پاک انڈیا کرکٹ سیریز: آپ کا بلیٹن بورڈ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ مارچ سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان کرکٹ سیریز کا آغاز ہورہا ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ دنیائے کرکٹ میں ان دو ممالک سے زیادہ پرجوش اور دلچسپ مقابلے شاید ہی کسی اور دو ممالک کی ٹیموں کے درمیان ہوتے ہیں کیونکہ یہ نہ صرف روایتی حریف ہیں بلکہ ان ممالک میں کرکٹ جس قدر مقبول ہے شاید ہی کہیں اور ہو۔ اس موقع پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام ’آپ کی آواز‘ کے صفحے پر ایک بلیٹن بورڈ شروع کررہا ہے جس کے صفحات پر آپ ہر مقابلے سے پہلے، بعد میں یا اس دوران اپنے تبصرے کرسکتے ہیں، دوسروں کے تبصروں کی تائید یا ان پر تنقید کر سکتے ہیں اور پاکستان اور انڈیا کے کھیلوں اور تعلقات سے متعلق کسی بھی موضوع پر بحث و مباحثہ کر سکتے ہیں۔ ازراہِ مہربانی اپنی آراء کو مختصر اور جامع الفاظ میں بیان کیجئے۔ تبصرہ، تائید یا تنقید کرتے وقت اس قاری کا نام ضرور لکھئے جس کی رائے کے رد:عمل میں آپ نے اپنا نقطہِ نظر پیش کیا ہو۔ بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اس بلیٹن بورڈ کے لیے آپ اپنے خیالات اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhej سکتے ہیں۔ کیا ’ایشز‘ کی طرز پر پاکستان اور بھارت کے مابین ہر سال ٹیسٹ سیریز ہونی چاہیے؟ یہ ایک بہترین تجویز ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو یہ برصغیر کے شائقینِ کرکٹ کے لیے انمول تحفہ ہوگا۔ کیا یہ جذبات سیریز ہے؟
ان دونوں ممالک کے درمیان ہر سیریز پاکستان انڈیا کرکٹ سیریز نہیں بلکہ جذبات سیریز ہوتی ہے کیونکہ ان دونوں میں سے کوئی بھی ہار کو ہار ماننے کو تیار نہیں خرم سعید، لیاقت پور پاکستان اور بھارت میں کتنی ہی دوستی ہو لیکن میچوں میں لگتا ہے کہ بنا ہتھیار کے جنگ ہو رہی ہے۔ جناب میرے خیال میں تو اگر پاکستان جوش کی بجائے صبر و تحمل سے کھیلے تو کوئی شک نہیں کہ کامیابی ان کے قدم چومے گی۔ پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے مابین تمام میچ سخت ہوں گے لیکن میرا خیال ہے کہ پاکستان جیت جائے گا۔ خرم سعید صاحب، اپ کی یہ بات تو ٹھیک ہے کہ یہ جذبات سیریز ہوتی ہے لیکن یہ کوئی وہ بڑے کھلاڑی نہیں جو ہار اس لیے نہ مانیں کہ وہ عظیم کھلاڑی ہیں۔ یہ دونوں روندو بہت ہے، ذرا سا ایک ٹیم حاوی ہوتو دوسرے کی ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں۔ علی ___ میں آپ سے سو فیصد ایگری کرتا ہوں۔ یار انضمام کو کپتان بنانا کہاں کا تُک ہے؟ ایسا پلیئر جسے پتہ بھی نہ ہو کہ سیمِنگ وکٹ پر پہلے باری لینی ہے یا بعد میں۔۔۔ اور ایسا پلیئر جسے یہ بھی پتہ نہیں کہ میچ کے چوتھے دن مزید ہاف آور لیکر میچ ختم کیا جاسکتا ہے، اسے کپتانی کا کوئی حق نہیں۔۔۔ ارے بابر بھائی صبروتحمل قوم میں ہی نہیں تو کھلاڑیوں میں کہاں سے آئے گا۔ جذبات سیریز تو یہ اس لیے ہے ناں کہ قوم ہی جذباتی ہے۔ ایک کھلاڑی آؤٹ ہوجائے تو ہر کوئی کہتا ہے کہ اسے کھلایا ہی کیوں تھا؟ محمد علی بھائی آپ مجھے صرف یہ بتادیں کہ اگر انضمام کو کپتان نہ بنائیں تو پھر کس کو بنائیں؟ اس وقت وہ سب سے سینیئر پلیئر ہیں اور انضمام کا محب وطن ہونے میں کوئی شک نہیں۔ پوری زندگی بغیر کسی اسکینڈل گزار دی۔۔۔۔ ملک صاحب: کرکٹ بہت سائنٹیفک کھیل بن گیا ہے اور ہم لوگ شخصیت پرستی ہی نہیں چھوڑتے۔ انضمام یقیناً محبِ وطن ہے لیکن کپتان کو ذہنی طور پر مستعد ہونا چاہیے۔ یہ سیریز ایک تاریخی سیریز ہوگی۔ ٹیسٹ میں بھارت کا پلہ بھاری ہے جبکہ ون ڈے میں دونوں ٹیمیں برابر ہی ہیں۔ پاکستان کو شعیب کی کمی محسوس ہوگی۔ یہ جذباتی نہیں بلکہ ایک سیاسی سیریز ہے۔ یہ جذباتی سیریز ضرور ہے لیکن ہمیں حالات کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا چاہیے اور اگر ٹیم اچھا کھیل کر ہار بھی جائے تو اسے سپورٹ کرنا چاہیے۔ یہ تو جانباز سیریز ہے۔ پاکستان کی تاریخ کی کمزور ترین ٹیم؟
ہماری ٹیم کی کمزوری ایک بائیں ہاتھ کے سپنر کی کمی ہے۔ ہماری ٹیم کو ایک اچھے سپنر کی اشد ضرورت ہے۔ لیاقت علی، میانوالی پاکستان ٹیم کی ناتجربہ کاری اس کی کمزوری کی وجہ ہے لیکن اس میں مقابلہ کرنے کے صلاحیت ہے۔ میں سابق کرکٹر مشتاق احمد کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ اس سیریز میں پاکستان کی تاریخ کی کمزور ترین ٹیم شرکت کر رہی ہے۔ فرحان عظیم صاحب، اگر قسمت مہربان نہ ہوتی تو شاید ورلڈ کپ پاکستان کی جھولی میں کبھی نہیں آتا۔ ورنہ سب جانتے ہیں کہ پاکستان کتنی مشکلوں کے بعد ورلڈ کپ جیتا تھا۔ دعا کریں کہ قسمت ہر بار مہربان ہو تاکہ کامیابیوں کا سلسلہ چلتا رہے۔ ورنہ پاکستانی پلیئر جیسا کھیلتے ہیں وہ سب کو پتہ ہے۔ فرحان صاحب، آپ شاید بھول گئے ہیں کہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم بھی اس وقت ایک کمزور ترین ٹیم کہی جاتی تھی۔ جناب بات ڈسپلن اور لیڈرشپ کی ہے۔ علی حسن صاحب، آپ کی بات بالکل ٹھیک ہے۔ ٹیم کمزور نہیں ہوتی، اس کا فیصلہ تو میدان میں ہوتا ہے۔ میدان میں جو اچھا کھیلے گا وہی جیتے گا۔ اس مرتبہ پاکستان کی نوجوان ٹیم سرپرائز دے گی۔ اس ٹیم میں بھارت کی تجربہ کار ٹیم کو ہرانے کا ٹیلنٹ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی ٹیم بہت کمزور ہے اور ان کی خوش قسمتی ہی انہیں جتا سکتی ہے۔
میں فرحان صاحب کی بات سے متفق ہوں۔ پاکستان کی ٹیم کبھی بھی اتنی کمزور نہیں تھی جتنی کہ اب ہے اور اسے اوور ہالنگ کی ضرورت ہے۔ محمد علی، لاہور امید اچھی رکھنی چاہیے۔۔۔۔ لیکن ٹیم بھی تو دیکھیں۔ جیت کے آئے تو بہت بڑی کامیابی ہو گی۔ پاکستان کی ٹیم کمزور نہیں ہے۔ اس میں سارے لڑکے نئے ضرور ہیں لیکن ان میں زبردست ٹیلنٹ ہے۔ تاہم انضمام اور یوحنا پر بڑی ذمہ داری ہے۔ پاکستانی ٹیم ناقابلِ بھروسہ ہے۔ کبھی یہ بنگلہ دیش سے ہار جاتے ہیں تو کبھی آسٹریلیا کو ہرا دیتے ہیں۔ان کا کچھ پتہ نہیں کب کیا کر دیں۔ پاکستان کی ٹیم انفرادی ٹیلنٹ کے لحاظ سے بھارت سے بہت بہتر ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام کھلاڑی ایک ٹیم بن کر کھیلیں۔ کیا پاکستان اور بھارت کے مابین کرکٹ زیادہ پرجوش ہوتی ہے؟ یہ بات ہے کہ ٹیم جونیئر ہے۔ کھیل میں ہار جیت تو ہوتی رہتی ہے لیکن انڈیا سے جیتنے کا تو مزہ ہی کچھ اور ہے۔ کیوں آپ کیا کہتے ہیں؟ شعیب بھائی، کرکٹ میچ تو وہی ہے جو انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہو۔ ورنہ کرکٹ میچ دیکھنے کا تو مزہ ہی نہیں آتا! علی بھائی واقعی صحیح کہا کہ کرکٹ تو لگتا ہے کہ بنی ہی پاکستان اور بھارت کے میچوں سے ہے ورنہ باقی ٹیموں کے میچوں میں بھی ایسا ہی مزا ہوتا۔ پاکستان ون ڈے سیریز تو جیت ہی جائے گا مگر ٹیسٹ میں بہت محنت کرنی ہو گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||