امریکی تارکین وطن: گلوبلائزیشن کے معمار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گلوبلائزیشن اور روز گار کے مواقع دوسرے ملکوں میں جانے کی وجہ سے امریکہ کے مرکزی خطوں میں بہت سے پرانے چھوٹے صنعتی شہر اب ختم ہو رہے ہیں۔ لیکن ساتھ ساتھ گلولائزیشن کی وجہ سے ہی دنیا کے مختلف کونوں سے تارکین وطن امریکہ آئے ہیں جس کی وجہ سے کئی دوسرے علاقوں میں کاروباری اور صنعتی زندگی بحال ہوئی ہے۔ امریکہ میں اٹلانٹا ایک اچھی مثال ہے کہ کس طرح روزگار کی نقل مکانی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ اٹلانٹا کی مضافاتی کاؤنٹیوں میں جہاں پہلے سستی جائیداد، اچھے سکول اور کم ٹیکس جنرل موٹرز جیسے کاروبار کے لیے کشش کا باعث تھے، اب تارکین وطن اور غیرملکی مزدور کاروبار کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ تاریخی لحاظ سے عام طور پر تارکین وطن کاروباری مراکز کے قریب شہری علاقوں میں رہتے ہیں لیکن اٹلانٹا میں یہ لوگ شہری زندگی کو چھوڑ کر ڈیکالب کاؤنٹی کے مضافات میں ڈیرے ڈال رہے ہیں۔ آبادکاری کے اس نئے انداز کی وجہ سے امریکہ کے مضافات میں ایک ڈرامائی تبدیلی آرہی ہے اور اٹلانٹا جیسے شہروں میں معاشی اور کاروباری استحکام بھی لا رہی ہے۔ ویت نام، چین، میکسیکو، بوسنیا اور نائجیریا سے آئے ہوئے لوگ اب اٹلانٹا شہر کو اپنا گھر کہتے ہیں۔ ان نئے تارکین وطن میں مہم جو سرمایہ کاروں یعنی وینچر کیپٹالِسٹ سے لے کر چھوٹے کاروباری لوگ اور مزدور بھی شامل ہیں اور یہ تمام اٹلانٹا کی پھلتی پھولتی معیشت میں مواقع کی تلاش میں ہیں۔
ماضی میں تارکین وطن کی پھلتی پھولتی برادری صرف شہری علاقوں میں ہی ملتی تھی۔ انیسویں صدی میں جب تارکین وطن کی پہلی بڑی لہر شروع ہوئی تو نئے آنے والے شہر کے وسطی علاقوں میں رہتے جہاں وہ ایک دوسرے کی مدد پر انحصار کرتے۔ زیادہ اور قدرے ہم نسلی آبادیوں میں نئے آنے والے لوگ اپنے ہم وطنوں سے مدد حاصل کرتے تا کہ روزگار کی تلاش کر سکیں اور آسانی سے امریکہ کے سماجی اور قانونی مراحل کو طے کر سکیں۔ نئے آنے والے لوگ اپنی نسل، زبان، مذہب اور ثقافت میں زیادہ پر سکون رہ سکتے تھے۔ جلد ہی ایسی آبادیاں جو نسلی اور ثقافتی اعتبار سے الگ تھیں جیسے ’چائینا ٹاؤن‘ اور ’لٹل اٹلی‘ امریکی شہروں میں ایک مختلف خدوخال لے کر آئے۔ امریکہ کے شمال مشرق اور جنوب کے وسط میں پر شروع میں بہت سے تارکین وطن نے ڈیرے جمائے وہاں اب روزگار کے مواقع کی مزید کوئی گنجائش نہیں۔ نیویارک، سان فرانسیسکواور لاس اینجلس جیسے شہروں سے تارکین وطن کی پہلی نسل اب کاروبار کے نئے مواقع کی تلاش میں ایسے شہروں کا رخ کر رہے ہیں جہاں تاریخی طور پر بہت کم تارکین وطن گئے تھے۔ اسی کی دہائی میں میکسیکو کے تارکین وطن کو ٹیکساس اور لوئی زیانا میں تیل کے کاروبار میں زوال کے بعد جارجیا میں تعمیراتی کمپنیوں میں روزگار مل گیا۔ ان کمپنیوں کو سستے مزدور مل گئے اور جو ٹریڈ یونین کے مسائل سے مبرا تھے۔ جواب میں ان مزدوروں کو پہلے کی نسبت زیادہ بہتر زندگی ملی۔ نئی جگہ جانے کی وجہ سے آہستہ آہستہ روزگار کے ایسے مواقع سامنے آئے جن میں فاسٹ فوڈ کے دکانوں میں کام اور زمین استوار کرنا شامل تھا۔ تارکین وطن کے محنت کش طبقے نے ان مواقع کا خوب فائدہ اٹھایا اور مزدوروں کی ضرورت کو پورا کیا۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے بھی اٹلانٹا کی معاشی ترقی کا مطلب ہے کہ پیشہ وارانہ روزگار اور تحقیق کے شعبوں میں بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ زیادہ ممکن ہے کہ تارکین وطن کا یہ متوسط طبقہ ڈیکالب کی نسلی اور ثقافتی لحاظ سے الگ آبادی کی بجائے نئی مضافاتی آبادیوں میں بسیں گے۔ تا ہم ان کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے تارکین وطن کی بے شمار نسلی تنطیموں کو، جن میں مذہبی ادارے اور برادری کے مرکز شامل ہیں، جنم دیا ہے۔
گو روزگار کے زیادہ مواقع اب بھی شہروں میں ہیں تاہم تارکین وطن اپنی آبادیاں بڑے شہروں کے باہر بنا رہے ہیں۔ جارجیا آنے والے بہت سے تارکین وطن اٹلانٹا کے وسط میں آباد نہیں ہو رہے بلکہ اس کے مضافات میں بسیرا کر رہے ہیں۔ یہ مضافات اس وقت ابھرنا شروع ہوئے تھے جب پچاس کی دہائی میں سفید فام محنت کش طبقہ جنرل موٹرز اور دوسری صنعتی اداروں میں کام کرنے کے لیے آباد ہوئے۔ صنعتی کارکن اپنے گھر بنانے کی خواہش رکھتے تھے اور وہاں پر اچھی اجرت نے یہ ممکن بنایا۔ ستر کی دہائی میں جب صنعتی اداروں نے صنعتی پیداور سے متعلق کام کو ملک سے باہر بھیجنا شروع کیا تو ریٹائر ہونے والے سفید فام کارکنوں کے گھروں کی زیادہ مانگ نہیں تھی۔ اسی کی دہائی میں جب سٹور ختم ہونے لگے تو مکانوں کی طلب بھی گرگئی۔ تب مالکان نے گھر تارکین وطن کو دینا شروع کر دیے۔ جو لوگ اٹلانٹا آ رہے تھے انہیں کم کرایوں پر ان مضافاتی علاقوں میں گھر آسانی سے ملنے لگے۔ تارکین وطن میں کاروباری طبقے نے وہاں پر نئی دکانوں اور سٹورز کی گنجائش کو محسوس کیا اور تارکین وطن میں ابھرنے والے متوسط طبقے کی انداز زندگی نے بہت سے نسلی ریسٹورانٹ اور مارکیٹوں کو جنم دیا۔ آہستہ آہستہ نسلی اشیاء کی طلب عام شہری آبادی تک پھیل گئی جو ان نئی جگہوں پر کھانے کھانا پسند کر نے لگے اور ان کی اشیاء خریدنے لگے۔ اٹلانٹا کو تارکین وطن کی کامیابی کی ہی ضرورت تھی۔ نوے کی دہائی تک شہر سماجی ترقی کی تحریک کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر جانا جاتا تھا۔ ستر کے اوائل میں اٹلانٹا چیمبر آف کامرس نے ایک نعرہ بلند کیا: ’اٹلانٹا: دنیا کا نیا عظیم بین الاقوامی شہر‘۔ حالانکہ امریکہ کے دوسرے شہروں کے امراء اس اشتہاری مہم پر ہنسے لیکن اٹلانٹا کی کوششوں سے انیس سو چھیانوے کے اولمپک کھیل وہاں ممکن ہوئے۔ جب عالمی پریس کی نظر اٹلانٹا پر پڑی اور اولمپک کھیلوں کی میزبانی کرنے والے پرانے شہروں کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے شہر پر تنقید کی گئی تو سماجی رہنماؤں کے رونگھٹے کھڑے ہوگئے۔ نقادوں کا الزام تھا کہ تیز ترقی کی وجہ سے اٹلانٹا میں تاریخی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اور شہر کے منظر میں وہ خوبیاں، دل کشی اور شناخت نہیں جو امریکہ کے باقی شہروں جیسے نیویارک، سان فرانسسکو اور کئی دیگر ان شہروں میں ملتی ہے جہاں پر بھی تارکین وطن کی الگ بستیاں ملتی ہیں۔ تاہم آج اٹلانٹا کے مضافات میں مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی آبادیاں موجود ہیں۔
بنیادی سطح پر چھوٹے کاروباری تارکین وطن کے شاپنگ سنٹر اور مکانات کے کمپلیکس بنانے میں کامیابی نے اٹلانٹا کے رہنماؤں کی غیرت کو للکارا جو تارکین وطن کی صلاحیت کے ذریعے معاشی ترقی کے عمل کو تیز دیکھنا چاہتے تھے۔ ڈیکالب کاؤنٹی کی انتظامیہ نے بوفورڈ ہائی وے کے ساتھ کے چھ میل لمبے علاقے کو ’بین الاقوامی گاؤں‘ قرار دے کر عالمی نقل مکانی کو استعمال کر کے اس علاقے کی پستی کو روکنے کی کوشش کی ہے۔ جیسے ہی علاقے میں مختلف نسلوں کے سات سو کاروباری مراکز کی کامیابی عام ہوئی ہے اور وہاں منصوبوں کے مواقع بڑھے ہیں بین الاقوامی سرمایہ کاری بھی بڑھ گئی ہے۔ بےشمار بینک اور سپر مارکیٹیں کھل گئی ہیں تاکہ وہاں کی میکسیکو سے تعلق رکھنے والے اور ایشیائی برادری کو خدمات فراہم کر سکیں۔ چامبلی میں بین الاقوامی گاؤں جو پانچ لاکھ مربع فٹ پر پھیلا ہوا ہے بہتر ملین ڈالر سے بنایا گیاہے۔ اس میں دکانوں اور ریسٹورانٹوں کے علاوہ ایک ہوٹل بھی ہے۔ ابھی کچھ عرصہ سے اٹلانٹا میٹرو علاقہ اس کوشش میں ہے کہ وہ نئے فری ٹریڈ ایریا آف دی امریکاز یعنی براعظم امریکہ کے ممالک کا آزاد تجارتی علاقے کا حصہ بننے کے لیے کوشاں ہے جس میں کینیڈا سے لے کر چِلی تک چونتیس ممالک شامل ہوں گے۔ مقامی حکومت اور کاروباری حضرات کا تخمینہ ہے کہ اس تجارتی علاقے کے بن جانے سے روزگار کے گیارہ ہزار مواقع پیدا ہوں گے اور اٹلانٹا کی معیشت پر سالانہ پانچ سو ملین ڈالر کا اثر پڑے گا۔ مقامی حکام کا خیال ہے کہ عالمی گاؤں کا اس جگہ پر واقع ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی تجارت اور نقل مکانی سے کیا کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اب دوسرے شہر اٹلانٹا سے مشورے مانگ رہے ہیں کہ وہ کس طرح سے غیرملکی سرمایہ کاروں کو اپنی طرف کھینچیں اور مقامی معیشت کو ترغیب دیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ ڈیی کالب کاؤنٹی کے مضافات کی کامیابی کہیں اور دہرائی جاسکتی ہے یا نہیں۔ کچھ تارکین وطن نے اس خوف کا اظہار کیا ہے کہ ان کی مقامی برادریاں بکاؤ مال اور ایسے ٹائپ ڈھلے ہوئے ہم نسلی گاؤں نہ بن کر رہ جائیں جو صرف مضافاتی آبادی کی تفریح کے لیے ہوں نہ کہ مقامی لوگوں کی ایسی بستیاں جو معاشی اور ثقافتی طور پر نشو و نما پا رہی ہوں اور دوسرے ہم نسلی مضافاتی علاقے باہر سے اور مقامی طور پر اتنی سرمایہ کاری کھینچنے میں ناکام رہے ہیں۔ بہت سے تارکین وطن جو کم اجرت پر کام کرتے ہیں، اس طرح کی سستی بستیوں میں رہ سکتے ہیں مگر ان میں پیسہ خرچ کرنے کی قوت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اس قابل نہیں سمجھا جاتا کہ وہ سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔ پھر بھی اٹلانٹا کی کامیابی سے نظر آتا ہے کہ جیسے تارکین وطن دوسرے شہروں کی طرف ہجرت کر رہے ہیں اور مضافاتی علاقوں میں آباد ہو رہے ہیں، ان کی آمد سے پورا خطہ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے اور مزید سرمایہ کاری آسکتی ہے۔ ہمیں لکھئے: عالمگیریت سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ نوٹ: یہ مضمون بی بی سی اردو آن لائن اور ییل سنٹر فار دی اسٹڈی آف گلوبلائزیشن کے درمیان پارٹنرشِپ کے تحت شائع کیا جارہا ہے اور ییل گلوبل کی کائپ رائٹ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||