پولینڈ، نائجیریا اور فلپائین میں سینیٹر کیری سے زیادہ ووٹ حاصل کر سکے۔ سروے کرنے والوں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگوں نے کہا کہ وہ عراق میں جنگ اور امریکہ کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے صدر بش کو ووٹ نہیں دینا چاہتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||