پاکستان میں فوجی حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے مقامی قبائلی جنگجوؤں کو بڑی رقم القاعدہ کا قرضہ چکانے کے لیے ادا کی تھی۔ پشاور میں کور کمانڈر لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین نے بتایا کہ القاعدہ کی مدد کے الزام میں انتہائی مطلوب قبائلیوں حاجی شریف اور مولوی عباس کو حکومت نے ڈیڑھ ڈیڑھ کروڑ روپے جبکہ مولوی جاوید کرمزخیل اور حاجی عمر کو دس دس لاکھ روپے نقد ادا کئے گئے تھے۔ صفدر حسین نے کہ حکومت نے بیت اللہ محسود کو بھی دو کروڑ روپے کی پیشکش کی تھی لیکن انہوں نے اسے ٹھکرا دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ پیشکش اس لیے کی کہ شاید کہیں اسے بھی القاعدہ کا قرضہ اتارنا نہ ہو۔ پہلی مرتبہ حکومتِ پاکستان نے القاعدہ کے ارکان سے جان چھڑانے کے لیے قبائلیوں کو ایک بڑی رقم ادا کرنے کا دعوی کیا ہے۔ آپ کا اس پر کیا ردِّعمل ہے؟ کیا حکومت نے یہ صحیح قدم اٹھایا ہے؟ کیا قبائلی علاقوں میں جاری آپریشن کے خاتمے کی وجہ قبائلیوں کو دی جانے والی رقم ہے؟ کیا اس سے القاعدہ کے خاتمے میں مدد ملے گی؟ یہ فورم اب بند ہوچکا، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں
طیب چودھری، کینیڈا: سب سے پہلے، دنیا میں القاعدہ کا وجود نہیں ہے۔ یہ ایک سازش ہے جسے امریکہ نے مسلم دنیا کے خلاف کھڑا کیا ہے۔ پاکستانی حکومت یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ یہ قبائل القاعدہ کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔ محبوب امام، ہیوسٹن: دوسرے الفاظ میں حکومت نے قبائل کے سامنے سرنڈر کردیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قبائل کتنے طاقتور ہیں۔ عمیر، نیویارک: میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ القاعدہ سے انہوں نے پیسے لیے۔ کل وہ انڈیا، ایران اور افغانستان سے پیسے لے لیں گے، کب تک ہم ان کے ہاتھ میں کھیلیں گے؟۔۔۔۔  | پیسہ دینے کا جواز؟  مجھ پر میرے دوست کا دس لاکھ کا قرضہ ہے۔ اگر میں حکومت کے خلاف لڑوں تو کیا حکومت مجھ کو بھی قرضہ ختم کرنے کے لئے پیسے دے گی؟ اگر قبائل پر کسی قسم کا قرضہ تھا تو اس کا حکومت سے لڑنے کا کیا تعلق؟  وحید رحمان، یو کے |
وحید رحمان، یو کے: مجھ پر میرے دوست کا دس لاکھ کا قرضہ ہے۔ اگر میں حکومت کے خلاف لڑوں تو کیا حکومت مجھ کو بھی قرضہ ختم کرنے کے لئے پیسے دے گی؟ اگر قبائل پر کسی قسم کا قرضہ تھا تو اس کا حکومت سے لڑنے کا کیا تعلق؟ چلوں حکومت نے پیسے دیے بھی، سوال یہ ہے کہ وہ اسلحہ کہاں گئے؟ کیا یہ نہیں ہونا چاہئے تھا کہ ہم آپ کو پانچ کروڑ دیتے ہیں قرضے کے لئے لیکن ان پر جو ہتھیار آئے ہیں وہ ہمارے حوالے کردیں۔۔۔۔۔ کامران منور، لاہور: یہ ٹھیک ہے کیوں کہ ملٹری آپریشن میں کافی جانیں گئیں اور کافی پیسہ صرف ہوا۔ اقبال حسین، ٹورانٹو: یہ پاک و ہند کی تاریخ کا حصہ ہے کہ ان قبائل کو سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے حکومت دوسری مراعات کے علاوہ نقد رقم بھی دیتی ہے اور ایسی رشوت انگریزوں کے دور میں بھی ملتی تھی۔۔۔۔ لیاقت سید، حسین آباد: اگر یہ پیسہ امریکہ کے فنڈ سے دیا گیا تو اٹھیک ہے کیوں کہ امریکہ کہ مزید پیسہ خرچ کرنا ہے۔ عاطف مرزا، آسٹریلیا: یہ واضح ہوگیا ہے کہ یہ قبائلی کتنی لالچ میں ہیں۔ وہ صرف پیسہ چاہتے ہیں۔ اگر القاعدہ انہیں زیادہ پیسہ دے تو وہ اپنا موقف بدل سکتے ہیں۔ میں عام آدمی کے لئے افسوس کرتا ہوں۔۔۔۔وہ ہمیشہ غریب رہے گا اور ان کے رہنما پیسے کمانے کے ہر موقع کا فائدہ اٹھائیں گے، سب سے بری بات یہ ہے کہ انہیں ہم سچا مسلمان کہتے ہیں۔ کریم خان، میڈرِڈ: پاکستان کی حکومت کے پاس رشوت دینے کی پالیسی پہلے سے ہی تھی، اس وقت سے جب یہ نیا ملک پیدا ہوا تھا۔ انہوں نے قبائلیوں کو رشوت دے دی اور اس کا نیا نام پاکستان رکھ دیا۔۔۔۔۔ خالد فاروقی، لندن: بہت عجیب سی بات ہے کہ جن لوگوں کو گورنمنٹ نے پیسہ دیا ان لوگوں نے ان لوگوں کی نشاندہی نہیں کہ جو القاعدہ سے تعلق رکھتے تھے، اب انہوں نے القاعدہ کا قرضہ کسی سووِس بینک میں جمع کروا کر تو نہیں۔۔۔۔ نجیب اللہ خان بلوچ، نیوزی لینڈ: امن کو پیسے سے نہیں خریدا جاسکتا۔ پاکستان کے ایک ہاتھ میں بندوق ہے اور دوسرے ہاتھ میں پیسہ ہے۔ پاکستان اپنے مخالفین چاہے ہو بلوچستان میں ہوں گے، چاہے وہ سندھ اور سرحد میں ہوں، چون چون کر ماریں گے۔ پاکستان نے القاعدہ کی مالی مدد کررکے خود کو القاعدہ کے ممبر ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ اب امریکہ کو پاکستان پر بھی اپنی آرمی بھیجنے کا موقع ملا۔۔۔۔ علی شرافت، سویڈن: کسی کو معلوم نہیں کہ کس طرح کا گیم ہورہا ہے ہمارے پیارے ملک میں۔ مجھے اس بات پورا یقین ہے کہ قبائلی لوگوں کو آپ پیسے سے نہیں خرید سکتے ہیں۔ عارف جبار، سندھ: یہ سارا معاملہ عجیب ہے، کبھی قبائلیوں پر گولی چلتی ہے، تو کبھی رقم مل رہی ہے۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ رقم ملنے کے بعد امن ہو جائے گا؟۔۔۔۔ حسن طارق، کینیڈا: وہ لوگ کیا بات کررہے ہیں؟ رشوت کا سیدھا کیس ہے۔ ایسا ہی ان نام نہاد لیڈروں کا ہے جنہوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاکر حکومت سے پیسے لیے۔ یہ لوگ مقامی لوگوں کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں۔ ۔۔۔۔ منصور علی، ڈنمارک: پتہ نہیں یہ کیا ڈرامہ ہورہا ہے، مجھے تو کوئی یقین نہیں ہے۔ شریف خان مری بلوچ، بلوچستان: پاکستان کی پالیسی، لاہور کے فیشن اور کوئٹہ کے ویدر پر کبھی بھی یقین نہیں کرنی چاہئے۔ پاکستان نے انہی لوگوں کو روش کی حکومت توڑنے کے لئے اسلحہ دیا تھا۔ پھر اسی طالبان کی حکومت کو امریکہ کے ساتھ مل کر توڑ دیا گیا۔ اب وہی طالبان پاکستان کے گلے میں فِٹ ہوگئے۔ اب معاملہ پاکستان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ لوگوں میں اویئرنیس پید ہوگئی ہے۔ وہ آسانی سے اپنے حقوق پاکستان کو کھانے نہیں دیں گے۔۔۔۔ کلاچی بلوچ، پاکستان: پیسے سے ایمان نہیں خریدا جاتا۔ ذیشان طارق، سیالکوٹ: یہ تو پھر کسی قسم کا جہاد نہ ہوا، صرف پیسے کا مسئلہ ہوا نہ، ہم لوگوں کو شاید یہ خبر پڑھ کر عقل آجائے کہ جن لوگوں کو ہم اسلامِک ہیروز کا درجہ دیتے ہیں وہ کس طرح پیسوں کے بل بوتے پر نام نہاد مجاہدین تیار کرتے ہیں اور شاید ان مولوی حضرات کو بھی تھوڑی شرم آجائے جو ان نام نہاد جہادی ہیروز کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔۔۔۔۔ عمر، نارتھ کیرولائنا: القاعدہ دہشت گردی کے بزنس میں ہے، یہ تو معلوم تھا۔ لیکن انہوں نے بینک بھی کھول لی ہے یہ نہیں پتہ تھا۔۔  | پیسہ کھیل تماشہ دیکھ۔۔۔۔  پاکستان نے یہ سوچ لیا ہے کہ گولی سے حالات قابو میں نہیں آئیں گے۔ اب وہ پیسہ پھینک تماشہ دیکھ والا کھیل کھیل رہا ہے جو کہ وزیرستان والوں کے لئے نہایت خطرناک ہوگا۔۔۔۔  حیات خان مری بلوچ، بلوچستان |
حیات خان مری بلوچ، بلوچستان: پاکستان نے جو پیشکش وزیرستان والوں کو کی ہے وہ در اصل ان کے لئے موت کی گھنٹی ہے۔ پاکستان نے یہ سوچ لیا ہے کہ گولی سے حالات قابو میں نہیں آئیں گے۔ اب وہ پیسہ پھینک تماشہ دیکھ والا کھیل کھیل رہا ہے جو کہ وزیرستان والوں کے لئے نہایت خطرناک ہوگا۔۔۔۔ اسد جعفری، ٹورانٹو: دنیا بھر میں القاعدہ کے اسیٹ کو فریز کیا جارہا ہے اور پاکستان القاعدہ کو فائننس کرنے کی بات کررہا ہے۔ مگر قرضے اتروانے کے لئے پیسے دیے گئے تو پھر اس وار اگنسٹر ٹیرِزم کی ضرورت نہیں۔ پاکستان ملٹری کو چاہئے کہ بلوچستان کا مسئلہ حل کرے۔۔۔۔ محمد بکس بابر: پیارا پاکستان بننے سے لیکر آج تک حکمرانوں نے ایسے فیصلے کیے ہیں جن کی وجہ سے ملک آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے جارہا ہے۔ اگر قبائلوں کو پیسے دیکر دہشت گردی ختم کرنی تھی تو سینکڑوں جانیں ضائع اور ہزاروں گھروں کو بےگھر کرنے کی کیا ضرورت؟۔۔۔۔ حسیب جان، پشاور: میرے خیال میں حکومت نے لوگوں کو آمدنی کا ایک نیا ذریعہ دکھا دیا ہے۔ اب کوئی بھی اپنے کو القاعدہ سے منسلک بتاسکتا ہے اور حکومت سے پیسے حاصل کرسکتا ہے، القاعدہ سے ساتھ چھوڑنے کے نام پر۔۔۔۔ عارف حسین، سویڈن: جنوبی وزیرستان میں کتنے حاجیوں اور مولویوں کو خریدنے کی ضرورت ہے؟ یہ سوال انگیز بات ہے کہ جہادیوں کو سٹیسفائی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن کسی بھی امن کی گارنٹی نہیں دے سکتا۔ اس طرح کے قرضوں سے استحکام نہیں آسکتا ہے۔۔۔۔ علی، گلاسگو: یہ فوج اور فوجی حکمرانوں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس نے ہمیشہ میدان جنگ سے پسپائی اختیار کی ہے، جیسا کہ کارگل میں اور جس کا مقصد کسی نہ کسی طرح اپنے ہی ملک پر قابض رہنا ہے اور ڈیفنس کے نام پر قومی دولت لوٹنا اور اپنے فرض سے اور ملک و قوم سے غداری اور عوام کو ان کے بنیادی حقوق اور حق جمہوریت سے محروم رکھنا ہے اور منتخب نمائندوں کا استحصال کرنا ہے۔ جیسیکا پارکر، ٹورانٹو: القاعدہ کو فائننس کرنے کا یہ نیا طریقہ لگتا ہے۔ اگر حکومت کو یہ معلوم ہے کہ یہ لوگ کون ہیں جنہیں یہ دیا جارہا ہے، تو انہیں یہ بھی معلوم ہوگا کہ اسامہ بن لادن کہاں ہیں۔۔۔۔۔ عباس اعوان، لاہور: رژلٹ حاصل کرنے کے لئے حکومت نے ان کی مدد کرنے کی کوشش کی، ان کے قرضے دینے کی کوشش کی، میں حکومت کی کوشش کو سراہتا ہوں۔ خدیجہ سراج، کراچی: پاکستان کی فوج، جہاد کے سمراٹ کو یہ کہہ کر ذائل کرنا چاہتی ہے کہ ان قبائلیوں نے صرف پیسے کے لئے ان کا ساتھ دیا تھا۔ ورنہ وہ دل سے ان کے ساتھ نہیں تھے، یہ ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ، رکھنے والی فوج کا کام ہرگز نہیں ہے۔ دراصل مشرف فوج کو سیکولر فوج کے روپ میں دنیا کو دیکھانا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔ نواز بھٹہ، لاہور: قبائلی پیسے کی زبان جلدی سمجھتے ہیں۔ حکومت نے بالکل ٹھیک کیا ہے۔ شہزاد حنیف، بارسیلونا: سلام، میرے خیال میں یہ سب کھیل ہے، دنیا کی آنکھ میں مرچ جھونکے والی بات ہے۔  | حمام میں سبھی ننگے ہیں۔۔۔۔  شاید پاکستان کے معصوم عوام اب تک یہ سیاست سمجھ چکے ہوں گے کہ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔ چاہے وہ چودھری مشرف ہوں، یا وہ بی بی بینظیر یا پاکستان کا بیگیسٹ شریف یعنی نواز شریف ہوں۔۔۔۔  ارشد سید، ناروے |
ارشد سید، ناورے: ان لوگوں سے مملکت کی جان نہیں چھوٹ سکتی۔ یہ سب ریچ کنٹریز کو بلیک میل کرنے کا ذریعے ہیں۔ اگر بات خالی انتی سی رقم کی ہے تو جلدی سے تمام مولویوں کو اس طرح کے وضائف دے کر فریق کریں۔ شاید پاکستان کے معصوم عوام اب تک یہ سیاست سمجھ چکے ہوں گے کہ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔ چاہے وہ چودھری مشرف ہوں، یا وہ بی بی بینظیر یا پاکستان کا بیگیسٹ شریف یعنی نواز شریف ہوں۔۔۔۔ محمد احمد مفتی، کینیڈا: ثابت ہوتا ہے کہ جنگ اور محبت میں سب جائز ہے۔ ویسے آپ کو یہ کیسے معلوم کہ فوج نے جتنے رقم کی ادائیگی کا دعویٰ کیا ہے اتنی ادا بھی کرے گی۔ یقین نہیں آتا کہ رقم کا گورکھ دھندا ہو اور فوج کے ہاتھ صاف رہیں۔ انعام اللہ حسن، مالاکنڈ: یہ کیا عجیب اتفاق ہے کہ ایک طرف حکومت دوسرے ممالک کے جو قانونی قرضہ واپس نہیں کرسکتی، دوسری طرف غیرقانونی قرضہ لٹا رہی ہے۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے، ایک طرف لوگ بھوک سے مررہے ہیں دن بہ دن قرضدار ہوتے جارہے ہیں، بےروزگار ہیں، ایم این اے اور ایم پی اے ہمارے ملک کے نام پر جو قرضے لے رہے ہیں وہ خود ہی ہضم کررہے ہیں۔ اگر یہ القاعدہ کے پیسے واپس کرسکتے ہیں تو ہر ملک کا قرضہ واپس کیوں نہ ہو؟ جاوید قریشی، بینگ کاک: میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کو چاہئے کہ سختی سے دہشت گردی کا مقابلہ کرے، اور اس کی حمایت نہ کرے۔ سید شاہ، شیکاگو: کوئی القاعدہ نہیں ہے، یہ حکومت کی خفیہ ڈیل ہوسکتی ہے۔ اور حکومت اپنی عزت بچانے کے لئے پیسہ دے رہی ہے۔ عبدالظہور، ریاض: پہلی بات تھو یہ ہے کہ القاعدہ کوئی بینک یا ادارہ نہیں ہے کہ لوگوں کو قرض دیتی ہوگ۔ دوسری بات یہ ہے کہ پیسے قبائلی سرداروں کو سیاسی رشوت کے طور پر دیے گئے ہیں جوکہ لڑنے والے سردار نہیں بلکہ عام لوگ ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ بیت اللہ محسود نے دو کروڑ کو ٹھکرا دیا۔ اگر یہ آفر کسی پاکستانی افسر کو ہو جائے تو کیا وہ انکار کرسکے گا؟ محمد نشاط، منیلا: حد ہوگئی جی اب پاک آرمی اس حد تک بھی کرے گی کبھی سوچا نہیں تھا۔ آج اتنی بڑی رقم فاٹا کے لوگوں کو دی ہے کل اس سے بھی زیادہ کسی اور کو دیں گے کیا جناب؟ فیصل رفیق، کویت: ہاں حکومت نے بالکل صحیح کیا ہے۔ ایسا ہی کرناج چاہئے تھا۔ کیوں کہ ایسا کرنے سے پاکستان میں امن ہوگا۔  | قبائل پیسے کے لئے نہیں مرتے۔۔۔  قبائل سب کچھ کر سکتے ہیں لیکن اپنے شہیدوں کا خون رقم کے بدلے نہیں بیچ سکتے۔ لیکن پھر بھی اگر ان لوگوں نے یہ رقم وصول کی تو یہ حکومت کی کمزوری کی بہت ہی مضبوط دلیل ہے۔ اور جن لوگوں نے یہ رقم وصول کی وہ وزیرستان کی مٹٹی پر ایک بدنما داغ ہیں۔  سارہ خان، پشاور |
سارہ خان، پشاور: پشتو میں ہم کہتے ہیں کہ ’سچ جب پہنچتا ہے تو جھوٹ نے گھروں کو برباد کیا ہوتا ہے‘۔ یہ حکومت کے قبائلوں کو لڑان ےکی ایک اور چال ہے۔ قبائل سب کچھ کر سکتے ہیں لیکن اپنے شہیدوں کا خون رقم کے بدلے نہیں بیچ سکتے۔ لیکن پھر بھی اگر ان لوگوں نے یہ رقم وصول کی تو یہ حکومت کی کمزوری کی بہت ہی مضبوط دلیل ہے۔ اور جن لوگوں نے یہ رقم وصول کی وہ وزیرستان کی مٹٹی پر ایک بدنما داغ ہیں۔ لیکن ہم پرامید ہیں کہ وزیرستان کے لوگ ایسا کبھی نہیں کرسکتے۔ ندیم نعمان، امریکہ: میرے خیال سے پاکستان کی گورنمنٹ یورپ اور امریکہ کو پریشرائز کرنا چاہتی ہے، اسے پیسہ چاہئے، اس لئے وہ گیم کھیل رہی ہے۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ یہ قبائلی لوگ پیسے کی لالچ نہیں کرتے۔ زین ملک، گجرات: میری رائے یہ ایک اچھی بات ہے کیوں کہ حکومت کی کو مدد کرنی چاہئے ان لوگوں کی تاکہ یہ لوگ القاعدہ سے جان چھڑا سکیں۔ مجھی یہی امید تھی مشرف کی حکومت سے۔ |