 |  کشمیری رہنماؤں نے ستاون برسوں بعد پہلی بار لائن آف کنٹرول پار کیا |
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر سے ستاون برسوں کے بعد پہلی بار کشمیری رہنما پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دورے پر ہیں۔ جمعرات کو مظفرآباد پہنچنے والے ان رہنماؤں میں حریت کانفرنس کے میرواعظ عمر فاروق، پرورفیسر عبدالغنی بھٹ، مولوی عباس انصاری، بلال غنی لون اور فضل الحق قریشی شامل ہیں جبکہ جموں کمشیر لبریشن فرنٹ کے یٰسین ملک اور جموں اینڈ کشمیر فریڈم پارٹی کے سیکریٹری جنرل محمد عبداللہ تاری بھی اس وفد کے ہمراہ آئے ہیں۔ کشمیر فریڈم پارٹی کے رہنماشبیرشاہ کی شمولیت بھی متوقع تھی لیکن سفری پرمٹ کی درخواست میں اپنی شہریت’کشمیری‘ لکھنے کی وجہ سے انہیں پرمٹ جاری نہیں کیا گیا۔ مظفرآباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے آل پارٹیزحریت کانفرنس کے رہنماؤں نے کہا کہ ان کا یہ تاریخی دورہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے سلسلہ میں اہم قدم ہے۔ انہوں نے اس دورہ کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے کا ایک عظیم موقع قرار دیا۔ ان رہنماؤں نے کہا ہے کہ ماضی کی کوششیں اس لیے ناکام ہوئی ہیں کے ان میں کشمیریوں کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے مسئلہ پر تمام دو طرفہ معاہدے جن میں تاشقند، شملہ، لاہور اور آگرہ شامل ہیں، اسی لیے ناکام ہوئے ہیں کیونکہ ان میں کشمیری شامل نہیں تھے۔ آپ کی رائے میں کشمیری رہنماؤں کا یہ دورہ کتنا تاریخ ساز ثابت ہوسکتا ہے؟ اس دورے کا جنوبی ایشیا کے نقشے پر کیا اثر پڑے گا؟ اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
علی حیدری، ٹورانٹو: یہ دورہ سن دو ہزار چھ تک تاریخ ساز ثابت ہوگا۔ اس کے بعد کوئی نیا ایشو شروع ہوجائے گا۔ محمد جہانگیر خان، کشمیر: جہاں تک کشمیری رہنماؤں کے اس دورے کا سوال ہے تو یہ بہت ہی فائدہ مند ہے کشمیر کے مسئلے پر کسی فیصلے کے لئے۔ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ دونوں جانب کے کشمیری رہنماؤں کو بات چیت کا موقع ملا ہے تاکہ اپنے مادر وطن کے مستقبل کے بارے میں سوچ سکیں۔ حفیظ اللہ، لاہور: میرے خیال میں یہ جو کشمیری رہنماؤں نے پاکستان کا دورہ کیا ہے یہ ایسے ہی ہے، جیسے پہلے انڈین لیڈر پاکستان کا دورہ کرتے رہے ہیں۔ یا اس کو یوں کہیں کہ جس طرح بس سروس چلی ہے اسی طرح یہ لیڈر بس کے ذریعے پاکستان کی سیر کرنے آگئے ہیں اور اس سے کشمیر کاز کو ایک پرسینٹ بھی فائدہ نہیں ہوگا۔ کیوں کہ ابھی تک انڈیا ایک انچ بھی اپنی اٹوٹ انگ والی رٹ سے پیچھے نہیں ہٹا اور ہمارے آج کے مشرف صاحب اور آج سے تین سال پہلے والے مشرف صاحب میں بہت فرق آگیا ہے۔ لگتا ہے انہوں نے بھی حکومتی مجبوریوں کے آگے سرجھکا دیا ہے۔۔۔۔ راجہ عبدالصبور، اسلام آباد: حریت رہنماؤں نے آج کا دورہ کررکے ٹھیک کیا ہے۔۔۔ ایوب، لاہور: میرے خیال میں انڈیا صرف وقت پاس کررہا ہے کیوں کہ انڈیا پر اس مسئلے کے حل کے لئے بہت زیادہ دباؤ ہے۔ وہ اقوام متحدہ میں ایک سیٹ چاہتے ہیں۔۔۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: آپ کو یاد ہوگا کہ ایک مرتبہ عظیم لیڈر نواز شریف نے بھی ایسی کوششیں کی تھیں جب وہ افغانستان کے نام نہاد لیڈروں کو قسمیں اور قرآن اٹھانے خانہ کعبہ گئے تھے، مگر کھانا ہضم بھی نہ کیا اور مکر گئے۔ کشمیر والے ہمیشہ حق خود ارادیت کی بات کرتے ہیں۔ ہمارے ساتھ شامل نہیں ہوں گے، البتہ ان کو گھومنے کا اچھا موقع مل گیا ہے۔ محمد طارق، کینیڈا: کشمیری لیڈروں کا یہ دورہ ایک نیک شگن ہے اور شاید آگے چل کر اس کے کچھ اثرات نظر آجائیں۔ لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ سارے کشمیری لیڈر ایک ساتھ آتے اور کوئی بھی بائیکاٹ نہیں کرتا۔ دوسری طرف جماعت اسلامی بھی ہمیشہ کی طرح منفرد بننے کے لئے بائیکاٹ کا اعلان کررہی ہے۔ کشمیری لیڈروں کے ساتھ ساتھ اس وقت اڈوانی صاحب بھی پاکستان میں موجود ہیں۔ یہ محض اتفاق ہے یا سوچا سمجھا منصوبہ؟ عرفان علی، گجرا، پاکستان: میرے خیال میں اگر ہم کم از کم کشمیر کو آزاد نہیں کرسکتے تو کم از کم ان کو ملنے تو دیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ کشمیر آزاد ہونے والا ہے کیوں کہ شہیدوں کا خون رنگ لانے والا ہے۔ محمد علی، ٹورانٹو: یہ دورہ صرف تفریح کے لئے، سید علی شاہ گیلانی کی شرکت کے بغیر اس وفد کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور اس کا کشمیری لوگوں کے اندر کوئی اثر نہیں ہے۔ شعیب بن عزیز، امریکہ: وہ ہوگا جو امریکہ چاہے گا۔ ان دکھاوے والے دوروں سے کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہونے والا ہے۔ اعظم شہاب، ممبئی: مجھے نہیں لگتا کہ اس دورے کے کوئی دور رس نتائج سامنے آئیں گے۔ کیوں کہ ہند و پاک کے لئے کشمیر اہم ہے، نہ کہ کشمیری۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے لیڈروں کا یہ بھرم ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں کشمیریوں کو شامل نہ کرنے کی وجہ سے اب تک کی اس ضمن میں تمام کوششیں بےکار ہوئی ہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ چاہے وہ پاکستان ہو یا انڈیا، امریکہ کی مرضی کے بغیر ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتے۔ اب اگر امریکہ نہ چاہے تو پورے کشمیری مل کر بھی کچھ نہیں کرسکتے۔ انڈیا و پاکستان کے درمیان جو حالیہ پیش رفت ہوئی ہے وہ بھی امریکہ کی نیک خواہشات کی ہی مرہون منت ہے۔ بےروزگار بابا، جرمنی: کشمیر کا مسئلہ انڈیا اور پاکستان کے ہاتھ میں ہے، یہ دو ملک مان جائیں تو کشمیریوں کو اپنا حق مل جائے گا۔ اللہ کرے کشمیریوں کو اپنا حق مل جائے۔ سید الطاف حیدر، مردان: کشمیر ایشو پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے۔ ڈائلاگ میں کشمیر کے لوگوں کو شامل کیا جانا چاہئے، اگر ڈائلاگ کے ذریعے اسے حل کیا جاسکتا ہے تو اکیسویں صدی کا یہ سب سے بڑا کرشمہ ہوگا۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: کشمیری رہنماؤں کے اس دورے سے سب کو ہی اچھی امیدیں ہیں اور انشاء اللہ امیدیں پوری ہوں گی۔ کیوں کہ جن کا مسئلہ ہے ان کی شمولیت ضروری تھی اور جب آج وہ ہوگئی ہے تو یقینا مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکل ہی آئے گا۔ مجھے تو صرف اس بات کی خوشی ہے کہ آج کشمیری رہنماؤں کو اس دورے سے اتنی خوشی ہوگی۔ اس دورے سے جنوبی ایشیا کے نقشے پر بھی اچھا ہی اثر ہوگا کہ امن کی کوششوں کی طرف اٹھایا گیا ہر قدم سنگ میل کی حیثیت ہوا کرتا ہے۔ اور یہ تو وہ سفر ہے جس کی مددت ستاون سالوں پر محیط ہے، سفر طوالت کو دیکھو تو ہر قدم خود ایک کہانی ہے، سو اتنی کہانیوں کی مدد سے جو بھی کچھ دکھ سامنے آئے ہیں وہ اتنے زیادہ ہیں کہ زمین کو مٹی کا رنگ تبدیل کرنا ہوچکا ہے، ہماری تو یہی دعا ہے کہ خدا سے جو بھی ہو اچھا ہو، بہت اچھا، کہ اب ان دکھیوں کے دکھوں کی اب انتہا ہوچکی ہے۔ اب اختتام ہوجانا چاہئے کہ دکھوں کی اور مظالم کی اب انتہا ہو چکی ہے، اب اختتام ہوجانا چاہئے۔۔۔ شیخ محمد یحیٰ، کراچی: دور کے ڈھول سہانے، کشمیری لیڈروں کو پاکستان بھجواکر انڈین گورنمنٹ یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ کشمیر میں امن ہے، دونوں طرف کے لوگ کہیں بھی آجاسکتے ہیں اور انڈیا کو اقوام متحدہ میں مستقل رکنیت ملنی چاہئے۔ خالد محمود راجہ، کوٹلی: علی گیلانی کے بغیر وہ کشمیر ایشو پر کوئی پیش رفت نہیں کرسکتے۔ علی گیلانی خودمختار ذہنیت کے شخص ہیں، کشمیریوں کے رہنما ہیں۔ وہ آ بھی سکتے ہیں اور کشمیریوں کو انڈین سے چھٹکارا مل جائے گا۔ اکرام، یو کے: اگر علی گیلانی نہیں آئے تو یہ صرف ہولیڈے وژِٹ ہے۔۔۔ نجم ولی خان، لاہور: یہ وقت بھی آنا تھا کہ قائد اعظم پر قاتلانہ حملے میں نامزد ملزم اور بابری مسجد کی شہادت کے مرکزی لیڈر اڈوانی کو پاکستان میں پروٹوکول ملنا تھا اور کشمیر میں پاکستان کی علامت علی گیلانی نے پاکستان آنے سے انکار کردینا تھا۔۔۔ جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے۔۔۔۔ امان اللہ خان آغا، کراچی: یہ سب ڈرامہ ہے، انڈیا دنیا کو دکھانے کے لئے اور ٹائیم پاس کرنے کے لئے یہ سب ڈرامے کرتا ہے۔ ان دوروں سے کبھی بھی مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا۔ دورے پر آنے والے کشمیری لیڈر بھی نہیں ہیں، انڈیا نے اپنی بات منوائی ہے پاکستان حالیہ دوڑ میں ہار گیا اور اپنے موقف سے ہٹ گیا ہے۔ اللہ ہی یہ مسئلہ حل کرے گا۔ عمران، امریکہ: اگر انڈیا کی نیت ٹھیک ہے تو جلد نتیجہ نظر آجائے گا، ورنہ علی گیلانی زندہ آباد۔ راجہ یونس، سعودی عرب: خدا کرے کہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں۔ لگتا ہے کہ ایجنسیز اپنا کام پورے انہماک سے کررہی ہیں۔ یہاں کشمیری قیادت کو بہت سمجھداری سے کام لینا ہوگا۔ کل تک طالبان بھی اسی طرح ہیلی کاپٹروں اور مرسیڈیز میں سفر کرتے تھے، پھر نظر بدل گیا اور آج کچھ بھی نہیں بچا۔ کشمیری قیادت میں بہت سینیئر اور مخلص لوگ موجود ہیں اور امید ہے کہ وہ ٹریپ نہیں ہوں گے۔ سارہ خان، پشاور: لگتا ہے کہ نصف صدی سے زیادہ چلنے والا ڈرامہ اب آخری قسط کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کشمیریوں کا خون پاکستانی اور بھارتی آرمی کے لئے بہت منافع بخش کاروبار تھا۔ لیکن شاید اب امریکہ یہ مسئلہ حل کرکے پاکستان سے ایٹومِک بم کے بارے میں بات کرے گا۔ اور مشرف کے لئے مزید پانچ سال بطور انعام مل جائیں گے۔ محمد سعید، کویت: ساری ڈرامہ بازی ہے مشرف اور امریکہ کی۔ اور سارا بینیفِٹ ہے انڈیا کو۔ کوئی بینیفِٹ نہیں ہے۔ انڈیا اینیمل ہے، اینیمل کی زبان سمجھے گا۔ طارق عباسی، جھنگ: میں ایک کشمیری ہوں اور مسئلے کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر رکھتا ہوں۔ میرے خیال میں پہلے حریت کو متحد ہونا چاہئے تھا اور پھر یہ دورہ ہونا چاہئے تھا۔ لیکن اب جب کہ وہ آگئے ہیں تو یہی کہوں گا کہ اپنے جد و جہد جاری رکھیں۔ لیکن پاکستانی گورنمنٹ سے توقع نہ رکھیں۔ یہ وہی کریں گے جو امریکہ کہے گا۔ بہر حال آزاد سرزمین پر آپ کا خیرمقدم۔ گل انقلابی سندھی، دادو: یہ صرف ایک فوٹو سیشن ہے، جنوبی ایشیا کے لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لئے۔ پاکستان کے پنجابی ایسٹیبِلِشمنٹ کے لئے یہ رہنما کبھی بلوآئیڈ بوائز نہیں تھے۔۔۔۔ راحت ملک، راولپنڈی: اللہ کرے کشمیریوں کی قربانی اور سب سے بڑھ کر پاکستان کی قربانیاں رنگ لائیں۔ رہی بات کشمیری رہنماؤں کی ان میں ہلکی سی آواز سنائی دیتی ہے کہ نہ ہم پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور نہ انڈیا کے ساتھ، تو مشورہ دوں گا کہ اس آواز کو اگر یہ دباکر مسلمانوں کے لئے کام کریں تو کامیابی ان کا قدم چومے گی۔ عمران خان سیال، کراچی: اس دورے سے کچھ بھی نہیں ہونے والا کیوں کہ پاکستانی گورنمنٹ اپنے پرانے موقف سے ہٹ گئی ہے اور اب وہ کچھ بھی کرلے فائدہ انڈیا کو ہی ہوگا کیوں کہ انڈیا اب بھی اپنے پرانے موقف پر قائم ہے۔ عارف جبار قریشی، سندھ: یہ مسئلہ کشمیر کی جانب ایک اچھی اور مثبت پیش رفت ہے۔ کیوں کہ دونوں ملکوں کے عوام اور سیاست دان اچھی طرح سمجھ گئے ہیں کہ مسئلے کا حل صرف مذاکرات اور امن سے ہی ہوگا۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: کشمیری رہنماؤں کے اس دورے سے سب کو ہی اچھی امیدیں ہیں اور انشاء اللہ یہ امیدیں پوری بھی ہوں گی کیوں کہ جن کا مسئلہ ہے ان کی شمولیت ضروری تھی اور جب آج وہ ہوگئی ہے تو یقینا مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکل ہی آئےگا۔ مجھے تو صرف اس بات کی خوشی ہے کہ آج کشمیری رہنماؤں کو اس دورے سے کتنی خوشی ہورہی ہوگی۔۔۔۔ |