 |  دوبئی میں غیرملکی ملازمین |
چوبیس اپریل کو کویت میں بنگلہ دیش کے سفارت خانے پر لگ بھگ سات سو بنگلہ دیشی مزدوروں نے دھاوا بول دیا۔ سفارت خانے کے اہلکارں کو پولیس بلانی پڑی تاکہ حالات پر قابو پایا جاسکے۔ نامہ نگاروں کے مطابق کویت میں کام کرنے والے بنگلہ دیشیوں کو ملنے والی تنخواہ کے بارے میں شکایات رہی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں ہندوستان، پاکستان اور دیگر ملکوں سے آکر کام کرنے والے لوگوں کو مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ کیا آپ مشرق وسطیٰ کے کسی ملک میں کام کرنے آئے ہیں؟ اگر ہاں تو ہمیں مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والے غیرملکیوں کے مسائل کے بارے میں لکھیں۔ اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی رائے سے ایک انتخاب نیچے درج ہے۔
عمران جلالی، ریاض، سعودی عرب: میں تین سال کی عمر میں یہاں آیا تھا اور آج مجھے یہاں پچیس سال ہو گئے ہیں۔ پچھلے پانچ سال سے ملازمت کر رہا ہوں۔ یہاں کفالت کے قانون کے تحت کفیل کو بہت زیادہ اختیارات حاصل ہیں جن کا اکثر ناجائز استعمال ہوتا ہے۔ میرے خیال میں اس ملک میں اللہ تعالٰی کے بعد کفیل ہی سب سے زیادہ طاقتور ہے۔ حسین رضوی، دبئی: رنگ اور نسل کی بنیاد پر تفریق کا سب سے بڑا مرکز مشرق وسطٰی ہے۔ یورپ اور امریکہ کے لوگوں کو یہاں ہر وقت خوش آمدید کہا جاتا ہے لیکن ہم غریب ممالک کے مسلمان لوگ یہاں آنے کے لیے اپنے گھر والوں کو بھی بیچ دیتے ہیں۔یہاں جس پر گذرتی ہے وہی جانتا ہے۔ سرتاج خان، صوابی، پاکستان: میں پچھلے بارہ سال سے ابو ظہبی میں ہوں۔ مزدوروں کو وہاں چھ چھ مہینے تک تنخواہ نہیں دیتے جب کہ مزدوری سارا سال لی جاتی ہے۔ کمپنی جانوروں جیسا سلوک کرتی ہے ہم سے۔ ہر دوسرا شخص ذہنی مریض ہے لیکن یہ لوگ ترس نہیں کھاتے۔ امین اشرف، کینیڈا: اگر عرب ملکوں کو اللہ میاں نے تیل کی دولت سے مالا مال کیا ہے تو ہم کو مردانگی سے مالا مال کیا ہے۔ محمد شبیر، ٹورانٹو: مسلمانوں سے امریکی برے ہیں مگر عرب تو ان کا نمبر لے گئے۔ فضیل غوری، کینیڈا: جی ہاں میں نے بد قسمتی سے ایک سال وہاں کام کیا ہے۔ میرا تجربہ یہی ہے کہ وہ ایشیائیوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرتے ہیں اور وہاں ہمارے رنگ کے لوگوں کی کوئی عزت نہیں ہے لیکن ہم پھر بھی فلپائنیوں سے بہتر۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ عرب ان کی عورتوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں نے وہاں سے نکل کر کینیڈا حجرت کا فیصلہ بالکل ٹھیک کیا تھا۔
 | ہم نہیں کرتے؟  عرب لوگوں کا رویہ گوروں کے ساتھ اچھا ہوتا ہے اور ہمارے ساتھ برا۔ لیکن کیا اس قسم کی نسل پرستی ہم خود اپنے ہاں نہیں کرتے۔  میمد علی، دبئی |
آئی عباسی، پاکستان: یہاں اگر کوئی اچھی جاب پر نہیں ہے تو ان کا رویہ اچھا نہیں ہوتا۔یہاں برابری والی تو بات نہیں لیکن سب لوگوں کا رویہ برا نہیں ہوتا۔ حالات خراب ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم بڑی تعداد میں یہاں آ گئے ہیں اور نوکریاں کم ہیں۔نعیم انور، کینیڈا: جی ہاں یہ سچ ہے کہ ان کا رویہ ایشائیوں کے ساتھ انسانوں والا نہیں ہوتا لیکن جب بات آتی ہے مغربی ممالک کے لوگوں کی تو یہ لوگ انتہائی اچھی طرح پیش آتے ہیں۔ محمد علی، دبئی: نوکری کیا تو نخرہ کیا۔ لوگ اکثر یہ گلہ کرتے ہیں کہ عرب لوگوں کا رویہ گوروں کے ساتھ اچھا ہوتا ہے اور ہمارے ساتھ برا۔ لیکن کیا اس قسم کی نسل پرستی ہم خود اپنے ہاں نہیں کرتے۔ کیا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ہمارے ہاں تو سب برابر ہیں؟ کوئی گورا ہمارے ہاں آجائے تو ہمارے لوگ بچھ بچھ نہیں جاتے؟ مسرور احمد، اونٹاریو، کینیڈا: عربوں کے ہاں تو ہر کوئی خود کو بادشاہ سمجھتا ہے۔ ساجل شاہ، نویڈا، امریکہ: میرے ایک انکل ایک عرب ملک میں کام کرتے ہیں۔پاکستان سے ان کو بطور موٹر مکینک بارہ سو ماہوار پر لے جایا گیا تھا لیکن وہاں پر کمپنی نے انہیں سات سو ماہوار پر چوکیداری کی نوکری پر لگا دیا۔ پوری دنیا میں ایشیائیوں کے ساتھ یہی سلوک ہو رہا ہے۔  | حقوق نہیں ملے  میں کویت میں پیدا ہوا، برطانیہ سے گریجویٹ ہوا لیکن میں نے کویت چھوڑ دیا کیونکہ وہاں مجھے میرے حقوق نہیں ملے۔ کویتی لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ پاکستانی اور انڈین لوگوں سے بر تر ہیں۔  عمران سلیمان اعوان، بارسلونا | عمران سلیمان اعوان، بارسلونا، سپین: میں کویت میں پیدا ہوا، برطانیہ سے گریجویٹ ہوا لیکن میں نے کویت چھوڑ دیا کیونکہ وہاں مجھے میرے حقوق نہیں ملے۔ کویتی لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ پاکستانی اور انڈین لوگوں سے بر تر ہیں۔ اگر انہوں نے سبق نہیں سیکھا تو وہ دن دور نہیں جب کوئی بھی پاکستانی یا انڈین ان کے لیے کام نہیں کرے گا۔
شفقت خان، شعیبہ، کویت: کتنی افسوس ناک صورت حال ہے کہ خلیجی ریاستوں میں کم سے کم تنخواہ یا منیمم ویجز کا کوئی معیار مقرر نہیں اور انصاف ملنا بھی دشوار ہے۔ اٹھارہ، بیس دینار ماہانہ تک کی کم تنخواہ پر بھی لوگ کام کر رہے ہیں۔ قانون کے مطابق ہر دو سال بعد کمپنی ہوائی ٹکٹ اور ایک ماہ کی چھٹی دینے کی پاپند ہے لیکن صفائی وغیرہ کے کام کی کپمنیاں ٹکٹ نہیں دیتیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ قانون یہاں پر مقامی لوگوں کو بچاتا ہے اور عموماُ انصاف کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ زمان عباسی، دبئی: جناب دبئی میں مزدور کی تنخواہ چار سو دینار ماہانہ ہے جس میں وہ کھانا بھی کھاتا ہے اور گھر بھی بھجواتا ہے۔ کئی مزدور کام کے دوران مر جاتے ہیں لیکن یہاں کا میڈیا ایسی خبریں نہیں دیتا۔ میری بی بی سی سے درخواست ہے کہ دبئی کے مزدوروں کے لیے کوئی آواز بلند کریں، آپ کو بہت دعا ملے گی۔
 | یہی حال ہے  صرف مشرق وسطٰی کا ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں یہی حالات ہیں۔رنگ اور نسل کا تضاد ہر جگہ ہے۔  ردا احمد، کینیڈا |
ردا احمد، کینیڈا: صرف مشرق وسطٰی کا ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں یہی حالات ہیں۔رنگ اور نسل کا تضاد ہر جگہ ہے۔ امریکہ کی جانب آپ پرامید نگاہ اٹھا رہے ہیں لیکن کیا وہاں اس قسم کے حالات نہیں ہیں؟علی خان، ریاض، سعودی عرب: یہاں سعودی عرب میں ساؤتھ ایشیا سے آئے ہوئے ورکروں کے حالات بہت برے ہیں۔ان کے ساتھ قومیت کی بنیاد پر برا سلوک کیا جاتا ہےاور پاکستانی، بھارتی اور بنگلہ دیشیوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔کئی کپمنیوں میں چھ چھ ماہ تک تنخواہیں نہیں دی جاتیں۔ طالب کمال، شارجہ: عرب خود کام نہیں کرنا چاہتے لیکن وہ پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش وغیرہ سے آئے ہوئے لوگوں کی بے عزتی کرنے کا کوئی موقعہ جانے نہیں دیتے۔ محمد سلیمان، اومان: مانا کہ خلیجی ریاستوں میں حالات خراب ہیں لیکن مغرب سے بہت بہتر ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ پاکستان سے غیر تربیت یافتہ لوگ مزدوری کے لیے گلف جاتے ہیں۔ بے شمار انڈین ان ریاستوں میں کام کرتے ہیں اور بڑے اچھے عہدوں پر ہیں۔ میں نہیں مانتا کہ عرب لوگ برے ہیں۔ عمران، امریکہ: بہت دیر بعد یہ مسئلہ یاد آیا مہربان۔  | غلام کی مثال  یہاں پر صرف ملازمت دہندہ کے لیے قانون بنائے جاتے ہیں جبکہ مزدوری کرنے والا ابھی تک زمانہ جاہلیت کے غلام جیسی مثال ہے۔  محمد رفیق ظفر، شارجہ | محمد رفیق ظفر، شارجہ: عرب ممالک میں پیسہ ہی سب کچھ ہے۔انسانی حقوق کے نام کی کوئی شے یہاں نہیں۔ یہاں پر صرف ملازمت دہندہ کے لیے قانون بنائے جاتے ہیں جبکہ مزدوری کرنے والا ابھی تک زمانہ جاہلیت کے غلام جیسی مثال ہے۔ جب تک سپانسر شپ کا قانون رہے گا مزدوروں کے ساتھ غلاموں والا سلوک ہوتا رہے گا۔
کاشف ریاض گھمن، مسقط: اللہ کا شکر ہے ہمارا اپنا کاروبار ہے اس لیے ہمیں وہ مسائل نہیں جومزدوروں کو ہیں لیکن سچ یہی ہے کہ عرب لوگ غیر ملکیوں کو جانور ہی سمجھتے ہیں۔ میں نے کئی بار عربوں کو یہ کہتے سنا ہے ’ تم گندے غیر ملکی ہو تمہیں پتا ہونا چاہیے کہ میں یہاں کا نیشنل ہوں‘۔ یہ سن کر میری روح پر چھری چلتی ہے۔ سید فرہاج علی، عرب امارات: خدا جانتا ہے کہ عربوں اور ایشیائیوں میں اتنا فرق کیوں رکھا جاتا ہے۔ ہم سب مسلمان ہیں لیکن بہت فرق ہے دونوں کے حالات میں۔ جہانگیر احمد، دبئی: مشرق وسطٰی میں فیملی ویزے کی سہولت بالکل نہیں ہے اس لیے یہاں پر بہت سے مسائل ہیں۔ پتا نہیں کہ فیملی سے دور رکھ کر یہاں کی حکومت کو کیا ملتا ہے حالانکہ اگر فیملی ہوگی تو زیادہ رونق ہوگی اور انسان اچھی طرح نوکری پر توجہ دے سکے گا۔ محمد اسلم ندیم اعوان، دھیر کوٹ، پاکستان: مجبوری کی دیوار تلے لوگ ارمانوں کی بستی بھی جلا دیتے ہیں۔ میں تو یہی کہوں گا کہ دبئی میں لوگوں کو وہاں کے قانون کے مطابق کام کرنا چاہیے۔ اگر آپ کا رزق اپنےملک میں ہے تو دوسرے ملک جانے کا فائدہ کیا۔ اطہر، دہلی، انڈیا: ہمارے عرب ’بھائی‘ ہمارے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں تو من کرتا ہے کہ اسلام چھوڑ دوں۔ خلیجی ریاستوں میں صرف عربی بولنے والے کو انسان سمجھا جاتا ہے۔ میں نے امریکہ میں رہ کر دیکھا ہے کہ اسرائیلی بھی ہمارے ساتھ انتہائی تہذیب سے پیش آتے ہیں۔ رضوان احسن، کراچی: عربوں کے پاس کام کرنے سے ہم ایشیائی جتنا ذلیل ہوتے ہیں اتنا تو ہم اسرائیل میں بھی نہیں ہوتے۔ عرب لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ دنیا کے سب سے عظیم نیشن ہیں جبکہ ہمارا مذہب کہتا ہے کہ اخلاق کو چھوڑ کر کوئی چھوٹا بڑا نہیں۔ مدثر حسین، کویت: میں ایک پاکستانی ہوں۔ کویت میں رہتا ہوں۔ کویتی حکومت ہمارا حق نہیں دے رہی ہے۔ جعلی ویزوں کی وجہ سے کافی لوگ پریشانی میں ہیں۔ رضیہ احمد چودھری، امریکہ: خلیجی ممالک میں میں نے قومیت، نسل، رنگ کی بنیاد پر تعصبانہ رویہ دیکھا ہے۔ اگر آپ انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش کے ’رنگ‘ کے شخص ہیں تو وہ آپ کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کریں گے۔ لیکن اگر آپ ’سفید فام‘ ہیں چاہے آپ اپنے ملک میں صفائی کا کام کرتے ہوں، تو آپ سے راجہ کی حیثیت سے پیش آئیں گے۔ زیاد احمد، کراچی: اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دوسرے ملکوں میں بھی انسانی حقوق کی پامالی ہورہی ہے اور دوسرے ملکوں میں بھی مزدوروں سے امتیازی سلوک ہورہا ہے۔
 | بری زندگی  لوگوں نے یہاں کام کرتے زندگی گزار دی اور ان کے پاس پیسہ نہیں ہے کہ وہ ٹکٹ خرید کر گھر جاسکیں۔ زندگی بری ہے۔  شمریز خان |
شمریز خان: ہمیں یہاں کافی پریشانیوں کا سامنا ہے۔ چودہ گھنٹے کام کرنے پڑتے ہیں، چھٹی نہیں ملتی۔ ان ممالک میں ایشیائی لوگوں کو جانور سمجھا جاتا ہے۔ میں لیبر عدالت میں جانے کی سہولت نہیں ہے۔ جب میں نے یہاں ایشیائی لوگوں کی حالت دیکھی تو میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ لوگوں نے یہاں کام کرتے زندگی گزار دی اور ان کے پاس پیسہ نہیں ہے کہ وہ ٹکٹ خرید کر گھر جاسکیں۔ زندگی بری ہے۔ کچھ کمپنیاں رہائش فراہم کرتی ہیں لیکن ایک کمرے میں دس پندرہ لوگوں کو رہنا پڑتا ہے، ویسے ہی جیسے بھیڑ بکریاں رہتی ہیں۔ وقاص احمد چودھری، ریاض: اگر آپ عربی نہیں جانتے تو آپ ’کمی کمین‘ ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ زمین پر صرف وہ ہی انسان ہیں، اللہ ہم سب کو معاف کرے۔  | عالمی میڈیا خاموش  بین الاقوامی میڈیا اس کے بارے میں خاموش ہے کیوں کہ یورپی ممالک سے آکر کام کرنے والوں کے ساتھ سلوک اچھا ہوتا ہے۔  الطاف قادر، نیوزی لینڈ | الطاف قادر، نیوزی لینڈ: میں نے مشرق وسطیٰ کے کچھ ملکوں کا دورہ کیا لیکن وہاں کام کرنے کا تجربہ نہیں ہے۔ میں نے نوکری فراہم کرنے مالکان کا رویہ دیکھا ہے، ویسے ہی ہے جیسے مالک اور غلام کے درمیان جو میں نے بچپن میں پڑھا تھا۔ بین الاقوامی میڈیا اس کے بارے میں خاموش ہے کیوں کہ یورپی ممالک سے آکر کام کرنے والوں کے ساتھ سلوک اچھا ہوتا ہے۔ اس مسئلے پر سرکاری سطح پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔
جبار ہاشمی، دوحہ: بہت برے حالات ہیں۔ جو اپنا وطن چھوڑ کر آئے ہیں ان کا تو کیا، جو یہاں پیدا ہوئے ہیں ان کو بھی اپنا حق نہیں ملتا۔ قمر زمان، یو اے ای: غیرملکی مزدوروں، بالخصوص ایشیائی لوگوں، کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے، ان کےبنیادی انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے، اور عرب ان کے ساتھ باعزت طریقے سے پیش نہیں آتے اور سمجھتے ہیں کہ یہ غریب مزدور بھیک منگے ہیں، ان کے ملکوں میں کام نہیں ہے، اور ان کے ملک انہیں کام نہیں دے سکتے۔ یہاں یو این او اور دیگر ممالک کو ان محنت کشوں کے حقوق کے بارے میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔
|