BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Sunday, 20 February, 2005, 14:01 GMT 19:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈین ٹی وی بمقابلہ پاکستانی ثقافت
News image
پاکستان میں اب ٹی وی اور کیبل گھر گھر پہنچ چکے ہیں۔ جہاں وی سی آر نے پاکستان بھر میں انڈین فلموں کو مقبول کیا اور انڈین فلمی ستاروں کو پاکستان کےگلی محلوں تک پہنچا دیا وہیں ڈش اینٹیناز اور کیبلز کے ذریعے ٹی وی چینلز نے انڈین سوپ ڈراموں کو بھی متعارف کروا دیا۔

سٹار ٹی وی کے ڈرامے ’ساس بھی کبھی بہو تھی‘، ’کسوٹی زندگی کی‘ اور ’کہانی گھر گھر کی‘ سونی ٹی وی کا ’کسم‘ اور زی ٹی وی کے ’انتاکشری‘ اور ایسے ہی کئی اور پروگرامز کی آواز اب ہر پاکستانی گھر سے آتی سنائی دیتی ہے۔

آخر پاکستان میں انڈین ٹی وی ڈراموں اور پروگرامز کی مقبولیت کا راز کیا ہے؟ آپ کی رائے میں بالی وڈ اور ٹی وی چینلز کی مقبولیت پاکستانی ثقافت پر کیا اثرات مرتب کر رہی ہے؟ کیاان ڈراموں اور فلموں کی زبان پاکستان میں عام بول چال کی زبان کو تبدیل کر رہی ہے؟ آپ نے نوجوان نسل اور بچوں میں کوئی تبدیلیاں نوٹ کی ہیں جو اس طرح کے پروگرام شوق سے دیکھتے ہیں؟ کیا یہ اثرات پاکستانی ثقافت کے لیے خطرہ ہیں یا اس سے پاکستان اور انڈیا کے عوام کو ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد بھی ملی ہے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

ندیم قریشی، شنگھائی:
انڈین ٹی وی پروگرام حقیقت سے قریب نہیں ہوتے۔ زیادہ تر اوٹ پٹانگ حرکتیں ہی ہوتی ہیں۔ جو کچھ انڈین فلم اور ٹی وی پر دکھایا جاتا ہے اس کا وہاں کی عام زندگی دور کا بھی واسطہ نہیں اور یہی سب بچوں کو پسند ہوتا ہے۔ جہاں تک عریانیت کا سوال ہے تو اسے اب اللہ ہی روک سکتا ہے۔ اللہ ہمیں اور انڈینز کو بھی ہدایت دے کہ اس نے وہیں ہمارے آبؤ اجداد کو بھی ہدایت دی تھی۔ باقی ہمیں ان سے کیا خطرہ کہ ان کی تو خود اپنی ثقافت فلم اور ٹی وی سے خطرے کا شکار ہے۔

نسیم احمد، انصاری، کراچی:
میرے خیال میں انڈین ڈرامے ہماری ثقافت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔ حکومت اگر سارے انڈین چینلز نہیں تو صرف سٹار پلس پر ہی پابندی لگا دے تو کافی بہتری آسکتی ہے جس کی وجہ سے ہندوانہ رسم و رواج یہاں بھی دیکھنے میں آرہا ہے۔

اسد، لاہور:
چونکہ انڈین ٹی وی میں گلیمر اور سیکس زیادہ ہے، اس لیے اس کی مقبولیت بھی زیادہ ہے لیکن اب جیو اور اے آر وائی جیسے پاکستانی چینلز بھی ان کا مقابلہ کررہے ہیں اور توقعات سے زیادہ بہتر کام کررہے ہیں۔ ان میں گلیمر ہے لیکن سیکس نہیں اور وہ ایسی معلومات مہیا کرتے ہیں کہ لوگ ان کی طرف آرہے ہیں۔ میں وقت نکال کر ان کو دیکھتا ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ پی ٹی وی نے پاکستانی چینلز کی شہرت تباہ کردی ہے۔

