پاکستان اور انڈیا کے درمیان آئی سی سی ٹرافی کے لیے ہونے والے میچ کا بہت شدت سے انتظار کیا گیا۔ کرکٹ میں شاید ہی کسی اور دو ٹیموں کے درمیان ہونے والے میچ میں ایسے جوش وخروش کا مظاہرہ کیا جاتا ہو جیسا کہ ان دو ٹیموں کے درمیان میچز پر۔ اس میچ پر آپ کا کیا ردِ عمل ہے؟ پاکستان کی طرف سے بہتر کارکردگی کس کی رہی اور انڈیا کی طرف سے کس نے میچ کو سنبھالا؟ اس میچ کے بعد اگلا بہترین میچ کون سا ہوگا؟ فائنل کون کھیلے گا؟ آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhej سکتے ہیں
محمد اشرف، مسیساگا: مجھے پاکستان کی بیٹنگ سے مایوسی ہوئی کیونکہ وہ بھارت کے سامنے عمدہ طرح سے میچ ختم نہ کر سکے۔ پاکستانی ٹیم سخت ٹینشن کا شکار رہی۔ علی عمران شاہین، لاہور: کرکٹ محض وقت ضائع کرنے والی بات ہے۔ وقت قیمتی چیز ہے اور اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ بلاشبہ تفریح بھی زندگی کا اہم حصہ ہے لیکن ہمیں سارا دن یا پورا ہفتہ کرکٹ پر ضائع نہیں کر دینا چاہیے۔ محمد عامر خان، کراچی: بھارتی ٹیم میں سے سچن تندولکر کو نکال دینے کا مطلب شکست ہے۔ ذیشان شان، امریکہ: پاکستانی ٹیم نے عزت رکھ لی ورنہ آج بھارتی ہمسایوں کے سامنے بہت شرمندہ ہونا پڑتا۔ میں پاکستانی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور میری دعائیں ہمیشہ ٹیم کے ساتھ ہیں۔ محمد زبیر، لودھراں: کرکٹ کھیل ہی فضول ہے کیونکہ اس سے وقت ضائع ہوتا ہے۔ ابراہیم جی، کینیڈا: جنرل مشرف صاحب عوام کو کرکٹ میں لگا کر خود امریکہ کی زیارت کو چلے گئے ہیں۔ سیدہ روحہ نقوی، کراچی: ہماری ٹیم کی جہد مسلسل کا صلہ شاندار فتح کی صورت میں ملا۔ فتح صرف ٹیم سپرٹ کا نتیجہ ہوتی ہے اور اس مرتبہ بلاشبہ ہماری ٹیم میں لگن، امید اور حوصلہ دکھائی دیا۔ قیصر ساغر میو، کینیڈا: پاک بھارت میچ میں پاکستان ہی سو فیصدی فیورٹ تھا کیونہ سچن تندولکر اور ظہیر خان ان فٹ تھے۔ پاکستان صرف دباؤ کی وجہ سے میچ آخر تک لے گیا۔ کوئی اور ٹیم ہوتی تو یہ سکور چالیس اوور میں مکمل ہو جاتا۔ میرے خیال میں فائنل پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جائے گا۔ یاسر، میرپور: کرکٹ، کرکٹ، کرکٹ۔۔۔ کرکٹ محض پیسے اور وقت کا ضیاع ہے۔ اس کھیل کا کوئی فائدہ نہیں، اگر کوئی فائدہ ہے تو آپ مجھے بتائیں؟ لیاقت، سرگودھا: فائنل پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ہو گا۔ پاکستانی ٹیم ایسے ہی کھیلتی رہی تو کامیابی اس کے قدم چومے گی۔ مسرور خان، کینیڈا: یہ یوسف یوحنا کی پہلی میچ وننگ اننگز تھی ورنہ وہ صرف ایک کھلاڑی کی جگہ ہی پوری کرتے رہے ہیں۔ آفریدی نے بھی عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا ہے اور اب عبدالرزاق کی باری ہے۔  | باب وولمر کی ضرورت نہیں  پاکستانی ٹیم کو باب وولمر کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جب ہمارے ملک میں کرکٹ کے اس قدر بڑے نام موجود ہیں تو پھر ایک غیر ملکی کی کیا ضرورت ہے؟  سیدی تقوی، امریکہ |
