ایڈوانی پاکستان کا دورہ کریں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں حزب اختلاف کے رہنما اور بھارتیہ جنتا پارٹی کےصدر ایل کے اڈوانی تیس مئی سوموار کو پاکستان جائیں گے۔ وہ پاکستان میں صدر پرویز مشرف، وزیراعظم شوکت عزیز اور حزبِ اختلاف کے مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر لعل کرشن اڈوانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کی دعوت پر وہ تیس مئی سے پاکستان ایک ہفتے کے دورے پر جارہے ہیں۔ بیان کے مطابق انکے اس دورے سے دونوں ملکوں کےدر میان جاری عوامی رابطے کی مہم کو مزید فروغ ملےگا۔ مسٹر اڈوانی کے مطابق یہ دورہ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی پائیدار امن کی کوششوں کا ہی ایک حصہ ہے جسکی شروعات انہوں نے جنوری 2004 میں کی تھی۔ اپنے بیان میں مسٹر ایڈوانی نے اس بات پر خوشی ظاہر کی ہے کہ وزیراعظم منموہن سنگھ نے مسٹر واجپئی کے مشن کو جاری رکھا ہے۔ انہوں نے ذاتی طور پر اپنے دورۂ پاکستان کو بڑی اہمیت کا حامل بتایا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ چونکہ وہ کراچی میں پیدا ہوۓ تھے اس لیے وہاں اتنے برسوں بعد جانا بلکل ایسا ہی جیسے اپنی اصل کی طرف واپس ہوناہو۔ مسٹر اڈوانی نے اپنے بیان میں کہا کہ اپنے دوسرے دورے پر وہ رب سے دعا گو ہیں کہ دونوں کے درمیان امن وبھائی چارے کی بنیادیں مزید مضبوط ہوں۔ مسٹر اڈوانی پاکستان میں اسلام آباد کے علاوہ لاہور، کراچی اور اپنے آبائی شہر حیدرآباد سندھ کا دورہ کریں گے۔ پاکستان جانے کا ان کا پروگرام پہلے اپریل کے مہینے میں تھا۔ لیکن پارٹی کی مصروفیات کے سبب انہوں نے اسے ملتوی کردیا تھا۔ اس سے قبل انہوں نے 1979 میں اطلاعات و نشریات کے وزیر کی حیثیت سے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ لعل کرشن اڈوانی کا شمار بی جے پی کے سخت گیر ہندو رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ ابھی تک کے پالیسی کے سبب وہ پاکستان جانا پسند نہیں کرتے تھے۔ لیکن ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن مذاکرات کے سبب رشتوں میں بہتری آئی ہے۔ بدلتے حالات اور دوستانہ ماحول میں اڈوانی کے اس دورے سے تعلقات مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔ پاکستان کے صدر پرویز مشرف جب گزشتہ اپریل میں ہندوستان دورے پر گئے تھے تو انہوں نے مسٹر اڈوانی کو تحفے میں انکے اسکول کا سرٹیفکٹ اور کچھ یادگار تصویریں دی تھیں ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||