عامر صدیقی، لاہور:
اگر پاکستان میں ہالی وڈ ٹھیک ہے تو بالی وڈ اور انڈین ٹی وی کیوں نہیں۔ آخر ہماری زبان، ثقافت اور خصوصاً مسائل بھی تو ایک جیسے ہی ہیں۔ تو پھر میڈیا سانجھا کرنے میں کیا مسئلہ ہے۔

فواد احمد، لاہور:
پاکستان کے ڈرامے آج بھی انڈین ڈراموں سے کافی اچھے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ان کا معیار وہ نہیں رہا جو پہلے تھا۔ میرے خیال میں یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو فضول انڈین ڈرامے دیکھنے سے روکیں۔

اب ویسا نہیں رہا۔۔۔
 کچھ سال قبل تک انڈین ٹی وی اس لیے مقبول تھا کہ کوئی نجی پاکستانی چینل نہیں تھا اور چونکہ پاکستانی انڈین ٹی وی کی زبان سمجھتے ہیں اس لیے وہ انہیں دیکھتے تھے۔ پی ٹی وی کافی نہیں تھا لیکن اب چونکہ پاکستانی نجی چینلز شروع ہورہے ہیں، انڈین چینلز اپنی مقبولیت کھو رہے ہیں۔
ہما صدف، لاہور

ہما صدف، لاہور:
کچھ سال قبل تک انڈین ٹی وی اس لیے مقبول تھا کہ کوئی نجی پاکستانی چینل نہیں تھا اور چونکہ پاکستانی انڈین ٹی وی کی زبان سمجھتے ہیں اس لیے وہ انہیں دیکھتے تھے۔ پی ٹی وی کافی نہیں تھا لیکن اب چونکہ پاکستانی نجی چینلز شروع ہورہے ہیں، انڈین چینلز اپنی مقبولیت کھو رہے ہیں۔ کچھ عرصہ میں جب یہ پاکستانی چینلز اپنی جگہ بنالیں گے، حالات بدل جائیں گے۔ ظاہر کہ ساڑھیوں، گلیمر اور بچوں اور گھریلو خواتین پر تھوڑے سے زبان کے اثرات تو ہیں ہی جو پاکستانی ثقافت کے لیے نقصان دہ ہے لیکن یہ مستقل اثر نہیں ہے۔ اگر انڈیا اپنے لوگوں کو جیو، انڈس، اے اروائی اور ہم ٹی وی دیکھنے دے تو وہاں بھی حالات اسی طرح ہوجائیں گے۔

امتیاز چانڈیو، حیدرآباد:
وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں بننے والے اسی فیصد ڈراموں اور فلموں میں اداکاری غیر حقیقی ہوتی ہے۔ اب لوگ خواہ مخواہ چیخ و پکار والی فلمیں نہیں دیکھنا چاہتے۔ ان ڈراموں کا پاکستان میں اور خصوصاً سندھ میں اس قدر اثر ہوا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں نے فلمیں اور ڈرامے دیکھ کر خودکشیوں کی کوششیں بھی کی ہیں اور پیار کی شادیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے جو ان ڈراموں اور فلموں کے بھیانک اثرات کا ثبوت ہے۔

علی مراد خان، سلیمان خیل:
پاکستان میں انڈین فلمز اس لیے چلتی ہیں کہ ان کی کہانیاں حقیقت سے کچھ قریب ہوتی ہیں تاہم آج کل نئی نسل انہیں سیکس کے لیے دیکھتی۔ ویسے اگر پی ٹی وی پر کچھ اسلامی پروگرام چلائے جائیں تو اچھا ہوگا۔

سید عتیق احمد، کراچی:
انڈین ڈرامہ حقیقت سے بہت دور ہوتا ہے۔ یہ ڈرامے خواب کی طرح ہوتے ہیں، اس لیے لوگ انہیں دیکھتے ہیں۔

آصف نٹ، وزیرآباد:
انڈین ڈرامہ کبھی بھی پاکستانی ڈرامے کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ پاکستان میں کچھ لوگ صرف گلیمر کی وجہ سے انڈین ڈرامہ دیکھتے ہیں۔