سیدی تقوی، امریکہ: بلاشبہ پاکستانی ٹیم دنیا کی بہترین ٹیم ہے۔ میچ کا پانسہ آفریدی نے پلٹ دیا اس لیے بہتر ہو گا کہ انہیں اپنے منفرد انداز ہی میں کھیلنے دیا جائے۔ شعیب کو سپیڈ سے زیادہ لائن پر توجہ دینی چاہیے۔ پاکستانی ٹیم کو باب وولمر کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جب ہمارے ملک میں کرکٹ کے اس قدر بڑے نام موجود ہیں تو پھر ایک غیر ملکی کی کیا ضرورت ہے؟ محمد علی، ٹورانٹو: لگتا ہے کہ اس بار جنرل مشرف صاحب نے بھارت کو راضی کر ہی لیا ہے ورنہ ہمیں دوستی کی خاطر ہمیشہ میچ ہارنا پڑتا ہے۔ عفاف اظہر، کینیڈا: میں آپ کو تین بار ای میل کر چکی ہوں اور اگر آپ نے دوسروں کی میل کے ساتھ یہی سلوک کرنا ہے تو رائے پوچھنے کی زحمت ہی کیوں کرتے ہیں۔ ہمایوں بیگ، ٹورانٹو: یوسف یوحنا اور اضمام الحق نے مشکل وقت میں بہت ہی اچھی اننگز کھیلی ہے۔ بولنگ میں شعیب اور رانا نے عمدہ کارکردگی دکھائی۔ اگلے میچ میں عمران فرحت کی جگہ اظہر یا یونس خان کو موقع دینا چاہیے۔ زیب خان، سعودی عرب: آفریدی کے پچیس رن میچ وننگ تھے۔ انہیں ہر صورت میں پاکستانی ٹیم کا رکن ہونا چاہیے۔ وہ دنیا کے بہترین فیلڈروں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔ اویس کلیان پوری، اسلام آباد: شاہد آفریدی نے جس طرح میچ بگاڑنے کی پرواہ کیے بغیر شٹروک کھیلے، وہ قطعی پیشہ ورانہ نہیں تھا۔ ان کے علاوہ یاسر حمید نے بھی بہت لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔ البتہ ٹیم نے مجموعی طور پر خوش کر دیا۔ عامر اسحاق، دبئی: میرے خیال میں جیت کا تمام کریڈٹ انضمام کو جاتا ہے کیونکہ وہ ہی ٹیم کو آگے لے کر بڑھے اور یہی ایک کامیاب کپتان کا کام ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ یوحنا نے شاندار اور آفریدی نے مختصر مگر دھواں دار اننگز کھیلی۔ اظہر محمود کو عمران فرحت کی جگہ کھلایا جانا چاہیے۔۔۔ اور پھر کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان ٹرافی نہ جیتے۔ عاطف برکت، پاکستان: میرے خیال میں پاکستان نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا خصوصاً یوحنا اور شعیب نے۔ آصف اقبال، سانگلہ: پہلے یوحنا نے اچھے کھیل کا مظاہرہ اور پھر آفریدی کے دو چھکوں نے میچ کا نقشہ ہی بدل دیا۔ شازیہ خان، کراچی: پاکستان جیتے یا ہارے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ سب سٹہ بازی ہے۔ نوید سندھو، لیّا: یوحنا اصل میں ٹیم کی جان ہیں۔ آفریدی نے بھی عرفان پٹھان کو بڑی عمدگی سے کھیلا۔ بابر راجہ، جاپان: بی بی سی والے عجیب ہیں کہ میری رائے نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔  | میچ بہت اچھا تھا  مجھے پاکستان کے جیتنے کی خوشی کم اور ایک فائٹنگ میچ کی زیادہ ہے۔  وقاص احمد، پاکستان |
وقاص احمد، پاکستان: مجھے پاکستان کے جیتنے کی خوشی کم اور ایک فائٹنگ میچ کی زیادہ ہے۔ دونوں ٹیموں نے عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا۔ آغاز میں عرفان میچ پر چھا گئے لیکن بعد میں یوحنا اور رزاق نے بہت اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا۔ فائقہ سلیم، ملتان: انڈیا کی طرف سے ڈراوڈ کی بیٹنگ اور عرفان کی بولنگ عمدہ تھی۔ پاکستان کی طرف سے یوحنا نے کمال کر دیا اور آفریدی کے چھکوں نے میچ میں جان ڈال دی۔ انضمام بہت اچھے کپتان ہیں۔ شعیب اور رانا نے اہم وکٹ لے کر جیت کو آسان کر دیا۔ پاکستان نے انڈیئن ٹیم کو ہرا کر ثابت کر دیا ہے کہ ہم کسی سے کم نہیں۔ معظم شہزاد، کوریا: بیٹنگ پر توجہ کی ضرورت ہے۔ عاصم علی خان، لاہور: اسے میچ آف ٹورنامنٹ کہا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے ہمیشہ کی طرح انضمام اور یوسف یوحنا نے ٹیم کو سنبھالا۔ معین نے دوبارہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کی کرکٹ ختم ہو گئی ہے۔ ڈراوڈ بھی ہمیشہ کی طرح بہت ہی اچھا کھیلے۔ میچ کی سب سے دلچسپ بات ڈراوڈ اور شعیب ملک کی باہمی چپقلش۔ شعیب اختر نے بہت عرصے بعد میچ وننگ بولنگ کی ہے۔ افتخار احمد، مردان، پاکستان: میچ زبردست تھا۔ میچ کا حاصل ڈراوڈ اور یوحنا کی زبردست بیٹنگ اور شعیب، نوید اورعرفان پٹھان کی شاندار بالنگ تھی۔ یاسر امین، اٹک،پاکستان: آخر ایک پٹھان دوسرے پٹھان کے ہاتھوں ہی قابو آیا۔ عرفان پٹھان بھارت کو میچ جتوا دیتے اگر آفریدی چھکے نہ لگاتے۔ محمد اسلم، میکسیکو: میکسیکو اور برطانیہ کے وقت میں فرق کی وجہ سے ہم میچ نہ تو ٹی وی پر دیکھ سکےاور نہ ہی انٹرنیٹ پر لیکن ہم اس میچ میں لوگوں کے جوش و خروش کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ ہم بی بی سی کے مشکور ہیں کیونکہ ان کی میچ کی کوریج انٹرنیٹ سے کم نہیں تھی۔پاکستانی ٹیم اور بی بی سی، دونوں کا بہت شکریہ۔ توقیر چودھری، نیو جرسی، امریکہ: صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ایک زبردست میچ تھا۔دونوں ٹیمیں اچھا کھیلیں۔ ڈراوڈ اور عرفان پٹھان نے بھارت کی طرف سے اور یوحنا اور شعیب اختر نے پاکستان کی طرف سے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ آفریدی کے چھکے فیصلہ کن تھے کیونکہ ان کی وجہ سے ہی بھارت پر زبردست دباؤ پڑا۔ زینب وارثی،لاہور، پاکستان: میرا خیال ہے اس میچ کے لیے پاکستان ہی فیورٹ تھا لیکن مقابلہ بہت ہی دلچسپ رہا۔ وجیہ قیوم، ٹورنٹو، کینیڈا: آپ نے جب اپنی پسند اور مرضی کو ہی مدِ نظر رکھنا ہے تو دوسروں کی رائے کیوں مانگتے ہیں؟ شاہین، دوہا، قطر: انضمام اور یوحنا بہت اچھا کھیلے اور آخر میں جس طرح آفریدی کھیلے اس کا تو جواب نہیں۔ اگلے میچ میں عمران فرحت کی جگہ ااظہر محمود کو کھلانا چاہیے۔ نسیم واحد بھٹی، ملتان، پاکستان: شاباش یوسف یوحنا۔ یوسف نے ثابت کر دیا ہے کہ ہمارا وائس کیپٹن کسی سے کم نہیں۔ شاہد آفریدی کی بیٹنگ نے میچ میں جان ڈال دی۔ طارق محمود، سرگودھا، پاکستان: شکریہ پاکستانی ٹیم۔ عبدا لرحمٰن، پشاور، پاکستان: شاید یہ اس ٹورنامنٹ کا سب سے اچھا میچ تھا۔ میرے خیا ل میں پاکستان کو اس میچ سے سبق سیکھنا چاہیے کیونکہ پاکستانی ٹیم نے ایک چھوٹے سکور والے میچ کو بھی مشکل بنا دیا تھا۔ فرحان نفیس، کراچی، پاکستان: یوسف یوحنا کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ میرے خیال میں عمران فرحت بالکل فارم میں نہیں ہیں۔ اگلے میچ میں ان کی جگہ اظہر محمود کو موقع دیا جانا چاہیے۔ محمد شاہد بھٹی،ملتان، پاکستان: ہر کھلاڑی بہت اچھا کھیلا۔ میچ نہایت ہی دلچسپ تھا۔ یوسف یوحنا ایک بڑے ایوارڈ کے مستحق ہیں۔ ریاض بٹ، چکوال، پاکستان: شاہد آفریدی کو اب تو عقل سے کام لینا چاہیے۔ ان کی بلا ضرورت شارٹ کی وجہ سے پاکستان ہار سکتا تھا۔ فرخ خان، حیدر آباد، پاکستان: ایک شاندار میچ تھا، دونوں ٹیموں نے بھرپور کھیل کا مظاہرہ کیا۔ آفریدی کی اننگ فیصلہ کن تھی کیونکہ اس کے بغیر پاکستان جیت نہیں سکتا تھا۔ حمادا لرحمٰن ، فیصل آباد، پاکستان: آفریدی، یوحنا اور انضمام کی بیٹنگ کی وجہ پاکستان کو فتح ملی ورنہ ابتدائی بیٹسمینوں نے تو پاکستان کی شکست کا پورا بندوبست کر دیا تھا۔ بابر راجہ، نگاٹا، جاپان: پاکستان نے انڈیا کو ہر شعبہ میں ہرایا۔ اکیلا ڈراوڈ بیچارہ کیا کرتا۔ لگتا ہے فائنل پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ہو گا۔ نوید قاسم، جھنگ، پاکستان: ہمیں کرکٹ کی بجائے تعلیم پر توجہ دینی چاہیے۔ کرن احمد، ٹورنٹو، کینیڈا: دیر آید درست آید آصف خان،اوسلو، ناروے: آفریدی کواب نمبر سات پر ہی کھلانا چاہیے، وہ اس نمبر پر ٹھیک ہیں۔ تاشفین خان، اوسلو، ناروے: آج پاکستانی ٹیم واقعی ایک یونٹ کی طرح کھیلی ہے۔ نہ صرف باؤلنگ میں تبدیلیاں اچھی تھیں بلکہ بیٹنگ آرڈر نے بھی کمال دکھایا۔ خوشی اس بات کی ہے پاکستانی ٹیم دوبارہ اپنے عروج کی طرف جا رہی ہے۔ اظہرسہیل، کینیڈا: جیت ہار تو مقدر سے ہوتی ہے مگر کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ اللہ اسی طرح پاکستان کو کامیاب کرے۔ عدنان قریشی،بارسلونا، سپین: آفریدی ایک عظیم بیٹسمین بن سکتے ہیں بشرطِ کہ وہ اپنے موڈ پر تھوڑا قابو رکھیں۔
 | دوبارہ عروج کی جانب  آج پاکستانی ٹیم واقعی ایک یونٹ کی طرح کھیلی ہے۔ نہ صرف باؤلنگ میں تبدیلیاں اچھی تھیں بلکہ بیٹنگ آرڈر نے بھی کمال دکھایا۔ خوشی اس بات کی ہے پاکستانی ٹیم دوبارہ اپنے عروج کی طرف جا رہی ہے۔  تاشفین خان، اوسلو، ناروے |
شاہدہ اکرم، عرب امارات: بھارت کے بلے بازوں نے جو غلطیاں کیں ہمارے بلے بازوں نے انہی کو دہرایا۔کھیل بے شک کھیل ہے لیکن بھارت اور پاکستان کے میچ اس لیے دلچسپ ہوتے ہیں کہ دونوں ٹیمیں جوش میں کھیلتی ہیں جو سب کے لیے کشش کا باعث ہوتا ہے۔ عرفان پٹھان کی کارکردگی اچھی رہی اور پاکستان کے کھلاڑی بھی بہت اچھا کھیل رہے ہیں لیکن شاہد آفریدی کو معلوم نہیں کیا ہوجاتا ہے۔جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان: جیت تو امن کی ہونی چاہیے۔ جس انداز میں شعیب نے ڈراوڈ کے ساتھ بدتمیزی کی اس طرح کا رویہ کھلاڑیوں کو زیب نہیں دیتا۔ سید غوث علی، کویت: پاکستان ہی جیتے گا لیکن شاہد آفریدی کو ٹیم میں نہیں رکھنا چاہیے۔ وہ ہمیشہ ٹیم میں اچھی کارکردگی نہیں دکھاتا ماسوائے کینیا کے خلاف میچ میں۔ حسن منظور، باکو، آذربائی جان: اگر انضمام اور یوحنا اسی طرح ذمہ داری سے بیٹنگ کرتے رہے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان یہ میچ نہ جیتے۔ ان دونوں کی پاٹنرشپ کا زیادہ دیر تک چلنا ضروری ہے۔ سہیل عرفان، اوسلو، ناروے: کیا اچھا میچ ہے۔ آفریدی نے آخر اپنا رنگ دکھا دیا۔ آفریدی جب بھی ٹیم میں ہوتا ہے کھیل میں جان ڈال دیتا ہے۔ اس کے دونوں چھکے بہت خوبصورت تھے۔ بہت خوب پٹھان بمقابلہ پٹھان۔
 | پٹھان بمقابلہ پٹھان  آفریدی جب بھی ٹیم میں ہوتا ہے کھیل میں جان ڈال دیتا ہے۔ اس کے دونوں چھکے بہت خوبصورت تھے۔ بہت خوب پٹھان بمقابلہ پٹھان۔  سہیل عرفان، اوسلو، ناروے |
اشفاق تانگڑہ، خانیوال، پاکستان: آفریدی کے علاوہ تمام پاکستانی باؤلرز اچھا کھیلے ہیں۔ اگر انضمام اچھا کھیلے تو پاکستان جیت جائے گا۔ ولی محمد، ریاض، سعودی عرب: پاکستان کی اننگز کے پندرہ اوورز ختم ہوگئے ہیں اور اس کے کھلاڑیوں نے بھی وہی غلطیاں کی ہیں جو بھارتی بلے بازوں نے کی تھیں۔ اب انہیں چاہیے کہ وہ وکٹ پر موجود رہیں اور زیادہ ذمہ داری سے کھیلیں۔ محمد فیصل جمال، چکوال، پاکستان: موسم سب سے اہم کھلاڑی ہے جو اب تک اچھا کھیل رہا ہے۔ کروڑوں لوگوں کی خواہش ہے کہ موسم اچھا رہے۔ نوید الحسن کے بعد شعیب اختر اور انضمام اپنی فارم میں ہیں۔ اگر پاکستانی کھلاڑیوں نے وہ غلطیاں نہ کیں جو وہ اکثر کرتے ہیں تو پاکستان یہ میچ جیت جائے گا۔ طارق محمود، ریاض، سعودی عرب: بھارت نے اپنی بیٹنگ ختم کر لی ہے۔ پاکستان کے باؤلرز نے آج اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ لیکن اپنی بیٹنگ کے آغاز ہی میں پاکستان کے دو کھلاڑی آؤٹ ہو گئے ہیں۔ عرفان پٹھان بہت اچھی باؤلنگ کرا رہے ہیں۔ یہ ایک دلچسپ میچ ہوگا۔ اویس چوہدری، جرمنی: باؤلروں نے اپنا کام کر دکھایا ہے اب بلے بازوں کی باری ہے۔ اگر آفریدی کیچ نہیں چھوڑتے تو وہ اتنا بھی سکور نہیں کر پاتے۔ ڈراوڈ اچھا کھیلے ہیں۔ غلام فرید شیخ، سندھ، پاکستان: پاکستان اور بھارت کے میچوں میں ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ یہ دونوں ملک ایک دوسرے کے سیاسی حریف ہیں اور آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔ دونوں ٹیموں میں دنیا کے مایہ ناز کھلاڑی شامل ہیں۔ دنیا ان ممالک کے جنگ اور کھیل کے میدان میں تکراؤ سے لطف اندوز ہوتی ہے۔ اسرار حق میاں، امریکہ: دونوں کے درمیان خوبصورت میچ ہے۔ گو پاکستان کی تین وکٹیں گر گئی ہیں وہ اپنے آپ کو سنبھالا دے لے گا۔ |