BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 April, 2005, 13:15 GMT 18:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں بھارتی فلمز: آپ کی رائے
شاہ رخ خان اور پریتی زنتا گزشتہ سال کی ہٹ فلم ’ویرزارا‘ میں۔
شاہ رخ خان اور پریتی زنتا گزشتہ سال کی ہٹ فلم ’ویرزارا‘ میں۔
پاکستان میں سینما مالکان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوری طور پر بھارتی فلموں کی درآمد کی اجازت دی جائے۔

سینما مالکان کا کہنا ہے کہ پاکستانی فلموں کی تعدادمیں شدید کمی ہو گئی ہے جس کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش سے حکومت کو بھی مالی فائدہ ہو گا۔

سینما اور فلم پروڈکشن کے نمائندوں نے حکومت کو اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ مشروط طور پر سالانہ پانچ بھارتی فلموں کی درآمد کی اجازت دی جائے جبکہ اس کے جواب میں پاکستان سے بھی پانچ فلمیں بھارت برآمد کی جائیں۔

یاد ر ہے اس وقت قانون کے مطابق پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش ممکن نہیں کیونکہ کوئی درآمد شدہ فلم جو ایسی زبان میں ہو جو پاکستان میں بولی جاتی ہے اور جس میں بھارتی اداکاروں نے مرکزی کردار ادا کیا ہو، اس کی نمائش پاکستان میں نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی سنسر بورڈ اسے پاس کر سکتا ہے۔

آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کیا سینما مالکان کا یہ مطالبہ جائز ہے؟ کیا آپ بھارتی فلموں کی نمائش کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں؟ اگرہاں تو کیوں اور نہیں تو کیوں نہیں؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء سے ایک انتخاب نیچے درج ہے۔


تکلم بیگ، ٹورانٹو:
سینما مالکان اور قومی خزانہ دونوں کی بھلائی اسی میں ہے کہ ہماری معاشرتی اقدار کے مطابق سینسر کرنے کے بعد انڈین فلموں کو نمائش کی اجازت دی جائے۔یہی ایک طریقہ ہے اربوں روپے کے ’بھتہ‘ کو سرکاری نااہلکاروں سے موڑ کر حکومت کے خزانہ کی طرف کرنے کا۔

اصغر خان، جرمنی:
انڈین فلموں کو بالکل دکھانا ہوگا اگر پاکستان کی فلم انڈسٹری کو ترقی دینا ہے۔ لیکن چونکہ پاکستان کی فلم انڈسٹری صرف ایک صوبہ تک محدود ہے اسلیے اس کی بہتری کے امکانات بھی کم ہیں۔

صفدر علی ، سوات، پاکستان:
بالکل نہیں۔

عدیل شیخ، اٹک، پاکستان:
سوائے گنتی کے چند لوگوں کے کوئی بھی پاکستانی فلمیں نہیں دیکھتا، اس لیے سینما پر انڈین فلموں کا فیصلہ اچھا ہو گا۔

نبیل خان، ٹورانٹو:
یہ ایک اور بہانہ مل جائے گا مذہبی جماعتوں کو سڑکوں پر نکل آنے کا۔

قدرت اللہ، لاہور، پاکستان:
ہمیں انڈین فلمیں، بلکہ انڈیا کی ہر چیز ناقابل قبول ہے کیونکہ انڈیا ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے۔

اکرام للہ، ٹانک، پاکستان:
اجازت نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اب پاکستانی فلموں کا معیار ٹھیک ہو گیا ہے۔

ایک زبان
 دونوں ملک ایک ہی زبان بولتے ہیں اس لیے اجازت ہونی چاہیے۔
خان، کوئٹہ

خان، کوئٹہ، پاکستان:
دونوں ملک ایک ہی زبان بولتے ہیں اس لیے اجازت ہونی چاہیے۔

شبانہ نثار، سائراکیوز، امریکہ:
ہر ایک انڈین فلمیں دیکھتا ہے، اس لیے ان کی نمائش کی اجازت ہونا چاہیے۔ لیکن ایک فرق ہے۔ جب ہم یہ فلمیں سی ڈی پر دیکھتے ہیں تو یہ زیادہ تر غیر قانونی کاپیاں ہوتی ہیں لیکن ہم جب سینما پر دیکھیں گے تو اس کا براہ راست فائدہ انڈیا کی معیشت کوہوگا۔