گلوبل ولیج
 انڈیا میں وہی زبان بولی جاتی ہے جو ہم سمجھ سکتے ہیں اور ہماری اقدار اور رسومات، نفسیات اور سماجی ڈھانچہ خاصی حد تک ایک جیسا ہے۔ ہم ایک طویل عرصہ اکٹھے رہے ہیں اس لیے ہم ایک دوسرے پر اثرات مرتب کرتے ہیں اور کرتے رہے گے۔
آصف رفیق، لائبیریا

آصف رفیق، لائبیریا:
ہم گلوبل ولیج کے عہد میں رہ رہے ہیں اور جغرافیائی حدود اب میڈیا کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔ انڈیا میں وہی زبان بولی جاتی ہے جو ہم سمجھ سکتے ہیں اور ہماری اقدار اور رسومات، نفسیات اور سماجی ڈھانچہ خاصی حد تک ایک جیسا ہے۔ ہم ایک طویل عرصہ اکٹھے رہے ہیں اس لیے ہم ایک دوسرے پر اثرات مرتب کرتے ہیں اور کرتے رہے گے۔ یہ اچھی بات ہے کیونکہ اس سے کشیدگی کم ہوگی اور امن ہوگا اور اکے لیے میڈیا کا صحتمندانہ استعمال ہوسکتا ہے۔ اور یہ اثرات دونوں پر حالیہ دنوں میں دکھائی دیے ہیں۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ انڈین میڈیا کیوں مقبول ہے۔ وہ تیکنیکی طور پر بہتر ہیں، ان کی مارکیٹ بڑی ہے جس کی وجہ سے ان کے ہاں پیسے بھی بہت ہے۔ دراصل دونوں کا میڈیا صرف برِ صغیر ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں اردو کو پھیلا رہا ہے۔

شیما صدیقی، کراچی:
ہمیں حیرت ہے کہ کون بے وقوف لوگ انڈین ڈرامہ دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ ہمارے گھر میں بھی کچھ مہینوں سے کیبل آیا ہے لیکن ان ڈراموں کو کون برداشت کرے، اتنے روتو سوتو ہم کہاں برداشت کرسکتے ہیں جنہوں نے پی ٹی وی کے اچھے دور کے ڈرامے دیکھے ہوئے ہیں۔ انڈین ڈراموں میں کیا ہے، ساریاں ہی ساریاں جیسے کوئی فیشن شو ہو، جہاں ہلکی سی مسکراہٹ چاہیے ہو بیگم صاحبہ قہقہے لگا رہی ہیں۔ یہ پاکستانی ڈراموں کا مقابلہ ہی نہیں کرسکتے۔

ثنا ریاض، کراچی:
ہمارے ڈراموں اور شوبز کو اتنی ترقی نہ ملنے کی ایک وجہ ہماری ثقافت ہے جس میں فلم اور ٹی وی کی شخصیات کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ ان ڈراموں سے ہماری ثقافت پر اچھے اثرات مرتب نہیں ہورہے کیونکہ یہ ہماری ثقافت نہیں ہے۔ اب ان کی زبان عام بولی جا رہی ہے اور ہم اس وجہ سے اپنی علاقائی زبانیں اور اردو فراموش کر رہے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کی زبان پر بھی شاہ رخ خان کا نام ہے۔ میرا یہی پیغام ہے کہ اگر انڈین چینلز بند کردیئے جائیں تو ہم اپنے ملک کو اور معاشرے کو ایک بہتر اسلامی معاشرہ بناسکتے ہیں۔

وہاب خان، بنوں:
میرے خیال میں اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارے اپنے ٹی وی کا زوال ہے حالانکہ انڈین فلموں تک نے بہت کچھ ہمارے ٹی وی سے لیا ہے لیکن اب نہ اشفاق احمد جیسے لکھنے والے ہیں نہ شعیب منصور جیسے ڈائریکٹر تو ہم کس طرح اپنا ٹی وی دیکھیں۔

امجد علی جعفری، دوبئی:
یہ درست ہے کہ پاکستانی ڈرامے کچھ عرصہ تک مقبول تھے مگر اب ڈش اینٹیناز اور کیبل بہت سستا ہے تو اب لوگ معیاری ڈرامے اور چینلز دیکھ سکتے ہیں۔ پہلے میں کشمیر میں تھا اور دور درشن اور پی ٹی وی دیکھا کرتا تھا لیکن اب دوبئی میں ہوں اور اے آر وائی، سٹار ٹی وی، زی ٹی وی اور جیو دیکھتا ہوں کیونکہ ان کا معیار بہتر۔ پی ٹی وی دیکھوں تو لگتا ہے کہ میں تیس سال پیچھے چلا گیا ہوں۔ مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔

فواد فراز، امریکہ:
ایک وقت تھا جب پاکستان میں انڈیا کی فلمیں مشہور تھیں اور انڈیا میں پاکستانی ڈرامے۔ یہ سب کچھ ایک حد میں تھا۔ مگر جب سے پاکستانی ٹی وی ڈراموں نے انڈین ڈراموں کی کاپی شروع کی ہے لوگ انڈین ڈرامے دیکھنے لگے ہیں۔ یہ بہت خطرناک صورت حال ہے، اللہ رحم کرے۔۔۔۔

بابر قریشی، کینیڈا:
ویل، جہاں تک مقبول ہونے کی بات ہے تو پاکستان میں انڈین میڈیا کو کافی شروع سے ہی مقبولیت حاصل تھی۔ لیکن اب پاکستان میں اچھی فلمیں نہ بننے کی وجہ سے انڈین میڈیا مضبوط ہوئی ہے۔ اور یہ کہنا صحیح نہیں کہ پاکستانی ڈراموں کے مقابلے میں پاکستان میں انڈین ڈرامے زیادہ مشہور ہیں۔۔۔۔

ظفر حسین، میلبورن:
یہ سب شیطانی چیزیں ہیں، اسی وجہ سے ہم لوگ اپنے مذہب سے دور ہورہے ہیں اور ہمارا ایمان کمزور ہوتا جارہا ہے۔۔۔۔

سہیل خان، امریکہ:
جو لوگ انڈین چینلز کے خلاف ہیں وہ چھوٹی سمجھ رکھتے ہیں، وہ عوام کے لئے انٹرٹینمنٹ نہیں چاہتے۔ اکیسویں صدی کی دنیا ایک عالمی گاؤں بن گئی ہے۔۔۔۔ایک سچے مسلمان کے عقیدے میں تبدیلی نہیں آسکتی ہے۔۔۔

علی جاوید، نیوجرسی:
پاکستان میں انڈین ٹی وی ڈرامے اور پروگراموں کی مقبولیت کا راز ہمارے عوام کی جہالت میں ہے۔ پاکستان کے ٹی وی پروگرام آج بھی انڈین ٹی وی پروگرام سے معیاری ہیں۔ میں نے کبھی کسی تعلیم یافتہ پاکستانی کو انڈین پروگرامز میں انٹریسٹ لیتے نہیں دیکھا۔

انڈین کلچر دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔۔
 پاکستانی لوگ انڈین ٹی وی پر جو چیز دیکھنا چاہتے ہیں وہ ہے کلچر جو انڈین اپنے فلموں اور ڈراموں میں دکھاتے ہیں، اور ڈانس، ڈرامہ اور موسیقی ان کی کلچر کا حصہ ہے۔پاکستانی ان پروگرواموں کو دیکھنا نہیں پسند کرتے جن پر حکومت کا کنٹرول ہے۔۔۔
کمل شمشی، نیوزی لینڈ

کمل شمشی، نیوزی لینڈ:
پاکستان نے کافی اچھے ڈرامے بنائے جو اب بھی کافی مقبول ہیں انڈین عوام میں۔ میں یہاں آک لینڈ میں اپنے کافی انڈین دوستوں سے رابطے میں ہوں جو پاکستان سے بنے ہوئے ڈراموں کی سی ڈی اور وڈیو کی امید میں رہتے ہیں۔ پاکستانی لوگ انڈین ٹی وی پر جو چیز دیکھنا چاہتے ہیں وہ ہے کلچر جو انڈین اپنے فلموں اور ڈراموں میں دکھاتے ہیں، اور ڈانس، ڈرامہ اور موسیقی ان کی کلچر کا حصہ ہے۔پاکستانی ان پروگرواموں کو دیکھنا نہیں پسند کرتے جن پر حکومت کا کنٹرول ہے۔۔۔

عبدالرؤف راؤدیتھو، کینیڈا:
پاکستان میں کوئی ادارہ چیٹنگ ہے۔ کراچی سندھ کا کیپیٹل ہے لیکن پروگراموں میں پنجاب کی ثقافت ہوتی ہے۔ سندھیوں کی کوئی بات صحیح نہیں دکھائی جاتی۔ جہاں ڈاکو کا کردار ہوتا ہے اس کو۔۔۔۔

رمضان مہار، لاہور:
عریانیت، ٹیکنیکلی اچھے، لکھنے والے بھی بہتر۔۔۔۔۔

صلاح الدین لنگا، جرمنی:
پاکستانی سوسائیٹی میں سیکس ایک چھپی ہوئی چیز ہے۔ انڈین ڈرامے اکچوالی پاکستانیوں کی سیکس کی خواہشات کو پورا رکنے میں ایک کردار ادا کرتے ہیں۔ اور ویسے بھی کہتے ہیں نہ کہ ہر بری چیز میں کشش ہوتی ہے۔ ویسے مجھے بھی انڈین ڈرامے پسند ہیں۔

مغیث خواجہ، خان گڑھ:
انڈین ٹی وی سچ بولتے ہیں۔ سچ بولنا اسلام کا پہلا ستون ہے۔۔۔۔

فیاض سلیمی، کینیڈا:
انڈین میڈیا کا انقلاب صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہوا ہے۔ ایک پاکستانی کی حیثیت سے یہ میرے لئے ایک ٹریجڈی ہے کہ ہم انڈین ڈراموں کے منفی اثرات قبول کررہے ہیں۔۔۔۔

انور علی، مانٹریال:
میں سمجھتا ہوں کہ انڈین ٹی وی چینلز پاکستانی چینلوں کے مقابلے میں کافی اوپن اور لبرل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل انہیں پسند کرتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ کافی محنت کرتے ہیں اور پروگرام بنانے میں کافی پیسے صرف کرتے ہیں۔

عامر رفیق، لندن:
جس طرح پاکستان میں اچھی فلمیں نہیں بنتیں اسی طرح انڈیا میں اچھے ڈرامے نہیں بنتے۔ جتنی شرم ہمیں اپنی پاکستانی فلمیں دیکھ کر آتی تھی اس سے کہیں زیادہ اب یہ دیکھ کر آتی ہے کہ کس طرح ہمارے ملک کی کچھ انپڑھ ایکٹر انڈیا جاکر خود بھی ذلیل ہورے ہیں اور پاکستانی عوام کو بھی کروارہے ہیں۔۔۔۔

طارق محمود، ویمبلی، یو کے:
بڑا مشکل سوال کردیا ہے اور ہمارے حکمران کے لئے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ بھارت شروع سے ہی مکاری دکھا رہا ہے اور پاکستانی عوام بیوقوف بن رہے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے حال پر رحم کرے۔۔۔۔

علی حیدری، ٹورانٹو:
کیوں کہ عوام جمہوریت کی چھتری تلے بنے ہوئے پروگرام پسند کرتے ہیں نہ کہ فوج کی ڈِکٹیٹرشِپ کی بندوق تلے۔

زیاد احمد، کراچی:
مجھے تو حیرت اس بات کی ہے کہ انڈیا جیسے ملک میں جہاں اتنی غربت ہے کسی ایک ڈرامے میں بھی اس کی جھلک نظر نہیں آتی۔ رہا سوال ان ڈراموں کی مقبولیت کا اگر ہفتے میں۔۔۔۔(واضح نہیں)

صرف ٹی وی چینلز میں ہی مقابلہ کیوں؟
 قوم میں جدت پیدا کرنا بہت ضروری ہے، اس سے زیادہ ضروری ہے یہ جاننا کہ قوم جدت کے کیا معنی اخذ کرتی ہے۔ انڈیا بےشک پاکستان سے نہ صرف ٹی وی چینلز میں بلکہ ٹیکنالوجی میں بھی آگے ہے تو صرف ٹی وی چینلز میں ان کا مقابلہ کہاں کی عقل مندی ہے۔
شگفتہ عباد، کراچی

شگفتہ عباد، کراچی:
قوم میں جدت پیدا کرنا بہت ضروری ہے، اس سے زیادہ ضروری ہے یہ جاننا کہ قوم جدت کے کیا معنی اخذ کرتی ہے۔ انڈیا بےشک پاکستان سے نہ صرف ٹی وی چینلز میں بلکہ ٹیکنالوجی میں بھی آگے ہے تو صرف ٹی وی چینلز میں ان کا مقابلہ کہاں کی عقل مندی ہے۔ ٹیکنالوجی میں بھی اپنے آپ کو اہل ثابت کریں، تو قصہ یہ ہے کہ دوستوں کے ہنس کی چال چلنے کی بجائے اپنی چال درست کرلیں۔۔۔۔

جانو بابر، کاچو، سندھ:
دنیا میں ہر قوم کے پیچھے اس کی ثقافت ہوتی ہے۔ اگر کوئی قوم دوسرے کی ثقافت کو اپناتی ہے تو پھر اس کا ذکر صرف کتابوں میں ہی ہوتا ہے۔ پچھلے چار پانچ سالوں سے جس طرح سے انڈین ڈرامے پاکستان میں مقبول ہوئے ہیں اس سے ماحول پر کچھ برا اثر پڑا ہے کیوں کہ میڈیا کا ہر آدمی پر نیگیٹیو یا پازیٹیو اثر ہوتا ہے۔۔۔۔

عمران جلالی، ریاض:
زی ٹی وی کو عوام کو تفریح دینے کے نئے طریقے آتے ہیں جب کہ پاکستانی ٹی وی انڈائریکٹلی انڈین ٹی وی چینلز کی ہی نقل کرنے لگے ہیں۔

اظہار زیدی، ٹورانٹو:
انڈین ٹی وی چینل کوشش کررہے ہیں کہ ہماری نئی نسل کو برباد کردیں۔ ہر اداکار اور اداکارہ بغیر شادی کے ماں باپ بن جاتے ہیں اور والدین برا نہیں مانتے۔۔۔۔

گل انقلابی، دادو:
پاکستان ایک آرٹیفیشیل کنٹری ہے، کوئی معاشرہ نہیں۔ سندھیوں، بلوچوں، پشتونوں اور پنجابیوں کے اوریجنل کلچر کو سپریس کیا ہے انڈین مہاجرین نے۔ مہاجر جن کی زبان اردو ہے، اردو پاکستان کی نام نہاد قومی زبان ہے، جس نے مقامی زبانوں کو بھی دباکررکھا ہے۔ پاکستان اس وقت آزاد نہیں ہوسکتا ہے جب تک کہ اردو سے چھٹکارا نہ ملے کیوں کہ اردو انڈین زبان ہے۔۔۔۔

اوللہ، ٹورانٹو:
عریانیت کی وجہ سے نئی نسل انڈین ٹی وی کو پسند کرتی ہے۔ اس سے پاکستانی معاشرہ اور زبان متاثر ہورہی ہے۔ اب پاکستان میں بھی طالب علم ہولی اور دیوالی منانے لگے ہیں، یہ پاکستانی سوسائٹی کے لئے خطرناک ہے۔۔۔۔

راشد راؤ، کوٹ سامبا:
انڈین پروگرام میں کہانی زیادہ تر وومین کے گرد گھومتی ہے اور ہر چیز کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ہم لوگ یعنی سب کنٹینیٹ کے لوگ زیادہ تر گھریلو سیاست میں مصروف ہوتے ہیں جوکہ زیاد خواتین کے ہاتھ میں ہوتی ہے، جو کہ انڈین پروگرام میں ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہی وجہ ہے کہ ڈرامے زیادہ مقبول ہیں۔

ایم اے چودھری، ٹمبرکوٹ:
انڈین ٹی وی چینلز پاکستانی کلچر کے لئے ایک زہر ہیں۔ میرے خیال سے پاکستان کی حکومت اس کے خلاف کارروائی کرے۔۔۔

خان ابراہیم، پشاور:
یہ اسلامی ثقافت پر انڈیا کا انتہائی مؤثر حملہ ہے جس کو پاکستانی حکومت کبھی نہیں روک سکتی کیوں کہ ہماری گورنمنٹ کو صرف پیسوں سے مطلب ہے۔ انڈین ثقافت سے ہماری نئی نسل کا کیا حال ہورہا ہے ان کو اس کی پرواہ نہیں ہے۔۔۔۔۔

محمد ندیم، راولپنڈی:
انڈین چینلز سے ہمارے گھروں میں انڈین کلچر آتا جارہا ہے اور اس کا سب سے برا اثر چھوٹے بچوں پر ہوتا ہے۔ حکومت کو انڈین چینلز پر پابندی سختی سے کرنی چاہئے۔

خود انڈیا کی ثقافت کو خطرہ
 جناب لگتا ہے کہ جذباتی رہنا ہمارا مقدر بن چکا ہے۔ اجی ہماری ثقافت کو خطرہ امریکی طرز زندگی سے ہے اور یہ خطرہ ہر ثقافت کو ہے۔ امریکی انداز فکر سے خود انڈیا کی ثقافت کو بھی خطرہ ہے۔
حسیب خان، کراچی

حسیب خان، کراچی:
جناب لگتا ہے کہ جذباتی رہنا ہمارا مقدر بن چکا ہے۔ اجی ہماری ثقافت کو خطرہ امریکی طرز زندگی سے ہے اور یہ خطرہ ہر ثقافت کو ہے۔ امریکی انداز فکر سے خود انڈیا کی ثقافت کو بھی خطرہ ہے۔ جہاں تک انڈین چینلز کی بات ہے تو وہ اسی ثقافت کی نمائندگی کررہے ہیں جو دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لےچکی۔۔۔۔

محمد بخش بابر، جوہی:
انڈیا کا میڈیا پاکستان کے میڈیا سے بہت طاقتور ہے اور رہی بات انڈین ڈراموں کی تو اسٹار پلس کے ڈراموں میں تو عورتوں کو فوکس کیا گیا ہے اور ان میں مکار بھی ہیں تو سچائی بھی۔ اب تو پاکستان کے گاؤں گاؤں میں۔۔۔۔۔

اومیش ملانی، تھرپارکر:
پاکستان میں انڈین پروگراموں کی ڈیمانڈ روز بہ روز بڑھ رہی ہے کیوں کہ انڈین پروگرام اچھی پرفورمانس کے ساتھ ساتھ حقیقی زندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستانی پروگرام بھی بہت اچھے ہیں لیکن اتنے نہیں۔۔۔۔

وسیم محمود قریشی، بلوچستان:
پاکستان بھی اپنے چینلز کو اچھا بنائے اور انٹرٹینمینٹ پہنچائے۔

ثاقب حسین، اٹک:
اس نئے دور میں ہر شخص کو بہت سی پریشانیوں نے گھیرا ہوا ہے اور پاکستانی فلم اور ڈرامے اس قابل نہیں کہ وہ لوگوں کو انٹرٹین کرسکیں۔ اس لئے لوگوں کا رجحان انڈین اور انگلش چینلز کی طرف زیادہ ہے۔

نسیم بھٹی، دوبئی:
پاکستان میں انڈین ڈرامے گلیمر کپڑوں اور عورتوں کی لگائی بجھائی کی وجہ سے مقبول ہیں۔ اس کے پاکستان میں کافی برے اثرات رہے ہیں۔ نہ جانے گورنمنٹ اس کی جانب توجہ کیوں نہیں دے رہی ہے، انڈین چینلز پر پابندی تو لگا رکھی ہے لیکن عمل نہیں۔

محمد شریف جنجوعہ، اسلام آباد:
میرے خیال میں پاکستان میں اس کی اجازت نہیں ہونی چاہئے کیوں کہ پاکستان اسلامی ریاست ہے، یہاں گلیمر میں اضافہ ہورہا ہے اور پاکستان کے لوگ قرآن کی تعلیمات سے دور جارہے ہیں۔

نجیب کوثر، کینیڈا:
میں سمجھتا ہوں کہ یہ میڈیا کی جنگ ہے اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے ہے۔ لیکن یہ حقیقت نہیں کہ لوگ پروپیگینڈہ پسند کرتے ہیں اور اسے تسلیم کرتے ہیں۔۔۔۔۔

سعید بنیان، مظفرآباد:
یہ سب کچھ پیسے اور وقت کا نقصان ہے، مسلمان کی حیثیت سے۔ کیبل آپریٹروں کو یہ چینل دکھانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

انڈین چینلز کافی مقبول
 انڈین چینلز کافی مقبول ہیں۔ انڈیا میڈیا کی جنگ جیت رہا ہے۔ وہ کامیابی سے ہماری قوم کو تباہ کررہے ہیں۔ ایک طرف ہمارے ملا چاہتے ہیں کہ ہم پابند رہیں، اور دوسری طرف لوگ آزادی چاہتے ہیں۔
عطاء الرحمان، کینیڈا

عطاء الرحمان، کینیڈا:
انڈین چینلز کافی مقبول ہیں۔ انڈیا میڈیا کی جنگ جیت رہا ہے۔ وہ کامیابی سے ہماری قوم کو تباہ کررہے ہیں۔ ایک طرف ہمارے ملا چاہتے ہیں کہ ہم پابند رہیں، اور دوسری طرف لوگ آزادی چاہتے ہیں۔ دونوں کے درمیان وہ دب گئے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ جانا کدھر ہے۔ اللہ ہماری مدد کرے گا۔

حسن اختر، ناروے:
اصل میں لادین طبقے کی تعداد اس وقت ہمارے معاشرے میں اتنی ہوچکی ہے کہ اپنے مشرقی اقدار کی جگہ سکڑتی نظر آرہی ہے۔ لادین اور سیکولر قوتیں اتنی طاقتور ہوچکی ہیں کہ دیندار لوگ ان کے نیچے دب کر رہ گئے ہیں۔۔۔۔

منظور احمد بنیان، اسلام آباد:
میرے خیال سے پاکستان کے بیشتر عوام گلیمر اور ڈانس دیکھنا چاہتے ہیں، گانے اور موسیقی کے وڈیو ابھی بھی پاکستان میں نہیں ملتے، اس لئے انڈین ٹی وی کیبل نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان میں مقبول ہے۔

فرحان عظیم، ڈنمارک:
اس کی وجہ یہ ہے کہ اب پاکستانی ڈراموں اور پروگرامز کا معیار گر چکا ہے۔

مسعود احمد اعوان، اسلام:
اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انڈین چینلز پر کافی عرصے سے پابندی تھی اور ۔۔۔ شروع شروع کا شوق ہے۔ رہی بات ڈراموں کی، بلاوجہ کہ نہ ختم ہونے والے ڈرامے آہستہ آہستہ خود ہی اپنی موت مر جائیں گے۔۔۔۔

میں نے’سنگدل‘ دیکھنے کے لیے بھوک ہڑتال کییادوں کی سکرین سے
میں نے’سنگدل‘ دیکھنے کے لیے بھوک ہڑتال کی
’معیاری‘ اور ’غیرمعیاری‘ تھئیٹر: آپ کی رائےفحاشی آخر ہے کیا؟
معیاری اور غیرمعیاری تھئیٹر: آپ کی رائے
اشوریہ اور وویک کی جوڑی’کیوں ہو گیا ناں پیار‘
اشوریہ اور وویک، عنوان تجویز کریں
ارملا نے بارڈر پار کرلیاارملا: عنوان دیں
ارملا نے بارڈر پار کرلیا ہے، آپ بھی عنوان دیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد