 |  بہترین کرکٹر: راہول ڈراوڈ |
آئی سی سی ایوارڈز کی سالانہ تقریب میں بھارت کے راہول دراوڑ کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے سال کے بہترین کرکٹر اور سال کے بہترین ٹیسٹ کرکٹر اور برطانیہ کے آل راؤنڈر اینڈریو فلنٹوف کو ’ون ڈے پلیئر آف دی ایئر‘ کی ٹرافیاں دی گئیں۔ تاہم کچھ ناقدین نے ان فیصلوں کو متنازعہ بھی قرار دیا ہے خاص طور پر سری لنکا کے مرلی دھرن نے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے ایوارڈ کی ضرورت نہیں ہے۔ ’میرے پاس ورلڈ ریکارڈ ہے لیکن مجھے مایوسی ہوئی‘۔ آپ کی ان ایوارڈز کے بارے میں کیا رائے ہے؟ سال کا بہترین کرکٹر کس کو ہونا چاہئے تھا؟ ایک روزہ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ کس کو ملنا چاہیے؟ کیا آپ آئی سی سی کے فیصلے سے اتفاق رتے ہیں؟ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
ہارون رشید، سیالکوٹ، پاکستان: اب پچھتاوے کیا ہووت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت جو فیصلہ ہو چکا اب اسے بدلا تو نہیں جا سکتا۔ ویسے آسٹریلین کھلاڑی بھی کم نہیں تھے۔ شرف، دوبئی: واقعی مرلی دھرن ہی سال کے بہترین کھلاڑی تھے۔ ساجد امجد، دوبئی: عبدالرزاق نے جتنے میچ پاکستان کو جتوائے، انہیں ایوارڈ ضرور ملنا چاہیے تھا۔ عفاف اظہر، کینیڈا: اب یہاں رائے کا اظہار کرنے سے فائدہ جب کوشش کوئی اور کرتا ہے اور ایوارڈ کسی اور کو ملتا ہے۔ یہی تو اب یہاں رواج ہے کہ ’جس کی لاٹھی، اس کی بھینس‘۔ آصف: میرے خیال میں تندولکر بہترین کھلاڑی ہے۔ جاوید اقبال ملکت چکوال: میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت بڑی زیادتی ہوئی ہے۔ مرلی کو ہر حال میں انعام ملنا چاہئے تھا۔ اس کے علاوہ انضمام الحق کسی سے کم نہیں ہیں۔ یہ پینل ہی سفارشی تھا۔ محمد ندیم، ٹورانٹو: جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ محمد اظہر بابر، لاہور: میرے خیال میں یہ ایوارڈز مرلی کو ملنے چاہئے۔ لیاقت، سرگودھا، پاکستان: میرے خیال میں مرلی دھرن ہی بہترین کھلاڑی ہے۔ قیصر، بیجنگ، پاکستان: یہ ایوارڈز آئی سی سی کو مزید متنازعہ بناتے ہیں۔ راہول ڈراوڈ کو صرف ایک ایوارڈ ملنا چاہیے تھا اور مرلی اور انظمام جیسے کھلاڑیوں کو پوچھا بھی نہیں گیا۔ اس میں سراسر بھارت کو فیور کیا گیا ہے۔ میاں محمد عاصم، متحدہ عرب امارات: مرلی دھرن سلمان رضا، ٹورنٹو، کینیڈا: آئی سی سی ہو یا یو این او، دونوں کی پالیسیاں ایک جیسی ہیں۔ یہ قوموں کو سٹیٹس کی بنیاد پر ایوارڈ دیتے ہیں۔ مرلی کی کارکردگی اچھی ہی نہیں بلکہ میچ جتانے والی رہی ہے۔ غلام فرید شیخ، گمبٹ، پاکستان: آئی سی سی کا مسئلہ کیا ہے؟ پہلے پاکستان کو روکا کہ ایمپائرز پر تنقید نہ کرو، اور اب مرلی کو باہر کر دیا۔ لگتا ہے کہ آئی سی سی کی پالیسیاں بھی امریکہ کی طرح ہوتی جارہی ہیں۔ |