BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرکٹ ڈِپلومیسی اورجنرل مشرف کادورہ بھارت
نئی دہلی میں پاکستانی کرکٹ شائقین
نئی دہلی میں پاکستانی کرکٹ شائقین
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف ہندوستان کے دورے پر ہیں جہاں بظاہر وہ سترہ اپریل کو دہلی میں منعقد ہونے والا ایک روزہ کرکٹ میچ دیکھنے کے لئے گئے ہیں۔ لیکن حالیہ برسوں میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں۔ مثال کے طور پر عشروں کے بعد سرینگر اور مظفرآباد کے درمیان بس سروس شروع ہوئی ہے۔

صدر مشرف نے ہندوستان کا دورہ شروع کرنے سے قبل کشمیر میں ’سافٹ‘ بارڈر کی بات کی۔ صدر مشرف نے اجمیر شریف کا دورہ کیا اور ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ماحول کو ’سازگار‘ بتایا ہے۔

صدر مشرف سے قبل جنرل ضیاء الحق نے بھی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کے لئے کرکٹ ڈِپلومیسی کا سہارا لیا تھا۔ لیکن ماضی کے مقابلے اب حالات کافی پرامید نظر آتے ہیں۔ وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے دہلی میں ایک بیان کے دوران کہا کہ ماضی کے مقابلے میں اب حالات کافی بہتر ہوئے ہیں۔

آپ کے خیال میں کرکٹ ڈِپلومیسی کتنی کامیاب رہے گی؟ صدر مشرف کے دورے سے آپ کی کیا امیدیں ہیں؟ کیا آپ کے خیال میں دونوں ملکوں کے درمیان زمینی حقائق بدل رہے ہیں؟ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سترہ اپریل کے کرکٹ میچ کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء سے ایک انتخاب یہاں دیا جا رہا ہے۔


فریدا للہ، سوات، پاکستان:
یہ ایک بے کار کی کوشش ہے۔ مسئلہ کشمیر جو کہ ایک عرصہ سے ہے اس کا حل صرف سنجیدہ مذاکرات سے ہی نکل سکتا ہے۔

مسرور جلالی، ٹورانٹو:
دونوں ملکوں کے درمیان ’صرف‘ کشمیر کا جھگڑا ہے۔اکیسویں صدی میں ہمیں دوسرے پندرہ کروڑ پاکستانیوں اور ایک ارب بیچارے ہندوستانیوں کی صحت، غربت، ملازمتوں اور تعلیم کی بہتری کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ ماضی میں مسئلہ کشمیر کی وجہ سے یہ دونوں ممالک کھربوں ڈالر دفاع پر خرچ کر چکے ہیں لیکن اب یہ پیسے لوگوں کی بہتری کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔

عارف جبار قریشی، ڈھورو نارو، پاکستان:
صدر مشرف نے پاکستان کو امن و استحکام کی جانب گامزن کر دیا ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے عوام امن چاہتے ہیں چاہے وہ کرکٹ کے ذریعے ہو یا ڈپلومیسی کے۔ دوستی بڑھانے کے نعرے کو مشرف صاحب نے عملی شکل دے دی ہے

الطاف چوہدری، سٹاک ہوم، سویڈن:
پاکستان میں انڈیا کی طرح کا سیاسی نظام نہیں ہے۔ مشرف صاحب محض ایک ڈکٹیٹر ہیں کوئی سمارٹ سیاستدان نہیں۔ وہ پاکستان کے لیے کچھ اچھا نہیں کر سکتے اور نہ ہی مسئلہ کشمیر حل کر سکتے ہیں۔انڈیا کے سیاسی لیڈر بہت تیز ہیں اور ان کی بڑی عزت ہے اور وہ ہمارے کرکٹرز کی طرح کھیلنا جانتے ہیں۔

شک کی فضا
 دونوں حکومتوں نے عوام کو ایک دوسرے کے اتنا خلاف کر رکھا ہے کہ اب قریب آتے ہوئے ایک دوسرے پر شک کرتے ہیں۔
سید طارق مسعود کاظمی، میانوالی

سیدطارق مسعود کاظمی، میانوالی:
جب تک نیت ٹھیک نہیں ہوگی یہ کرکٹ ورکٹ ایسے ہی چلے گا۔ دونوں حکومتوں نے عوام کو ایک دوسرے کے اتنا خلاف کر رکھا ہے کہ اب قریب آتے ہوئے ایک دوسرے پر شک کرتے ہیں۔ جب یہ شک کی فضا ختم ہوگی تو دوستی شروع ہوگی ورنہ سب فضول ہے۔

ریحان عاقب، ملتان:
مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ اگر سب کچھ امریکہ کر رہا ہے تو ہم کیا کر رہے ہیں۔ مجھے توخطرہ ہے کہ کل کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو تو وہ یہ نہ کہہ دے یہ بھی امریکہ ہی کروا رہا ہے۔

مظہر احسان چودھری، لیہ، پاکستان:
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پرانی دشمنیاں بھلا کر صرف انسان اور انسانیت کی فلاح کی فکر کریں لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کشمیر کے لاکھوں مسلمان پاکستان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔

شاہدہ، اسلام آباد:
انڈیا بگلہار ڈیم اور کشمیر جیسے اہم مسئلوں کو حل نہیں کرنا چاہتا، وہ صرف ٹریڈ چاہتا ہے۔انڈیا سے کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ مسائل حل کرنا چاہتے ہیں جبکہ دوسرے کشمیریوں کو مارنے پر لگے ہوئے ہیں۔ مجھے تو انڈیا مخلص نہیں لگتا۔