قیس ایاز، نیو یارک، امریکہ:
میں بھارتی فلموں کے خلاف نہیں۔۔ لیکن دل پھر بھی نہیں مانتا کہ یہ فلمیں ہمارے سینما گھروں میں دکھائی جائیں۔ اس طرح ہماری فلم انڈستری ختم ہو جائے گی۔ میرے خیال میں نوجوانوں کو اس طرف آنا چاہیے، جس طرح ہم میوزک اور ڈراموں میں ان کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
لائبہ راجپوت، پاکستان:
جی ہاں کیوں نہیں۔۔کیونکہ ہم مسلمان تو ہیں نہیں، ہم تو ’اعتدال پسند‘ ہیں۔ شرم آنی چاہیے ہمیں۔

شیخ محمد یحٰیی، کراچی:
جب انڈین فلمیں ویڈیو پر دیکھی جا سکتی ہیں، ہمارے اداکار انڈین فلموں میں کام کر سکتے ہیں تو انڈین فلمیں پاکستانی سینماؤں میں کیوں نہیں چل سکتیں۔

عفاف اظہر، ٹورانٹو:
جی بالکل چل سکتی ہیں۔ پاکستان میں بھارتی فلمیں بھی چل سکتی ہیں کیونکہ کلچر تو پہلے ہی چل رہا ہے، رسم ورواج تو ابھی تک بھارتی ہے۔ باقی رہی بات حکومت اور عوام کی، تووہ تواوپراوپر سے دشمنی جتاتے ہیں، اندر سے دل تو ہمسائیوں کے نام پر ہی دھڑکتے ہیں۔جب سب کچھ ان کا اپنانا ہی تھا تو پھر اتنے جوش جذبے سے الگ ہونے کی کیا ضرورت تھی؟

کامران صابر، لاہور، پاکستان:
کوئی حرج نہیں کیونکہ انڈین فلم کی سی ڈی اسی دن پاکستان میں دستیاب ہوتی جس دن وہ فلم انڈیا میں ریلیز ہوتی ہے۔اس سے ہمارے سینما ہال بھی تباہ ہونے سے بچ جائیں گے۔

کاظم چوہان:
کیا پہلے ننگا پن کم ہے جو انڈین فلموں کی ضرورت بھی پڑ گئی؟

ندیم رانا، بارسلونا، سپین:
پاکستان اور انڈیا دونوں کو ایک دوسرے کی فلمیں دکھانی چاہئیں، اس سے دونوں ملکوں کے لوگ ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔

احمد علی، ٹورانٹو:
نمائش کی اجازت دینے سے پہلے حکومت پاکستان کو ایک قانون بنانا چاہیے جس کا اطلاق انڈین فلموں پر ہو۔

ثناء خان، کراچی:
انڈین فلمیں سینما گھروں میں ضرور لگنا چاہئیں کیونکہ کیبل پر تو چوبیس گھنٹے چل رہی ہیں۔ جب ڈرامے بھی ہم انڈین دیکھتے ہیں تو فلموں میں کیا حرج ہے؟ اور جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ انڈین فلمیں یا موسیقی نہیں سنتے، ان کے گھر جا کر دیکھیں تو پتا چلے گا وہ انڈین میوزک ہی سنتے ہیں۔اصل میں ہم نے صرف منافقت میں ترقی کی ہے۔

شہباز بھٹی:
مجھے تو واقعی حکومت کی یہ دوغلی پالیسی کی مجھ نہیں آتی کیونکہ آپ پورے پاکستان میں جہاں چاہیں انڈین فلم خرید سکتے ہیں۔ میرے خیال میں انڈین فلموں کے آنے سے دونوں ملکوں کا فائدہ ہوگا۔ کچھ لوگوں کا کاروبار تو ٹھپ ہو گا، لیکن آپ ہر کسی کوتوخوش نہیں کر سکتے۔

امداد جھوکیو، لاڑکانہ، پاکستان:
اگر سینما گھروں پر فلمیں چلیں گی تو حکومت بھی کمائے گی اور غیر قانونی دھندا بھی بند ہو گا۔

دوسری کلچر
 ہمیں پتا ہے کہ ہم دو مختلف قومیں ہیں،ان کی فلمیں لانے کا مطلب ہوگا کہ ہم ایک دوسرا کلچر کو لا رہے ہیں۔
ابراہیم عابد، ٹورانٹو

سید رضوی، کراچی:
کبھی نہیں بلکہ کیبل اور دوسرے انڈین چینلز پر بھی پابندی ہونا چاہیے۔

