مشرق وسطٰی میں جمہوریت کا فروغ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد سے بیروت اور قاہرہ سے یروشلم تک جمہوریت کی لہریں خطے کے مطلق العنان حکمرانوں کو پریشان کر رہی ہیں۔مشرق وسطٰی میں معاشرتی تحریکوں نےحکمرانوں کو چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے۔ مثلاً عرب دنیا کے سب سے بڑے ملک مصرمیں صدر حسنی مبارک، جن کی مطلق العنانی کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے، ملک میں منصفانہ انتخابات کے لیے رضامند ہو گئے ہیں۔ اگرچہ عرب دنیا میں ان تبدیلیوں کی صحیح نوعیت کے بارے میں کسی قسم کے حتمی نتائج نکالنا قبل از وقت ہوگا لیکن یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ عرب دنیا میں سِول سوسائٹی یا معاشرتی گروپ مضبوط ہو رہے ہیں اور سیاسی بیداری کی ایک تڑپ پیدا ہو چکی ہے۔ مشرق وسطٰی میں سیاسی بیداری کے اس موڑ پر مغرب کی طرف سے جمہوریت پسندگروپوں کی نشوونما میں محتاط مدد ان کی کامیابی کے لیے بہت ضروری ہے۔ مشرق وسطٰی میں بسنے والے عرب اور مسلمان مطلق العنان حکمرانوں سے زچ آ چکے ہیں۔ ان حکمرانوں نے وعدہ تو ہمیشہ جنت کا کِیا لیکن جب دینے کی باری آئی تو اپنے لوگوں کو سوائے خاک اور ظلم کے کچھ نہیں دیا۔ عرب دنیا میں جمہوری خیالات میں اضافہ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہےکہ اسلامی کلچر میں ایسی کوئی چیز نہیں جس کا جمہوریت کے ساتھ ٹکراؤ ہے۔ باقی دنیا کے مسلمانوں کی طرح، عرب دنیا نے بھی سیاسی گھٹن اور دباؤ سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوششیں کی ہیں مگر ان کو زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔مغربی دنیااور خاص طور پر امریکہ کا ’شکریہ‘ جنہوں ان ملکوں میں ہمیشہ طاقتور ڈکٹیٹروں کا ساتھ دیا۔ مشرق وسطٰی میں مغرب کی جانب سے غیر جمہوری حکومتوں کی حمایت کے تاریخی اسباب بھی ہیں۔ نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ پر ان ممالک میں جن لوگوں نے حکومتیں سنبھالیں ان میں سے اکثر کا تعلق فوج یا سیکورٹی اداروں سے تھااور ہم جانتے ہیں کہ اس قسم کے اداروں کی فطرت میں ہی درجہ بندی، سختی اور نہ سننے کی عادت ہوتی ہے۔ نوآبادیاتی ریاستوں نے ہمیشہ معاشرتی اداروں کی بجائے فوج اور سیکورٹی کے اداروں کو مضنوط کرنے پر توجہ دی کیونکہ ان کا اولین مقصد مقامی لوگوں کو کنٹرول کرنا تھا۔ پچھلی صدی کے دوران پچاس اور ساٹھ کی دھائیوں میں مصر، شام، عراق، سوڈان اور لیبیا سمیت کئی عرب ملکوں میں جوان فوجی افسروں نے بغاوتیں کیں اور برطانیہ اور فرانسیسی آقاؤں کے اشاروں پر ناچنے والی حکومتیں کو اقتدار سے باھر کر دیا۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سامراجی حکومتوں نے ان ممالک میں لوگوں کو آئینی اور جمہوری انداز حکومت سے کتنا دور رکھا ہوا تھا۔ گزشتہ عشرے کے دوران مشرق وسطٰی میں حکومتوں کے بگڑتے ہوئےمعاشی حالات کی وجہ سے عوام کی مایوسی میں مزید اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ان ممالک میں غیر ملکی آقاؤوں کی پسندیدہ حکومتوں کے خاتمے سے سب سے زیادہ فائدہ اسلام پسند طاقتوں کو ہوا ہے۔ اسلام پسند ان ممالک میں سب سے زیادہ مقبول گروپ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان کی اس کامیابی کا راز اس بات میں ہے کہ انہوں نے عوام کی بروقت معاشی اور معاشرتی مدد کی۔ بجائے اس کے کہ حکمران لوگوں کے اصل مسائل حل کرتے اور ان کی ہمدردی لیتے، انہوں نے اسلامی شدت پسندی میں اضافہ کا بہانا بنا کر اپنے اپنے اقتدار کو مضبوط کیا۔ آخری عشرے کے برعکس اب ہم عرب دنیا میں سوشل یا معاشرتی تحریکوں کے ابتدائی خد وخال دیکھ سکتے ہیں۔یہ تحریکیں ایک بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ہوسکتی ہیں۔ چاہے ان تحریکوں کی نوعیت ملازمین کی یونین کی ہو یا طلبہ اور خواتین کے گروپ کی، نئی سوشل تحریکیں بہت مستعد ہیں اور اپنی مطلق العنان حکومتوں کو پر زور طریقے سے چیلنج کر رہی ہیں۔ اس کا کریڈٹ نئے ذرائع ابلاغ کو بھی جاتا ہے کیونکہ انہی ذرائع کی وجہ سے اب مشرق وسطٰی کی حکومتوں کے لیے خبروں کو چھپانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ نتیجتاً اب مسلمان دنیا میں انسانی حقوق کے احترام، شفاف حکومت اور پر امن طور پر تبدیلئ اقتدار جیسے امور پر اتفاق رائے ہوتا جا رہا ہے۔ حتٰی کہ اخوان المسلمون جیسی طاقتور اور بین الاقوامی جماعت بھی ان باتوں کی قائل ہو چکی ہے۔ اب اخوان کا کہنا ہے کہ سیاسی مطلق العنانی کو روکنے اور امتِ مسلمہ کے انسانی حقوق کے تحفظ کا بہترین ذریعہ جمہوریت ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ بات بھی سچ ہے کہ عرب اور مسلمان لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی نظر میں جمہوریت اور مغرب کی سیاسی اجارہ داری، ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ ان کی نظرمیں جمہوریت کے نام پرمغربی دنیا عرب ملکوں کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کر کے لوگوں کو تقسیم کرنا چاہتی ہے تا کہ وہ خود ان پر قبضہ کر سکے۔ گزشتہ عشرے کے دوران مسلمان دانشوروں نے لبرل ڈیموکریسی یا جمہوریت کے نظریہ کو عام فہم اسلامی نظریات کی روشنی میں سمجھانے کے لیے قابل قدر کوششیں کی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں مسلمان جمہوریت پسندوں نے جمہوریت اور جدیدیت کے نظریہ کو اس کے مغربی لبادے سے آزاد کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ انہوں نے اس سمت میں خاصہ کام کر لیا ہے تاہم ابھی منزل بہت دور ہے۔ آج کے دور میں دو طرح کے رویے باہم متوازی چل رہے ہیں۔ایک ہے عیسائی دنیا میں مسلمانوں کے خلاف جذبات میں اضافہ اور دوسرا اسلامی دنیا میں مغرب کے خلاف جذبات میں اضافہ۔ صدر بُش کی پالیسیوں اور ارادوں کے بارے میں عرب اور دیگر اسلامی دنیامیں بہت شکوک پائے جاتے ہیں۔ ان کو صدر بُش کے ناقص جمہوری خیالات ماننےمیں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔ مسلمان سمجھتے ہیں کہ جمہوریت جو راگ صدر بُش الاپ رہے ہیں اس کا مقصد امریکی عوام کو یہ باور کرانا ہے کہ امریکہ عراق پر حملہ کرنے میں حق بجانب تھا۔ جمہوریت کو عام کرنے کے لیے بڑی طاقتوں، خصوصاً امریکہ کی طرف سے اسلامی ممالک پر حملوں کو شدید مخالفت کا سامنا ہے۔
دوسری جانب، مغربی دنیا میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد خلاف اسلام جذبات بڑھ چکے ہیں۔ حتٰی کہ فرانس اور ہالینڈ جیسے معاشروں میں جہاں عام لوگوں میں برداشت بہت زیادہ ہے، اسلام کے خلاف آوازوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ مسلمان ملکوں میں جمہوریت پسند لوگوں کودونوں طرف سے پریشانی کا سامنا ہے۔ نہ تو وہ مغرب میں بڑھتے ہوئے خلاف اسلام جذبات کو پسند کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب انہیں یہ فکر بھی لاحق ہے کہ عرب اور اسلامی دنیا کے اندرونی معاملات میں امریکہ کی مداخلت کے خلاف جذبات آپے سے باہر نہ ہوجائیں۔ان لوگوں کے خیال میں اسلامی ملکوں میں حکومتوں پر جمہوریت کے لیے دباؤ امریکہ کی بجائے اقوام متحدہ کی طرف سے آنا چاہیے۔ ان حقائق کے پیش نظر یہ کہنا درست ہوگا کہ اسلامی دنیا میں جمہوریت عام کرنے کے ساتھ ساتھ، مغرب میں اسلام کے بارے میں بڑھتے ہوئے خوف اور اسلامی دنیا میں امریکہ کے خلاف جذبات، دونوں کےاصل اسباب کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے اور اگلے مرحلے میں ان اسباب کو ختم کرنے کے لیے ایک باقاعدہ جدوجہد کی جانی چاہیے۔ اس وقت واشنگٹن سے جو پیغام آ رہا ہے اس میں کسی حد تک حالات کی بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اس پیغام میں امریکہ کی خارجہ پالیسی بہتر ہونے کے امکانات بھی دکھائی دے رہے ہیں اورمشرق وسطٰی میں معاشرتی بہتری کے آثار بھی۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اب واشنگٹن میں ایک نئی سوچ سامنے آرہی ہے جس میں اس بات کا اعتراف موجود ہے کہ مشرق وسطٰی میں جمہوری طاقتوں کی حمایت اور ڈکٹیٹر حکومتوں کی مخالفت ہی مسئلہ کا بہترین حل ہے۔ اب وقت ہی بتائےگا کہ یہ نئی سوچ خارجہ پالیسی بناتے وقت بھی سامنے رکھی جائےگی یاامریکی پالیسی ساز اپنے پرانے طور طریقوں پر ڈٹے رہیں گے اور عرب ڈکٹیٹروں کے ساتھ لین دین جاری رکھیں گے۔ امریکہ کے لیے یہ بہت بہتر ہوگا کہ وہ مشرق وسطٰی میں ترقی پسندانہ تحریکوں کی مدد کے لیے عالمی برادری کی مدد لے۔ عالمی برادری مل کر مشرق وسطٰی کے حکمرانوں پر سیاسی، معاشی اور سفارتی دباؤ ڈال کر انہیں اپنےعوام کی آواز سننے پر مجبور کر سکتی ہے۔اس قسم کی کسی بھی کوشش کے نتائج عراق پر امریکی حملہ سے، بہرحال بہتر ہوں گے۔ امریکہ کے لیے یہ بات جاننا بھی بہت ضروری ہے کہ عمل کرنا، باتیں کرنے سے زیادہ موثر ہوتا ہے اور یہ بھی کہ جمہوریت کے پنپنے کے لیے ضروری ہے کہ عرب اسرائیل تنازعہ کو حل کیا جائے۔ اس کے علاوہ علاقے میں غریب امیر کے فرق کو ختم کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ یہ فرق شدت پسندی اور مسلح جدوجہد کا اصل سبب ہے۔ یہ اقدامات کرنے کے بعد ہی مشرق وسطٰی میں جمہوری تبدیلی لانے کے اس تاریخی موقع سےفائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ فواز اے گرجیس، سارہ لارنس کالج میں مشرق وسطٰی اور بین الاقوامی امور کے ماہر ہیں۔ ان کی ایک کتاب the far enemy:why jihad went global کیمبرج یونیورسٹی پریس اس سال ستمبر میں شائع کر رہا ہے۔ یہ مضمون بی بی سی اردو آن لائن اور ییل سنٹر فار دی اسٹڈی آف گلوبلائزیشن کے اشتراق سےشائع کیا جارہا ہے اوراس کےکاپی رائٹس ییل گلوبل کے پاس محفوظ ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||