حمیرہ پراچہ، ونی پگ، کینیڈا:
امریکہ نے انڈیا میں آؤٹ سورسنگ کرنی ہے جس کی وجہ سے وہ چاہتا ہے کہ دونوں ملکوں میں امن قائم رہے۔ اس سے پاکستان کو تو کچھ خاص فائدہ نہیں ہوگا لیکن انڈیا میں ملازمتوں میں اضافہ ہو جائے گا۔

طلحہ ضمیر منہاس، چکوال:
میرا خیال نہیں یہ کرکٹ سیریز دونوں ملکوں کو دوستی کے راستے پر لا سکتی ہے کیونکہ دونوں ملک اس راستے سے بہت دور ہیں۔ اس میں بہت وقت لگے گا۔

فاتح عالم، فرانس:
بی بی سی نے میچ میں لڑکیوں کی جو تصویریں شائع کی ہیں اس سے تو لگتا ہے کہ کرکٹ ایک بہانہ ہے، دلوں کو۔۔۔

سرٹیفیکیٹ
 میرا خیال ہے مشرف صاحب کواپناپیدائش کا سرٹیفیکیٹ لینا تھا اس لیے وہ انڈیا گئے تھے۔
ہادیہ ماریہ، لاہور
ہادیہ ماریہ، لاہور:
قائد کا ایک قول: ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں۔ ایک قوم کے ہیرو دوسری قوم کےدشمن ہیں، پھر یہ کیسے ممکن ہے۔ جو قوم کرکٹ میں اپنی ہار برداشت نہیں کر سکتی وہ کیسی کسی اور بات میں ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں۔میرا خیال ہے مشرف صاحب کو اپنا پیدائش کا سرٹیفیکیٹ لینا تھا اس لیے وہ انڈیا گئے تھے۔

یاسر جدون، ڈنمارک:
چلو کچھ نہ ہونے سے تو کرکٹ ڈپلومیسی ہی بھلی، ورنہ دُور رہ کر تو بدگمانیاں ہی جنم لیتی ہیں۔

نوید نقوی، کراچی:
صدر صاحب اس وقت بھینس کے آگے بین بجا رہے ہیں۔ شاید ہمارے وزیر خارجہ نے بھارت کے وزیر خارجہ کے اس بیان پر توجہ نہیں دی کہ ’سرحدوں میں رد و بدل کبھی نہیں ہوگا‘۔دنیا جانتی ہے کہ انڈیا سن سینتالیس سے کشمیر کو اپنا حصہ بتا رہا ہے۔ وہ آزاد کشمیر پر تو بات کر سکتے ہیں مقبوضہ پر نہیں۔

شہلا،امریکہ:
دونوں ملکوں کا مشترکہ بیان کہ ’امن کی راہ سے اب واپسی ممکن نہیں‘ پڑھ کر تو لگتا ہے کہ کرکٹ ڈپلومیسی کامیاب ہو گئی ہے۔ جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ جو پیسہ دونوں ملک جنگ پر خرچ کرتے تھے اب عوام پر خرچ ہو گا۔

محمد نشاط کھوسو، منیلا، فلپائن:
میں اشفاق نذیر بھائی کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ یہ سب آقاؤں کے کہنے پر ہو رہا ہے۔ جو ہوتا رہا ہے وہی ہوتا رہے گا۔ جو پچپن سال میں نہیں بدلا اب کیا بدلے گا۔

قیصر، گڑھی دوپٹہ، کشمیر:
ہمیں امید ہے اب کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور ہماری دعا ہے ایسا ہی ہو۔

محمد طارق، ٹورانٹو:
بظاہر تو ایسا لگ رہا ہے سب کچھ ٹھیک جا رہا ہے لیکن یہ صرف سطحی ہے۔

جہانگیرخان، منامہ، بحرین:
اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرف ایک بڑے سیاستدان ہیں اور پھر ہمیں آم کھانے سے غرض ہونی چاہیے نہ کہ پیڑ گننے سے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دونوں ملکوں کو اچھی طرح یہ احساس ہو چکا ہے کہ اگر ترقی کرنا ہے تو مسئلوں کو حل کرنا پڑے گا۔

محمد ابراھیم، بھکر، پاکستان:
میراخیال ہے دونوں ملکوں کو اصل مسئلے یعنی کشمیر پر بات کرنا چاہیے کیونکہ ماضی میں کئی دفعہ کوششیں ہو چکی ہیں اور جب بھی حکومتیں بدلتی ہیں ہم دوبارہ سن سینتالیس کی سٹیج پر پہنچ جاتے ہیں۔

قیصر فاروق، گجرات، پاکستان:
بہت فائدہ ہوگا اس سے۔ جب دونوں ملکوں کے عوام اپنے بڑوں کو اکٹھا بیٹھا دیکھیں گے یقیناً عوام کے دل میں بھی پیار کا عنصر پیدا ہوگا۔مشرف صاحب ایک نہایت دانشمند آدمی ہیں، وہ پیش رفت کریں گے اور مسائل کا حل نکل آئے گا۔

رضوان صدیقی، آکلینڈ، آسٹریلیا:
پاکستان نے سب مسلمان ملکوں کا ٹھیکہ نہیں اٹھایا ہوا۔ کشمیر میں جانے سے پہلے پاکستانیوں کو اپنے ملک کی دیکھ بھال کرنا چاہیے۔مشرف صاحب ایک اچھا کام کر رہے ہیں تو سب ان کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔آحر پہلی حکومتوں نے کرکٹ کیوں نہیں کروا لی۔

تنویراحمد، پاکستان:
وہ دور ختم ہورہا ہےجب لوگ انڈیا اور پاکستان کو ایک دوسرے کا پکا دشمن سمجھتے تھے۔دو قومی نظریے کے ذریعے لوگوں کو جتنا پاگل بنایا گیا تھا، اب وہ سب لوگوں کو سمجھ آنا شروع ہو گیا ہے۔اب وہ دن دور نہیں جب پاکستان اور انڈیا سمیت سارا علاقہ ایک متحدہ طاقت کے طور پر ابھرے گا اور امریکہ کی ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کی پالیسی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔

ڈپلومیسی کے چیمپین
 صرف سیاحت کو فروغ ملےگا۔ کرکٹ ڈپلومیسی کے چیمپین جنرل ضیاء تھے اور وہ ایک بھرپور سیاستدان بھی تھے۔
جاوید اقبال ملک، چکوال

فیصل بھگت، سرگودھا، پاکستان:
کرکٹ تو صرف ’تقریب بہر ملاقات‘ ہے اور مشرف اسے اہم معاملات پر بات چیت کے لیے بہت اچھی طرح استعمال کر رہے ہیں۔

بدر زیدی، لاہور:
مجھے یقین ہے کہ کارگل کا ہیرو کشمیر کا مسئلہ حل کر کے ملک کا ہیرو بنے گا اور یہ وہ شخص ہے جس نے ملک سے گندگی کو صاف کیا۔اب کشمیر کی آگ پر اپنی سیاست گرم کرنے والوں کی چھٹی ہو گی۔

محمد سعیدشیخ،بحرین:
جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوجاتا انڈین کبھی بھی اسلام یا پاکستان دوستی کو پنپنے نہیں دے گا۔انڈیاصرف یہ چاہتا ہے کہ پاکستان اور دنیا کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹادے۔

عبدالرؤف ڈتھو، ٹورانٹو:
عوام کو ایک مرتبہ پھر بے وقوف بنایا جارہا ہے۔ پاکستانی اور انڈین افواج کے مفادات نے کشمیر کو برباد کیا ہے اور کشمیر کے مسئلے کو لےکر دونوں افواج ملکوں کا بجٹ اڑا رہے ہیں۔دونوں ملکوں کی دیہی آبادی کو دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ہوتی جبکہ افواج کبھی نہیں چاہیں گی کہ ان کا کھانا پینا بند ہو۔

علی چشتی، کراچی:
کرکٹ ڈپلومیسی ہو یا کشتی ڈپلومیسی، دونوں ملکوں کے لوگ امن چاہتے ہیں۔مشرف ایک باہمت لیڈر ہیں جن کو مزاکرات کی اہمیت کا پورا احساس ہے لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بھارت کو سرحدوں کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کے لیے اپنے آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی۔ کانگریس کی حکومت کے دوران ایسا ممکن نہیں لگتا کیونکہ اسے دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہے۔

امین اشرف، ٹورانٹو، کینیڈا:
پاکستان کے جرنیلوں اور بد عنوان سیاستدانوں نے کشمیر کے ایشو کو اس طرح مسخ کردیا ہے کہ۔۔ اور اس پر بھی لوگ امید رکھتے ہیں کہ یہ مسئلہ کرکٹ میچ کھیل کر حل ہو جائےگا۔ مشرف صرف کشمیر کو نہیں دیکھ رہے بلکہ وہ کل کے پاکستان کوبھی دیکھ رہے ہیں۔ کشمیر کو تو لٹیرے پہلے ہی لوٹ چکے ہیں۔ مختصر یہ کہ مشرف صاحب نے انڈین رہنماؤں کو مزاکرات کی میز پر لانے کا بہت عقلمندانہ قدم اٹھایا ہے۔ شاباش مشرف، شاباش پاکستانی ٹیم!

محمد طارق، لاہور:
صدر مشرف رانی مکھر جی سے بھی مل لیے اور اپنی کرکٹ ڈپلومیسی بھی کامیابی سے چلا لی۔

عبدالرحیم خیرانی، یولیس، امریکہ:
میں صرف ہمارے محبوب شاعر اقبال کے الفاظ دُھراؤں گا جن کے مطابق دنیا میں ’ابدیت‘ صرف ’تبدیلی‘ کو حاصل ہے اور یہی چیز ہم آج دیکھ رہے ہیں۔ اگر دونوں قومیں مسئلوں کے حل کے لیے اخلاص کا مظاہرہ کرتی ہیں تو کوئی حیرت نہیں ہم بہت بڑی تبدیلی دیکھ سکیں۔

جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان:
جنرل مشرف اس سے قبل آگرہ مزاکرات کا ناکام دور کر چکے ہیں اور اب بھی انہیں کوئی کامیابی نہیں ہوگی، صرف سیاحت کو فروغ ملے گا۔ کرکٹ ڈپلومیسی کے چیمپین جنرل ضیاء تھے اور وہ ایک بھرپور سیاستدان بھی تھے۔

فیصل حسین، سڈنی، آسٹریلیا:
میرے خیال میں یہ دونوں ملکوں کے لیے بہت اچھا ہے۔

جبران حسنین، کراچی:
مجھے توسمجھ نہیں آتا کہ اب انڈیا پاکستان کا مسئلہ کیا ہے۔ کشمیر پر کوئی بات نہیں ہوتی، کیمپ سارے بند ہو چکے ہیں، اب کیا مسئلہ رہ گیا ہے؟

آگ پر سیاست
 مجھے یقین ہے کہ کارگل کا ہیرو کشمیر کا مسئلہ حل کر کےملک کاہیرو بنےگااور یہ وہ شخص ہے جس نے ملک سے گندگی کو صاف کیا۔اب کشمیر کی آگ پر اپنی سیاست گرم کرنے والوں کی چھٹی ہوگی۔
بدر زیدی، لاہور

عبدالسلام، تیمارگرہ، پاکستان:
پرویز مشرف ایک مرتبہ پھرخود کو روشن خیال (یعنی خلاف اسلام نظریات کا حامل) ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ بڑی بے شرمی کی بات ہے۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد، پاکستان:
لوگوں سے بات کر کے میں یہی اندازہ کر پایا ہوں کہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو اپنے تحفظات ہر کسی کو بتاتا ہے اور بیچتا ہے، چاہے وہ افغانستان ہو یا کشمیر۔ ہم کسی کی ذرا سی خوشی کے لیے اپنی اور اپنے لوگوں کی ہر بات قربان کر دیتے ہیں۔ پتا نہیں ہم اور انڈیا ایک ساتھ رہیں گے یا انڈیا اور امریکہ؟

فاروق خان، کویت:
انڈیا کے لوگوں نے کانپور اور دہلی میں دکھادیا ہے کہ وہ کیا سوچتے ہیں۔ وہ کرائے کے صحافی اب منہ چھپاتے پھر رہے ہیں جن کا خیال ہے کہ جناح کی سوچ غلط تھی اور انہوں نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے کام کیا اور یہ کہ برصغیر میں رہنے والے لوگ اصل میں ایک ہیں۔ یہ نظارہ امریکن نما پاکستانی جرنیلوں کے لیے کافی ہے۔

فراز ارشد، ٹیکسلا، پاکستان:
کرکٹ ڈپلومیسی سے سیاسی حالات تبدیل نہیں ہوتے بھئی۔کرکٹ ڈپلومیسی کوئی آج سے نہیں شروع ہوئی، یہ ضیاء دور سے ہے۔ پر کیا کشمیر کا مسئلہ حل ہوگیا؟ اس کے لیے صرف انڈیا کے مخلص ہونے کی ضرورت ہے۔

عامر مستوئی، ڈی جی خان، پاکستان:
اس موقعہ پر بھارتی خارجہ پالیسی کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی لیکن ہمیں اس دوستی سے کیا ملا۔ ارے صاحب آپ کو اندازہ نہیں اس دوستی سے بہت فائدہ ہوا ہے، دونوں ملکوں کے سربراہوں کی پکنک پارٹیوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ لڑنے مرنے کے لیے ہم غریب عوام ہیں ناں۔

عطاءالرحمٰن، راولپنڈی، پاکستان:
اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہم کو مل بیٹھنا چاہیے۔ کرکٹ ہمیں بہت قریب لا سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ہراس چیز پر زور دینا چاہیے جو ہمیں ایک دوسرے کے قریب لا سکتی ہے۔

نہیں سدھریں گے
 انڈین اور پاکستانی جذباتی لوگ ہیں کبھی نہیں سدھریں گے۔ جو سرحد اب بن چکی ہے مٹ نہیں سکتی۔ کرکٹ ہو یاہاکی ہو یا بس سروس، حب الوطنی کے سامنےسب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔
ایاز مزاری، رحیم یارخان
ایاز مزاری، رحیم یار خان:
انڈین اور پاکستانی جذباتی لوگ ہیں کبھی نہیں سدھریں گے۔ جو سرحد اب بن چکی ہے مٹ نہیں سکتی۔ کرکٹ ہو یاہاکی ہو یا بس سروس، حب الوطنی کے سامنےسب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔

آصف رفیق، لائبیریا:
مجھے یقین ہے کہ اب دونوں ملک اپنے جھگڑے ختم کر سکتے ہیں۔ یہ صحیح ہے سن اٹھاسی کی کرکٹ ڈپلومیسی کا وقت آج سے مختلف تھا لیکن اس وقت بھی کرکٹ ڈپلومیسی کی وجہ سے جنگ رک گئی تھی۔ان دنوں کھلاڑی امن کے سفیر بن چکے ہیں۔ شاباش پاکستانی ٹیم۔ صدر پاکستان کا دورہ کامیاب ہوگا کیونکہ وہ ایک باہمت اور سیدھی بات کرنے والے انسان ہیں اور انہیں اپنی بات منوانا آتا ہے۔ دونوں ملکوں کے کی طرف سے لچک مسئلوں کے حل کے کی طرف پہلا قدم ہے، ہمیں دونوں ملکوں کی ہمت بڑھانا چاہیے۔

نجم الحسن کھوسہ، ڈیرہ غازی خان:
صدر پرویز مشرف صحییح معنوں میں پاکستان اور انڈیا کی دوستی چاہتے ہیں۔ کرکٹ ڈپلومیسی کو کامیاب کرنا دونوں ملکوں کے لیے بہتر ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ملکوں کو اکیسویں صدی کا مقابلہ کرنے کے لیے دشمنی کو چھوڑ کر آگے بڑھنا ہو گا۔

چودھری ایاز، بالٹیمور، امریکہ:
صدر مشرف سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں جبکہ شیطان لوگوں کی سوچ بھی شیطانی ہے، وہ کبھی بھی امن نہیں چاہتے۔ کوئی انڈیا کو بڑا کہے گا اور کوئی پاکستان کو کمزور۔ اگرمشرف کچھ کر رہے ہیں تو ان کو کرنے دیں خدارا۔

امجد، سرگودھا، پاکستان:
یہ سیریز امریکہ کے ایجنڈے کا ایک حصہ ہے۔ امریکہ اس کرکٹ سیریز کے پیچھے بہت سے مقاصد رکھتا ہے اور مشرف امریکہ کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔

آصف محمود، امریکہ:
یہ ایک اچھی بات ہے کہ پاکستان اور بھارت قریب آرہے ہیں لیکن دونوں ملکوں کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ کشمیر کا مسئلہ حل کریں ورنہ یہ امن زیادہ دیر قائم نہیں رہے گا۔ ایک کشمیری ہونے کے ناطے میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ تمام کشمیری رہنما ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور دھڑے بندی سے نکلیں۔

کرکٹ، سیاست ایک نہیں
 کرکٹ ڈپلومیسی سے سیاسی حالات تبدیل نہیں ہوتے بھئی۔کرکٹ ڈپلومیسی کوئی آج سے نہیں شروع ہوئی، یہ ضیاء دور سے ہے۔ پر کیا کشمیر کا مسئلہ حل ہوگیا؟
فراز ارشد، ٹیکسلا

احمد عمران، ابوظبی:
مشرف نہایت زیرک سیاستدان ہیں۔ حقیقت وہ نہیں جو نظر آتی ہے۔ اصل میں وہ گیس پائپ لائن بیچنے گئے ہیں۔امریکہ کو اس خطے سے پیسے کمانے ہیں اس لیے اس کے لیے ضروری ہے کہ یہاں امن ہو۔پہلے تو انڈین کوئی بات سننے کو ہی تیار نہیں تھے۔آخران کو کچھ تو دینا تھا، چلو کرکٹ ہی سہی۔

ساجل شاہ، نویڈا، امریکہ:
جب انڈین ٹیم پاکستان میں کھیل رہی تھی تو لوگوں نے بہت صبر سے ان کی جیت کو برداشت کیا اور جوش وخروش سے داد دی۔ اور جب انڈیا میں پاکستانی ٹیم جیت رہی تھی تو انڈین لوگوں سے صبر نہیں ہوا اور لڑائی شروع کر دی۔ یہی حال انڈیا اور پاکستان کی سیاست کا ہے۔ پاکستان ہر قدم صبر اور برداشت سے اٹھاتا ہے جب کہ انڈیا ذرا سی ہار پر پوری دنیا میں شور مچاتا پھرتا ہے۔ کتنی ہی کرکٹ کروا لیں یہ بیل منڈھے نہیں چڑھنے والی۔

فراز قریشی، کراچی:
آپ کے خیال میں انڈیا جیسی بڑی طاقت صرف کرکٹ میچوں پر ہی سارے ایشوز قربان کردےگی؟ کرکٹ ڈِپلومیسی صرف ہم جیسی کمزور قوم استعمال کرتی ہیں۔ یہ ایک بہانہ ہے کمزوری چھپانے کا۔ انڈیا ہم سے جبھی اچھے ریلشن رکھے گا جب ہم اپنی مارکیٹ اس کے لئے کھول دیں گے اور کشمیر میں جہادی تنظیموں کو امداد دینا بند کردیں گے۔

عدنان علی، امریکہ:
میرے خیال میں مشرف وہاں امریکہ کا پیغام پہنچانے گئے ہیں انڈین گورنمنٹ کو۔ امریکہ کے پوسٹ مین ہیں۔۔۔

محمد فاروق مغل، دوحہ:
یہ سارا ڈھونگ ہے۔ مشرف صاحب نے حل نہیں کیا، حل ٹال دیا ہے۔ رہی کرکٹ کی بات تو تھوڑی اچھی تفریح مل گئی لوگوں کو۔ اجمیر کا دورہ کرکے ایک بات صاف ہوگئی کہ مشرف اور ان میں کوئی فرق نہیں۔ وہ ہندو ہیں اور یہ صاحب ڈیرہ اسلام سے باہر ہوں گے۔ اب رہی بات کشمیر کی تو وہ انگریزوں (برطانیہ اور امریکہ) کا ایک شوشہ ہے، وہ مسئلہ کبھی حل نہیں ہونے والا کیوں کہ پھر دونوں ملک کریں گے کیا؟

آفتاب کشخیلی، یونیورسٹی آف سندھ:
خدا کا شکر پاکستان سیریز جیت گیا۔ کرکٹ واحد ذریعہ ہے خطے میں پاکستان اور انڈیا کے لئے امن کو آگے بڑھانے کا۔

دعا ہے لیکن
 میری دعا ہے کہ یہ دورہ نیک نیتی پر مبنی ہو اور کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی خواہش کے مطابق حل ہو۔ کیونکہ اسی ایشو کے ساتھ ہماری بقا منسلک ہے لیکن لگتا ہے پرنالہ وہیں رگے گا۔
امین اللہ شاہ، میانوالی

گل انقلابی سندھی، دادو:
یہ نام نہاد کرکٹ ڈپلومیسی فراڈ اور ہیپوکریسی ہے۔ اگر دونوں ملک سنجیدہ ہیں کشیدگی کم کرنے میں، تو وہ کیوں ایف سولہ اور ایف اٹھارہ امریکہ سے خرید رہے ہیں؟ پاکستانی ڈکٹیٹر ضیاء کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔۔۔۔۔

خالد عباسی، کراچی:
امن کی جانب ہر قدم تاریخ کے سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔۔۔۔

اشفاق نظیر، یو کے:
صاحب یہ جنرل صاحب تھوڑے ہیں، یہ تو امریکہ کے سفیر ہیں۔ ان کا کوئی پیغام لے گئے ہوں گے۔ ہم پاکستانی سادہ لوگ بہت جلد ان کو بڑا لیڈر مان کر غلط امیدیں باندھ لیتے ہیں، ورنہ نواز شریف کا جانا مشرف صاحب کا آنا، گیارہ ستمبر کا واقعہ، افغانستان پر حملہ، یہ سب ایک ہی واقعے کی کڑیاں ہیں۔

حبیب نوید، کلِفٹن، پاکستان:
مسٹر پریسیڈینٹ بیوقوفوں کی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ انڈینس کے پاس ایک قائم شدہ سیاسی نظام ہے اور انڈین وزیراعظم پاکستانی صدر کی خواہش کے حساب سے حالات کو بدل نہیں سکتے۔ اگر وہ ایسا کرنا چاہیں تب بھی انہیں ایک سیاسی نظام کے عمل سے گزرنا پڑے گا اور اس کا مطلب ’نو پاکستان‘ ہے۔ انڈینس میں انتہاپسندی کافی واضح ہے، اور جو زبان ان کے سیاست دان استعمال کررہے ہیں آج کل اس سے ان کے مقاصد واضح ہوجاتے ہیں۔۔۔۔۔

امین اللہ شاہ، میانوالی سٹی:
میری دعا ہے کہ یہ دورہ نیک نیتی پر مبنی ہو اور کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی خواہش کے مطابق حل ہو۔ کیونکہ اسی ایشو کے ساتھ ہماری بقا منسلک ہے لیکن لگتا ہے پرنالہ وہیں رگے گا۔

شیریار خان، سنگاپور:
کرکٹ کھیل کر دونوں ممالک اپنے تعلقات کو وقتی طور پر تو بہتر بناسکتے ہیں مگر جب تک دونوں ملکوں کے کپتان یعنی سربراہان ایسا چاہیں گے۔ کسی بھی ملک کے کپتان کی تبدیلی سے یہ ماحول پھر سیاست کی نظر ہوجائے گا، جیسے کہ پچھلی کرکٹ ڈِپلومیسی سے ہوا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ کوئی کھیل نہیں ہے، اگر ایسا ہوتا تو پھر ایو این او بھی ون ڈے میچ کرواکر فلسطینیوں اور کشمیر کو حل کروا ہوچکے ہوتے۔۔۔۔

اختر زمان عباسی، دوبئی:
جنرل صاحب جو پیسہ خرچ کررہے ہیں۔ اگر یہ غریب عوام کو دیا جائے تو ان کا کچھ بن سکتا ہے۔۔۔۔۔

اظہر وحیدی، امریکہ:
میں نے صرف ایک پوائنٹ نوٹ کیا ہے: جب انڈیا کی کرکٹ ٹیم پاکستان انیس سو چورانوے (؟) میں آئی تھی تو ہمارے تماشائیوں نے بہت پروفیشنلزم کا ساتھ دیا اور انڈین کرکٹزر کے پرفارمنس کو بہت اپلاڈ کیا۔ مگر ہندوستانی تماشائی کا رویہ دہلی میچ میں بہت ہی غیرمہذب تھا۔

انس عزیز، کراچی:
یہ ایک اچھا اقدام ہے کہ بات چیت ہے۔۔۔

علی عمران شاہین، لاہور:
پاکستانی حکمران اگر یہ سمجھ رہے ہیں کہ انڈیا سے تعلقات بہتر ہورہے ہیں اور ان کے مسائل خصوصا کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے گا تو ایسی سوچ رکھنے والے، احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ کیا انڈیا نے بنیادی مسئلہ کی کوئی بات کی؟ کشمیر پر بات کے لئے وہ تیار ہی ہیں نہیں، جب کبھی نام لینا پڑجائے تو آزاد کشمیر پر قبضے کی بات کرتے ہیں۔۔۔۔۔

حسن طارق، کینیڈا:
ایک عظیم رہنما کی پہچان یہی ہے کہ وہ کسی موقع کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔ مشرف اس ٹیکٹک کا استعمال کررہے ہیں انڈیا کے ساتھ تعلقات اور معاملات پر پاکستانی نقطۂ نظر واضح کرنے کے لئے۔ ہمیں اس طرح کی مستقبل میں پیش رفت کے لئے دعا کرنے کی ضرورت ہے۔ سافٹ بارڈر اور جوائنٹ وینچر اسی طرح کی کچھ پیش رفت ہیں، اگر دونوں ممالک کچھ ٹھوس سمجھوتے پر اتفاق کرلیں۔

اشعر حسن، ملتان:
کرکٹ تو ایک بہانہ ہے۔ اگر ایسے ہی فاصلے کم ہوسکتے ہیں تو پھر کرکٹ ڈِپلومیسی بڑی اچھی چیز ہے۔

جاوید، یونیورسٹی آف پنجاب:
یہ صحیح ہے کہ مسٹر مشرف چالاک شخص ہیں لیکن اتنا بھی نہیں جتنا انڈین سیاست۔ اگر ہم لوگوں کے ساتھ ان کا رویہ آج کل ٹھیک ہے تو یہ ان کے فائدے کے لئے ہے۔ کرکٹ اور سیاست مختلف چیزیں ہیں۔ میرے خیال میں ہمارے تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے، اس وقت تک جب تک ہمارے سیاست دان اور انڈینس بھی سنجیدگی سے غور نہیں کرتے۔ ہماری تمام کوششیں بےکار ہوجائیں گی کیوں کہ ’بنیا کب بات سے پھر جائے کوئی بھروسہ نہیں‘۔

فیصل بھٹی، پاکستان:
وہ پاکستان کے عظیم رہنما ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ دونوں ملکوں کے لئے دوستی اچھی ہے۔

غلام مصطفیٰ آرائین، سندھ:
میرے خیال میں کرکٹ ڈپلومیسی سے پاک انڈیا تعلقات میں تھوڑی بہت بہتری آسکتی ہے، لیکن مکمل بہتری کے لئے کمشیر کے مسئلے کا حل ہونا لازمی ہے جو کہ اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک انڈیا ’کشمیر اٹوٹ رنگ‘ کا راگ الپنا بند نہیں کردیتا۔

راجہ یونس، سعودی عرب:
میرے خیال میں کشیدگی کم کرنے کی تمام کوششیں کی جارہی ہیں لیکن ایجنڈا کے ٹاپ پر تنازعۂ کشمیر ہونا چاہئے۔ اس کا حل کشمیریوں کی رائے سے نکلنا چاہئے، جو کہ اس کا اصلی پارٹی ہیں اور ان کو شامل کیے بغیر کوئی حل نہیں نکل سکتا جو دونوں ملکوں کے لئے بہتر ہو۔ کرکٹ ڈِپلومیسی دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کا حصہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس میں کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو صدر مشرف کی بین الاقوامی سطح پر تعریف کی جائے گی۔۔۔۔

شکیل الرحمان لیلی، پشاور:
ویل ڈن مشرف لیکن اس ڈپلومیسی کی کچھ سولوشن نظر آنی چاہئے، نہ کہ آگرہ جیسا حال ہو۔

سید حسین، سعودی عرب:
صرف پرویز مشرف ہی اس مسئلے کو حل کرسکتے ہیں۔ اب یہ بات الگ ہے کہ انڈیا ہمیشہ کی طرح ’میں نہ مانوں‘ کا طرح رویہ اختیار کرے۔ کشمیر صرف پاکستان کے ساتھ ہی شامل ہوسکتا ہے۔

علیم اختر، گجرات:
کرکٹ ڈِپلومیسی سے بھارت کی بغیر کچھ کھوئے سلامتی کونسل میں مستقل رکن بننے کی چال ہے۔ ایک دفعہ بھارت مستقل رکن بن گیا پھر آپ دیکھیں گے، میں آپ سے پوچھوں گا کہاں گئی وہ انڈیا پاک دوستی؟ پاکستان بہت اچھا کھیلا، لیکن انضمام کے صاف بالکل غلط آؤٹ ہونے پر امپائر کو جرمانہ ہونا چاہئے۔۔۔۔

وسیم صدیقی، ایبٹ آباد:
میرے خیال میں، کرکٹ کے میدان پر انڈین کراؤڈ کے رویے کو دیکھ کر تو نہیں لگتا کہ کچھ بہتر ہوگا۔۔۔۔

سہیل عرفان، ناروے:
میرے خیال میں یہ کرکٹ ڈِپلومیسی ہو یا کوئی اور چیز، بنیادی بات جو ہے وہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر ہونے چاہئیں۔ ہم دو ہزار پانچ میں رہ رہے ہیں اور یہ اقتصادی ترقی کا دور ہے۔ دونوں ممالک اچھے تعلقات جاری رکھیں کیوں کہ دونوں کے مفاد میں ہے۔ جنگ کے خلاف آواز اٹھائیں۔۔۔۔ ایک صاحب نے لکھا ہے کہ ’اوپر کی تصویر دیکھ کر دکھ ہوا کہ ہماری لڑکیاں ہمارے کلچر کو چھوٹے کپڑوں میں پیش کررہی ہیں‘، حقیقت یہی ہے جناب کہ ہمیشہ ایسے ہی رہا ہے، اگر آپ ساٹھ اور ستر کے عشروں پر نظر ڈالیں، چھوٹے کپڑوں کا تعلق کلچر سے نہیں ہے۔ہمارا کلچر یہ ہے کہ ایک دوسرے کی عزت کریں اور کسی کی ذاتی زندگی پر کیچڑ نہ اچھالیں۔

عثمان ملک، سرگودھا:
صدر پرویز مشرف نے جو انڈیا کا دورہ کیا ہے اس میں ان کو کشمیر کے مسئلے پر کوئی نتیجہ خیز بات چیت کرنی چاہئے، نہ کہ کرکٹ کے گراؤنڈ میں وقت ضائع کرنا چاہئے۔

آصف اعوان، جنوبی کوریا:
مشرف صاحب کا یہ اچھا قدم ہے۔ لوگ اپنے رشتہ داروں سے مل سکیں گے جو پچپن سالوں سے بچھڑے ہوئے ہیں۔ اوپر لڑکیوں کی تصویر پر شرم آنی چائے، اسلام اس طرح کے کلچر کی اجازت نہیں دیتا۔

توقیر چودھری، امریکہ:
میرا خیال ہے کہ مشرف بہت اسمارٹ ہیں۔ جتنا انڈیا کشمیر کی بات کرنے سے بھاگتا تھا اتنا ہی مشرف ہیلے بہانے سے ان کو بات کرنے کی طرف لے جاتے ہیں۔ پاکستان کے لوگوں کو اب تک یہ سمجھ جانا چاہئے کہ پاکستان کے لئے کون بیسٹ ہے؟ وہ لوگ جو ملک بدر ہوئے ہیں یا مشرف جو دنیا کی توجہ کشمیر پر لاچکے ہیں؟۔۔۔۔

ریاض فاروقی، کراچی:
ہاں لیڈرز ہیں جو جب چاہتے ہیں زمینی حقیقت چینج کردیتے ہیں۔ ابھی اصل مسئلہ بڑی طاقتوں کے مفاد کا ہے، دونوں ملکوں کو چاہئے کہ امریکہ کی ایف سولہ اور ایف اٹھارہ کی پیش کش کو منع کردیں۔ کیوں کہ دونوں ملکوں کے دو مسئلے بہت کامن ہیں اور وہ ہیں غریبی اور تعلیم جو کہ دور کرنا بہت ضروری ہے اور وہ ہتھیاروں سے دور نہیں ہوگی۔

ایس رسول گونڈال، ٹورانٹو:
کوشش ہورہی ہے اور یہ ایک اچھی بات ہے مگر ساتھ ہی منموہن سنگھ جی کا کہنا ہے کہ سرحد میں کوئی چینج نہیں ہوسکتی ہے، ہمیں اس بات کو ذہن میں رکھنا ہوگا کہ یہ پرابلم کشمیری قوم کا ہے، نہ کہ صرف انڈیا، پاکستان کا اور اس کو ٹھنڈے ذہن سے سوچ کر حل کرلینا ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے مفاد میں ہے اس میں چاہے سرحدوں میں تبدیلی ہو یا نہ اس فیصلے کا حق صرف کشمیری قوم کو کرنے دینا ہوگا۔

حاجی محمد اچک زئی، ناگویا، جاپان:
مشرف زندہ باد۔۔۔۔

فانی، سرگودھا:
پاکستان اور انڈین پیپلز تو امن چاہتے ہیں لیکن انتہا پسند لوگ اپنی سیاست کے لئے امن نہیں ہونے دے رہے، اس کا ایسا ہی مظاہرہ کرکٹ میچ کے آخری لمحات میں انڈین انتہا پسندوں کی طرف سے دیکھنے میں آیا اور جہاں تک پرویز مشرف اور مسٹر سنگھ کی بات ہے تو پہلے بھی پاسٹ میں ایسی میٹنگ ہوئی مگر فائدہ کچھ نہیں ہوا۔ لیکن امید پر دنیا قائم ہے۔ ان انتہاپسندوں کے ہوتے ہوئے کبھی پاک انڈیا میں امن نہیں ہوسکے گا۔

مینڈیٹ نہیں
 موجودہ حکومتوں کو دیرینہ قومی مسائل جیسے کشمیر پر کچھ کرنے کا مینڈیٹ نہیں ہے۔ وہ پاکستان کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔
علی نقوی، سڈنی

حمزہ زیدی، ایران:
کھیل کے ذریعے کبھی سیاست ٹھیک ہوسکتی ہے؟

علی نقوی، سڈنی:
موجودہ حکومتوں کو دیرینہ قومی مسائل جیسے کشمیر پر کچھ کرنے کا مینڈیٹ نہیں ہے۔ وہ پاکستان کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔۔۔ اگر یہی حل نکلنا تھا تو ہزاروں لوگوں نے گزشتہ تیس برسوں میں اپنی جانیں کیوں گنوائیں؟

منظور بانیان، اسلام آباد:
میں امید کرتا ہوں کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ڈائیلاگ جاری رہے گا اور مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ پاکستانی ٹیم نے اچھا ون ڈے کھیلا اور سیریز جیت لی۔ میں انہیں مبارکباد دیتا ہوں، اور پاکستانی عوام کو بھی۔ کرکٹ ڈپلومیسی کی وجہ سے مثبت نتیجے نکلتے ہیں۔

عمران اعوان، ملتان:
سترہ اپریل کا میچ تو بہانہ تھا۔ در اصل صدر پرویز مشرف انڈیا کو ایک بار پھر ٹائم دینا چاہتے ہیں جس طرح آگرہ میں دیا تھا۔۔۔۔

آصف قرات منور، جھنگ:
میرے خیال میں ماضی میں جیسے ہوا ہے اس بار بھی کافی کامیابی ملے گی، کرکٹ سے تعلقات بڑھے، سرینگر بس سروس شروع ہوئی اور اب دو رہنما نئی دہلی میں مل رہے ہیں بظاہر کرکٹ کے لئے لیکن یقینی طور پر کچھ اس کے پیچھے راز بھی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اچھا قدم ہے۔

برکات حسین عباسی، اسلام آباد:
میرے خیال میں جو کچھ جنرل مشرف اپنے دورے پر خرچ کررہے ہیں یہ سب پاکستانی عوام کے پیسے اور وقت کی مکمل بربادی ہے۔ میری رائے میں ان کا انڈیا کا دورہ بےکار رہے گا۔ پاکستانی ٹیم نے اچھا کھیلا اور انڈیا کو ہوم گراؤنڈ پر شکست دی، یہ اچھا رہا۔

اظہر خان، دہران، سعودی عرب:
اللہ کا شکر ہے کہ ہم سیریز جیت گئے۔ اوپر والی تصویر کو دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ ہمارے کلچر کو لڑکیاں اتنے چھوٹے کپڑوں میں پیش کررہی ہیں۔ اللہ ہم سب کو نیک اعمال کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

ندیم رانا، بارسلونا:
حقیقت میں دونوں ممالک محسوس کرتے ہیں کہ کشمیر کا بنیادی مسئلہ حل کرنے کی ضرورت ہے، کھلے ذہن کے ساتھ۔ اب دونوں ملکوں کے قائد اس تنازعے کو حل کرنے کی سوچ رہے ہیں جس کی وجہ سے دونوں ملک معاشی طور پر کمزور ہوتے جارہے تھے۔۔۔۔۔

66آپ کی رائے
کرکٹ اور سیاست: پاکستانی ٹیم کا دورۂ بھارت
66انڈیا پاکستان میچ
اس میچ میں کون کیسا کھیلا؟ آپ کی رائے
آپ کا بلیٹن بورڈ
پاک انڈیا کرکٹ سیریز پر آپ کے مباحثے
66یہ دل مانگے مور
انڈیا پاکستان کرکٹ سیریز پر آپ کی رائے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد