 |  آخر نئے کوچ کو حیرت کیوں ہے؟ |
ایشیا کپ میں سری لنکا کے ہاتھوں بری طرح شکست کے بعد پاکستان ٹیم کے کوچ باب وولمر نے پاکستانی بیٹسمینوں کی کارکردگی پر سخت مایوسی ظاہر کرتے ہوئے اسے غیرذمہ دارنہ قرار دیا ہے۔ ایک بار پھر پریشر پڑنے پر پاکستان کی وکٹیں دھڑا دھڑ گرتی گئیں۔ مبصرین کے مطابق باب وولمر کوسری لنکا کے خلاف میچ کے نتیجے پر حیرت نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ پاکستان ٹیم کی غیرمستقل مزاجی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ آپ کے خیال میں پاکستانی ٹیم کی غیر مستقل مزاجی کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا پاکستان ٹیم میں پچھلے چند سالوں سے مسلسل کئے جانے والے ردّوبدل کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں؟ کیا باب وولمر کی حیرت بجا ہے؟ کیا پاکستان ایشیا کپ کے اگلے میچز میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکے گا؟ آپ کا ردِّ عمل یہ فورم اب بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں
خاقان حیدر بخاری، فیصل آباد: لگتا ہے ہاکی کی طرح کرکٹ بھی پاکستان میں بےآبرو ہو کر بےنشان ہو جائے گی۔ رانا صفدر، سیالکوٹ: میرے خیال میں پاکستان کی ٹیم دنیا کی بہترین ٹیم ہے۔ کوچ اور کپتان کو چاہیے کہ اگر ایک اچھا کھلاڑی کسی ایک میچ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرتا تو اسے ایک سے زیادہ مواقع دیئے جائیں۔ برہان الیاس، راولپنڈی: پاکستانی ٹیم کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ مستقل مزاجی کا ہے۔ بھارت اور سری لنکا کی ٹیمیں ہمارے مقابلے میں زیادہ بہتر نہیں ہیں لیکن ہماری ٹیم میں ٹیم ورک کا فقدان ہے۔ راشد محمود، ہانگ کانگ: پاکستانی ٹیم اگر سری لنکا سے ہار گئی ہے تو کوئی بات نہیں کیونکہ ہار جیت تو کھیل کا حصہ ہے۔ عاصم افضل، گوجر خان: میرے خیال میں پاکستانی ٹیم کو اب ایسی تربیت کی ضرورت ہے جو اسے دباؤ کا سامنا کرنے کا طریقہ سکھائے کیونکہ آجکل پاکستانی ٹیم کا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ اگر اوپنروں کے بعد ایک یا دو کھلاڑی آؤٹ ہو جائیں تو باقی ٹیم سنبھل ہی نہیں پاتی۔ عامر خان، دبئی: میرے خیال میں ہماری ٹیم میں انضمام اور یوسف یوحنا کے علاوہ کوئی ورلڈ کلاس کھلاڑی نہیں ہے۔ پاکستانی ٹیم کو عامر سہیل اور سعید انور جیسا اوپننگ پیئر چاہیے۔ ہماری ٹیم کی ناکامی کی اہم وجہ ’تعلیم کا فقدان‘ بھی ہے جس کے باعث ٹیم میں وہ خود اعتمادی ہی نہیں جو بین الاقوامی سطح پر ہونی چاہیے۔ حماد بخاری، فیصل آباد: پاکستانی ٹیم کو اپنی سوچ اور کلچر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ مصباح ملک، سعودی عرب: جب تک کرکٹ سے انضمام الحق اور یوسف یوحنا کو نہ نکالا گیا اس وقت تک ٹیم سے اچھی توقع کرنا بےکار ہے۔ بڈھے گھوڑے آؤٹ ہو کر ٹیم کو دباؤ کا شکار کر دیتے ہیں۔ رمیز راجہ کو بھی اب تک فارغ کیوں نہیں کیا گیا؟ فواد، لاہور: یہ کوئی عجیب بات نہیں کہ پاکستان میچ ہار گیا کیونکہ یہ لوگ اس وقت تک جیت نہیں سکتے جب تک باہمی تنازعات ختم نہیں کر لیتے۔ شاہزیم راجہ، کراچی: ہار جیت کھیل کا حصہ ہے۔۔۔ اللہ نے چاہا تو پاکستانی ٹیم آئندہ میچوں میں اچھی کارکردگی دکھائے گی۔ احمد ندیم، جرمنی: میرے خیال میں ٹیم کو سب سے بڑا مسئلہ اوپننگ کا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ بعض اوقات ایک یا دو کھلاڑیوں سے غلطی سرزد ہو جاتی ہے جیسے کہ انضمام اور عمران نذیر سے ہوئی لیکن باقی کھلاڑیوں کو کیا ہو گیا تھا۔ کسی نے بھی صورت حال کی نزاکت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ میرے خیال میں عاصم کمال کو ٹیم میں شامل کیا جانا چاہیے۔ اویس محمد، پاکستان: ہار جیت تو ہوتی رہتی ہے۔ لیکن یہ تو پاکستان کی ہمیشہ کمزوری رہی ہے کہ اچھے کھلاڑی کو باہر بیٹھا دینا۔ یونس خان کی جگہ مصباح الحسن کو کیوں نہیں کھیلایا گیا۔  | عمران خان چاہیے  پاکستان ٹیم کو آج بھی ایک عمران خان کی ضرورت ہے۔  سفیر حسین، فیصل آباد |
سفیر حسین، فیصل آباد: میرے خیال میں کسی بھی ٹیم کی کامیابی میں اس کے کپتان کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے عمران خان کے بعد پاکستان ٹیم کو کوئی بھی اچھا کپتان نہیں ملا۔ بعد میں وسیم اکرم کی کپتانی میں ٹیم کو کچھ سنبھالا ملا لیکن یہ سلسلہ طویل دورانیے تک قائم نہ رہ سکا۔ اس وقت پاکستان کو ایک اچھے کپتان کی ضرورت ہے جس میں لیڈرشپ کی تمام خصوصیات موجود ہوں۔ میرا مطلب ہے کہ پاکستان ٹیم کو آج بھی ایک عمران خان کی ضرورت ہے۔ حمداللہ خان ترین، اسلام آباد: میرے خیال میں کوچ کی کوئی غلطی نہیں ہے کیونکہ اس کا کام صرف کھلاڑیوں کی تربیت ہے۔ غلطی دراصل کھلاڑیوں کی ہے جن میں کریز پر دیر تک ٹھہرنے کا سٹیمنا نہیں ہے۔ سرتاج خان، صوابی: پاکستانی ٹیم پر اعتماد کیا ہی نہیں جا سکتا۔ معلوم نہیں حکومت اس قدر پیسہ کیوں خرچ کرتی ہے۔ قیصر رانا، اسلام آباد: میرے خیال میں پاکستانی ٹیم سیاست کی بھینٹ چڑھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے پاکستانی کی ٹیم ایک اچھی ٹیم نہیں بن پا رہی ہے۔ زری، حب چوکی: پاکستان میں کوچ کو تین سال تک کام کرنے دیا جانا چاہیے اور کپتان کو اختیار ہونا چاہیے کہ وہ کھلاڑیوں پر پابندی لگا سکے۔ اور کیا ہی اچھی بات ہو کہ کپتان سفارشی نہ ہو۔ ارشد اقبال، پاکستان: میرے خیال میں سب سے پہلے کھلاڑیوں میں یہ جذبہ پیدا کیا جائے کہ وہ ملک کے لیے کھیل رہے ہیں۔ ہماری ٹیم میں ملک کے لیے کھیلنے کا جذبہ بالکل ہی نظر نہیں آتا۔ باب وولمر کو پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ شاید ان کا واسطہ پہلی بار پاکستانی لوگوں سے پڑا ہے۔ انہیں پاکستانی کھلاڑیوں کی نفسیات سمجھنی چاہیے۔  | سفارشی کیا کرے؟  آپ خود سوچیے کہ کیا کبھی سفارشی لوگ بھی اچھی کارکردگی دکھا سکتے ہیں؟  نواز جان نوشیروانی |
نواز جان نوشیروانی، حب چوکی: یہ مشکل دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان بڑی ٹیموں کے خلاف اچھی کارکردگی دکھائے۔ آپ خود سوچیے کہ کیا کبھی سفارشی لوگ بھی اچھی کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ عابد ندیم، ہانگ کانگ: باب وولمر کی کوچنگ کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ میرے خیال میں وہ بحیثیت کوچ بہترین انتخاب ہیں اور آپ محمد سمیع اور شعیب کی بولنگ میں بہتری تو دیکھ ہی سکتے ہیں۔ ٹیم کے لیے سب بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کپتان کا ٹیم پر مؤثر رسوخ نہیں ہے۔ کامران انصاری، ملائشیا: پاکستان کی ٹیم کا شمار دنیا کی بہترین ٹیموں میں ہوتا ہے۔ اسے صرف مستقل مزاجی اور انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔ سہیل خان، گلگت: میرے خیال میں یا تو وہ مذاق کر رہے تھے یا انہیں واقعی کرکٹ کھیلنے کے بارے میں کچھ علم نہیں۔ علی زمان، بورےوالا: بھارت کے دورۂ پاکستان کے بعد ہماری ٹیم نے کوئی بڑا ٹورنامنٹ نہیں کھیلا ہے۔ اس لیے اعتماد بڑھانے کے لیے ہمیں بڑے میچ کھیلنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ باب وولمر کو بھی وقت دینے کی ضرورت ہے۔  | واحد حل  پاکستانی ٹیم کا ایک ہی حل ہے کہ اسے ختم کر دیا جائے۔  بلال خان، راولپنڈی |
بلال خان، راولپنڈی: پاکستانی ٹیم کا ایک ہی حل ہے کہ ٹیم ختم کر دی جائے کیونکہ نہ تو کھلاڑی کھیلنے میں دلچسپی لے رہے ہیں اور نہ ہی شائقین ان کا کھیل دیکھنے میں۔۔۔ صرف ملک کا پیسہ ضائع ہو رہا ہے۔ رانا عاطف، فیصل آباد: جرمنی کی طرح پاکستانی ٹیم کو بھی ختم کر دینا چاہیے۔ کنول زہرہ، لاہور: پاکستانی کھلاڑی سنجیدگی سے اپنے کھیل کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ کوچ اس وقت تک نہیں سکھا سکتا جب تک کھلاڑی خود سیکھنا نہیں چاہتے۔ پاکستانی کھلاڑی قومی ٹیم میں آنے کے بعد خود کو بہتر بنانے کی کوشش نہیں کرتے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہماری ٹیم میں کھلاڑی جس قدر پرانا ہوتا جاتا ہے اسی قدر ناکارہ ہوتا جاتا ہے۔ جبکہ آسٹریلیا اور انڈیا کی ٹیموں میں کھلاڑی جوں جوں پرانے ہوتے جاتے ہیں اسی قدر مؤثر بھی ہو جاتے ہیں۔ محمد اکمل مغل، فیصل آباد: ٹیم میں سیاست اب بھی باقی ہے اور جب تک سیاست ختم نہیں ہو گی ٹیم مل کر محنت نہیں کرے گی۔ معین خان اور شعیب اختر کو ٹیم سے باہر نکال دینا چاہیے کیونکہ ایسا کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔ ثاقب شاہ، ٹورانٹو: ہم نئے کوچ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ شہزاد سلیم، پاکستان: پاکستانی ٹیم نے کبھی کسی میچ کو سنجیدگی سے نہیں لیا چاہے وہ 1999 کا لارڈز کا فائنل ہی کیوں نہ ہو۔ باہمی خلفشار نے ٹیم کا ستیاناس کر ڈالا ہے۔ ٹیم نے جب بھی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا جیتی ہے۔ دل شاہ، امریکہ: سب سے اہم مسئلہ پاکستانی ٹیم کے سابق کھلاڑیوں کی سیاست بازی ہے۔ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین، رمیز راجہ اور شعیب اختر کو ریٹائر ہو جانا چاہیے۔ محمد مشاق، ہانگ کانگ: میرے خیال میں نئے کوچ اتنے اچھے نہیں جتنے میانداد ہیں۔ ہمارے سب کھلاڑیوں کو انگریزی نہیں آتی، وہ کوچ کی بات کیسے سمجھیں گے۔ عرفان، اسلام آباد: پچھلے چند سالوں میں ہونے والی مسلسل تبدیلیوں نے بلّے بازوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ہر بیٹسمین میچ میں سلیکشن کمیٹی کو متاثر کرنے کے چکر میں رہتا ہے اور آؤٹ ہوتا ہے۔ اس ٹیم کو کھیلنے دیں۔ صرف بالنگ میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔  | باب وولمر کو وقت دیں  باب وولمر سے اتنی جلد نتائج کی توقع کرنا زیادتی ہے۔  شفقت منصور، برطانیہ |
شفقت منصور، برطانیہ: میرا خیال ہے کہ اس وقت ٹیم اور کوچ کو ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ باب وولمر سے اتنی جلد نتائج کی توقع کرنا زیادتی ہے۔ عمر خان، پاکستان: پاکستانی ٹیم دنیا کی سب سےاچھی ٹیم ہے مگر اپنی سیاست کا شکار ہے۔ جب تک سیاست چلتی رہے گی یہ اتار چڑھاؤ آتا رہے گا۔ صالح محمد، راولپنڈی: باب وولمر کی حیرت غیر ضروری ہے۔ پاکستان کرکٹ کا ستیاناس اس وقت شروع ہو گیا تھا جب جنرل توقیر کرکٹ بورڈ کے سربراہ بنائےگئے تھے۔ دنیا میں ایسا کہاں ہوتا ہے کہ ایک آرمی جنرل کو کرکٹ کا سربراہ بنا دیا جائے۔ عبدالصمد، اوسلو: سب سے بہتر ہوگا کہ وسیم باری اور انضمام الحق کو کرکٹ سے فارغ کر دیا جائے۔ تمام معاملات خود درست ہو جائیں گے۔ عامر، ٹورانٹو: یہ بات بچے بھی جانتے ہیں کہ کامیابی کے لیے محنت اور ایک ٹیم کی طرح سوچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی میدان میں ایک ٹیم کی طرح نہیں اترتے بلکہ آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔ انہیں اپنے کام میں پروفیشنل انداز اختیار کرنا چاہیے۔ راحت ملک، راولپنڈی: ہمیں میچ اوپن کرنے کے لیے ایک جوڑا تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ساجد امجد، دبئی: مجھے حیرت ہے کہ میانداد جیسے کھلاڑی کے ساتھ ایسا سلوک ہو رہا ہے؟ پاکستان ٹیم میں اکثر کھلاڑی ایسے ہیں جو انگریزی نہیں سمجھتے۔ ایسے میں میانداد کو ہٹا کر وولمر کو لانا سراسر بیوقوفی ہے۔ مسعود چنّا، امریکہ: پاکستانی ٹیم کو میچ فکسنگ کی عادت پڑ گئی ہے۔ اب اس کے بغیر ٹیم کا گزارہ ہی نہیں ہوتا۔ شاد خان، ہانگ کانگ: جی ہاں حیرت بجا ہے کیونکہ پاکستان ایک اچھی ٹیم ہے۔ غیر مستقل مزاجی کی وجہ ٹیم ورک کا فقدان ہے۔ |