ابراہیم عابد، ٹورانٹو:
بالکل نہیں۔ ہم اپنے ملک میں بھارتی رسموں اور کلچر کو کیوں پروموٹ کریں؟ ہمیں پتا ہے کہ ہم دو مختلف قومیں ہیں،ان کی فلمیں لانے کا مطلب ہوگا کہ ہم ایک دوسری کلچر کو لا رہے ہیں۔ یہ زہر آہستہ آہستے پھیلتا ہے اور ہمیں اس سے خبردار رہنا چاہیے۔

شاہد ارشاد، خان پور، پاکستان:
یہاں ہالی وڈ کی فلمیں چلتی ہیں تو پھر انڈین فلموں پر پابندی کیوں؟

رابعہ ارشد، ناروے:
ابراہیم صاحب شاید جانتے نہیں کہ پہلے پاکستان اور انڈیا ایک ہی تھے اور انڈیا میں جو لوگ فلموں میں اب بھی جو کام کرتے ہیں ان میں سے تقریباً چالیس فیصد مسلمان ہیں۔

سید سرور ظاہر، برلن، جرمنی:
فلم تفریح کا سامان ہے اور اس پر پابندی لگانے سے اب تک صرف نقصان ہی ہوا ہے۔ انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے دور میں یہ سب بیکار باتیں ہیں۔ سرکاری اجازت کے ساتھ فلمیں آئیں گی تو یہ معلوم رہے گا کہ ہمارے بچے کیا دیکھ رہے ہیں ورنہ چھپ کر وہ کیا دیکھتے ہیں ہمیں پتا ہی نہیں۔

اعجاز احمد، صادق آباد، پاکستان:
ابھی عوام کے پاس تفریح کے اور بہت سے ذریعے آگئے ہیں اس لیے اگر سینما پر انڈین فلمیں لگا بھی دی جائیں تو کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ کوئی بھی نہیں آئے گا دیکھنے۔

عامر مستوئی، ڈیرہ غازی خان:
قائد اعظم نے ایک بار کہا تھا کہ ہندوازم اور اسلام دو الگ مذاہب ہی نہیں بلکہ دو مختلف تہذیبیں ہیں جو اس حد تک ایک دوسرے سے اختلاف رکھتی ہیں کہ ایک قوم کا ہیرو دوسری کا دشمن ہے۔

آج اگر انڈین فلموں کی نمائش کی اجازت دے دی جائے تو ہماری نئی نسل نہ تو غزنوی سے واقف ہوگی اور نہ ہی محمد بن قاسم سے، بلکہ ان کے ہیرو شاہ رخ خان اور امیتابھ ہوں گے۔ دوسرے اس سے پاکستانی فلم انڈسٹری کا تو جنازہ ہی نکل جائے گا۔ حکومت بجائے غیر ملکی فلمیں برآمد کرنے کے اپنی انڈسٹری کو سہارا دے۔

کاشف اعوان کاشی، ریاض، سعودی عرب:
نہیں کیونکہ یہ ہماری کلچر اور خاص طور پر نوجوان نسل پر برے اثرات ڈالے گی۔

سید ایف فہیم، نیو جرسی، امریکہ:
بالکل نہیں ، ہمارے ہاں پہلے ہی خاصی گندگی ہے۔ اور اگر اجازت دے دی بھی جاتی ہے تو لوگوں کو چاہیے کہ اس کا بائیکاٹ کریں۔ یہ تو اپنے دشمن کو مالی طور پر مضبوط کرنے والی بات ہوئی۔

عمیر شاہ، اسلام آباد:
میراخیال ہے اچھا ہوگا کیونکہ اس سی پاکستانی ٹی وی چینلز کے لیے مقابلہ تو بڑھے گا اور ان کا معیار تو بہتر ہوگا جیسا کہ ماضی میں تھا۔جن لوگوں کا خیال ہے کہ سینما میں انڈین فلموں سے فحاشت پھیلے گی انہیں چاہیے کہ ذرا جا کر پنجابی اور پشتو ڈرامے تو دیکھیں۔

کیسی پابندی؟
 جس طرح پاکستان میں شراب پر پابندی ہے مگر ہر جگہ مل جاتی ہے یہی حال پاکستان میں انڈین فلموں کا ہے۔
امتیاز آفریدی، دمام

امتیاز آفریدی، دمام، سعودی عرب:
باقی بچا کیا ہے؟ کوئی بھی پاکستانی فلم دیکھنے کو تیارنہیں اور پاکستانی فلمیں بھی انڈیا کی نقل کر کے بنائی جاتی ہیں۔ پاکستان میں اپنی تو کوئی تخلیق نہیں ہورہی اور جہاں تک بات ہے فحاشت کی تو اس میں بھی پاکستانی کوئی کم نہیں۔ جس طرح پاکستان میں شراب پر پابندی ہے مگر ہر جگہ مل جاتی ہے یہی حال پاکستان میں انڈین فلموں کا ہے۔

نوید احمد، لاہور:
یہ بالکل غلط ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے بھارتی کلچر کو قبول کر لیا ہے اور اب سرکاری طور بھی یہ بات مان رہے ہیں۔

علی ہمدانی، عرب امارات:
ہمیں ایسی فلموں کی اجازت نہیں دینی چاہیے جو ہماری ایشین تہذیب کو خراب کریں۔ جو لوگ اس سلسلہ میں انگریزی فلموں کا حوالہ دیتے ہیں انہیں یہ بات سمجھنا چاہیے کہ انگریزی فلم کو ہر کوئی ایک دوسری تہذیب سمجھ کر دیکھ رہا ہوتا ہے لیکن بھارتی فملموں میں ہماری اپنی ایشیائی کلچردکھائی جاتی ہے جس کے اثرات زیادہ برے ہو سکتے ہیں۔

سید ہاشمی، کوپن ہیگن، ڈنمارک:
ہمیں کبھی بھی اپنی پاک سرزمین پر انڈین فلمیں دکھانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے کیونکہ ہماری اپنی اقدار ہیں۔

عارف جبار قریشی، ڈھورو نارو:
جب دونوں ملکوں میں امن اور مفاہمت کی ہوا چل رہی ہے تو فلمیں بھی چلنی چاہئیں۔ ویسے یہ لوگ کون سی فلمیں دکھائیں گے کیونکہ ساری فلمیں تو انڈیا سے پہلے پاکستان میں سی ڈی پر آجاتی ہیں اور کیبل پر دیکھی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں سینما کو ذوال سے بچانے کے لیے یہ ایک اچھا قدم ہوگا۔

ضیاء رحمٰن، لندن:
پاکستان میں انڈین فلموں کی اجازت ہونی چاہیے لیکن صرف ایک مقررہ تعداد تک کیونکہ ایک طرف تو اس سے پاکستانی اور انڈین فلموں میں مقابہ بڑھے گا لیکن دوسری طرف لوگ پاکستانی فلمیں دیکھنا چھوڑ دیں گے کیونکہ انڈین فلمیں پاکستانی فملوں سے کہیں زیادہ اچھی ہوتی ہیں۔ اس سے بہرحال دونوں ملکوں میں اداکاروں وغیرہ کا تبادلہ ہوگا اورتعلقات بہتر ہوں گے۔

منظور بانیان، اسلام آباد:
میرے خیال میں ایسا کبھی نہیں ہونا چاہیے لیکن لوگ بہرحال اس بات کا شوق رکھتے ہیں کہ وہ انڈین فملیں دیکھیں۔میرا تو خیال ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پاکستان میں بھی فملیں بنانے پر پابندی لگائے تا کہ بے حیائی کو روکا جا سکے کیونکہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔

محمد چودھری:
سیدھا ساجواب ہے کہ نہیں۔ ہم نےآزادی لی ہی اسی بنیاد پر تھی کہ ہندؤوں اور مسلمانوں میں تہذیب کا فرق ہے اور مذہب مختلف ہیں۔ زیادہ تر انڈین فلموں میں ہندؤانا رسموں اور عقیدوں کا پرچار ہوتا ہے اور اگر مسلمانوں یا اسلام کے بارے میں کوئی بات دکھائی بھی جاتی ہے تو اس کو منفی طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ آحر انہیں بھی تو یاد ہے کہ مسلمان ان سے الگ ہوئے اس لیے وہ ان کے دوست نہیں ہو سکتے۔

میرا خیال ہے فلموں کی نمائش اس وقت تک نہیں ہونا چاہیے جب تک وہ اسلامی شعار کو صحیح طور پر پیش نہیں کرتے۔

عاصم، مکّانی، پاکستان:
ّمیرا خیال ہے کہ قانون اور سینسر بورڈ کی پالیسی کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ میں نمائش کی اجازت کی بھرپور حمایت کرتا ہوں۔

خالد عباسی، کراچی:
صاف ستھری فلمیں جو ہماری ثقافت سے مطابقت رکھتی ہوں ایسی فلموں کی اجازت ہونا چاہیے۔اس فارمولے کے تحت انڈین فمسازوں میں بھی تبدیلی آئے گی۔ موجودہ انڈین فلموں کو سینسر کرنے کے بعد تو صرف ٹائیٹل اور ’دی اینڈ‘ باقی بچے گا۔

ایشا، پاکستان:
میرا خیال ہے اجازت ہونا چاہیے کیونکہ پاکستانی فلمیں ویسے بھی کہاں چلتی ہیں۔ لوگ سینما جانا چاہتے ہیں لیکن پاکستانی فلمیں دیکھنے کے لیے نہیں۔ ایسی فلمیں آنی چاہئیں جو فیملی کے ساتھ دیکھ سکیں۔

امین اللہ ساہ، میانوالی:
اب یہی کسر باقی تھی۔ روشن خیالی کے اس دور میں ایسےمطالبات کوئی انہونی بات نہیں۔ہم لوگ تو نقالی کے شیر ہیں اپنی تو کوئی تخلیقی سوچ نہیں۔ میرا خیال ہے کہ بھارتی فلموں کی بھیک مانگنے سے بہتر ہے کہ سینماگھر بند کر دیے جائیں۔

صالح محمد، راولپنڈی:
بات بالکل صحیح سی ہے، اگر انگریزی فلمیں سینما پر چل سکتی ہیں، اور وہ بھی وہ فلمیں جو فیملی کے ساتھ آپ کبھی بھی نہ دیکھ سکیں، اور اگر ہر گھر میں لوگ ڈی وی ڈی اور کیبل پر انڈین فلمیں دیکھ رہے ہیں تو پھر یہ دوغلا پن کیوں؟ آپ کا بچہ بچہ انڈین فلموں،ان کے ہیروز، ہیروئنوں اور ولنز کو جانتا ہے، آخر آپ نے کس چیز پر پابندی لگا رکھی ہے؟ میرا خیال ہے انڈین فلموں پر پاکستان میں کبھی بھی پابندی نہیں لگ سکتی۔ یہ تو سراسر بے وقوفی اور دوغلا پن ہے کہ آپ کے ہر گھر میں تو انڈین فلمیں چل سکتی ہیں لیکن چند سینما گھروں پر نہیں۔

ابو بکر احمد، ٹورانٹو:
راولپنڈی سے صالح محمد صاحب نے سب کچھ تو کہہ دیا ہے، اب میں اس کے علاوہ کیا کہہ سکتا ہوں کہ انڈین فلموں کے آنے سے شاید پاکستانی فلمساز بھی کام کرنا شروع کر دیں۔

عثمان شوکت، نیو یارک:
یہ ایک اچھا قدم ہوگا، پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے۔ پھریا تو آر ہوگا اور یا پار۔ شاید مقابلے کی فضا میں پاکستانی بھی اچھی فلمیں بنانا شروع کر دیں۔

فرحان علی، عرب امارات:
اگر۔۔اگر۔۔اگر سنسر بورڈ فلموں کو ٹھیک سے سنسر کرے۔ عریانیت، ماردھاڑ اور خلاف پاکستان پروپیگنڈہ نہیں تو پھر ٹھیک ہے۔

اظہار زیدی، کینیڈا:
تمام نئی اور پرانی بھارتی فلمیں ہمارے بازاروں میں ملتی ہیں اور جو بھی انڈین فلم دیکھنا چاہتا ہے وہ کرائے پر لےسکتا ہے یا خرید سکتا ہے تو پھر سینما میں اس کی اجازت کیوں نہیں؟ بلکہ یہ طریقہ بہتر ہوگا کیونکہ فلمیں سنسر کی اجازت کے بعد دکھائی جائیں گی اور اس سے حکومت کو ٹیکس بھی ملے گا۔

علی مجید، دبئی:
میرا خیال ہے یہ پاکستانی انڈسٹری کے لیے اچھا ہوگا۔ جب پاکستانی اداکار وغیرہ انڈین فلموں میں کام کر سکتے ہیں تو حکومت کو ان فلموں کی نمائش کی اجازت بھی دے دینی چاہیے۔

آخر پاکستان میں انڈین ٹی وی اتنا مقبول کیوں؟آپ کی رائے
آخر پاکستان میں انڈین ٹی وی اتنا مقبول کیوں؟
سرینگر۔مظفر آباد بس سروسآپ کی رائے
شدت پسندوں کا حملہ اور کشمیر بس
کرکٹ ڈِپلومیسی کتنی کامیاب رہے گی؟آپ کی رائے
کرکٹ ڈِپلومیسی کتنی کامیاب رہے گی؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد