دوسراحصہ: عالمگیریت کیا ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس تمام ترقی کے لئے قیمت بھی ادا کرنی پڑی ہے۔ دنیا بھر میں غربت کی کمی کی وجہ سےماحول پر منفی اثر ہوا ہے۔ زراعت اور جنگلات سے متعلقہ اشیاء کی تجارت کی وجہ سے ہر سال دنیا بھر کے ’رین فارسٹ‘ میں ایک فیصد کمی ہو رہی ہے۔ ایڈز کی بیماری کا آغاز افریقہ اور جنوبی امریکہ سے ہوا اور اب یہ پوری دنیا میں پھیل گئی ہے۔ ہر روز چودہ ہزار افراد اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔ انیسں سو ستانوے میں منیلا سے جاری ہونے والے ’آئی لو یو‘ وائرس سے سات سو ملین ڈالرز کا مالی نقصان ہوا۔گیارہ ستمبر کے ہائی جیکروں نے اپنے آپریشن کے لئے فنڈز کی منتقلی کے لئے الیکٹرونک ذرائع استعمال کیے۔ انہوں نے انٹرنیٹ کے ذریعے نہ صرف آپس میں رابطہ رکھا بلکہ اپنے ہوائی ٹکٹ بھی خریدے۔ ان حملوں کے بعد سے اب تک اسامہ بن لادن کا دنیا سے رابطے کا واحد ذریعہ سیٹلائٹ ٹی وی ہے۔
لیکن ہم اگر تاریخ پر نگاہ ڈالیں توپتہ چلے گا کہ ایسا تو ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔ ہر نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ نئے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ جب سیاحوں نے نئی دنیا دریافت کی تو اس کے ساتھ ہی چیچک اور انفلوئنزہ جیسی بیماریوں نے مقامی امریکیوں میں ہر چار میں سے تین کو ہلاک کر دیا ۔ اسی طرح امریکہ، ایشیا، مشرق وسطی اور افریقہ میں کالونیز بنانے کے عمل نے وہاں معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ وہاں کے روایتی سماجی ڈھانچہ اور سیاسی نظام کو بھی تباہ کر دیا۔ تارکین وطن - عالمگیریت کے معمار دوسری جنگ عظیم میں امریکہ کی فتح اور مارشل پلان کے نفاذ سے اب تک امریکہ کی معاشی اور فوجی طاقت دنیا کے دور دراز کونوں تک پھیل گئی ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے اور دیوار برلن کے گرنے سی دنیا میں نظریاتی تفریق کا خاتمہ ہوگیا اور عالمگیریت کو ایک نئی توانائی ملی۔ یہ بات باعث حیرت نہیں کہ بہت سے لوگ عالمگیریت کو ’امیریکنائزیشن‘ کے مترادف سمجھتے ہیں۔
سرد جنگ کے خاتمے نے امیر اور ترقی پذیر ممالک کے مابین موجود فرق کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے اپنے بہتر صنعتی ڈھانچہ، اداروں اور تعلیم کی وجہ سے اور درمیانی آمدنی والے ممالک نے آزاد معاشی پالیسیوں کی بناء پر عالمگیریت سے بھر پور فائدہ اٹھایا ہے۔ لیکن ترقی پذیر ممالک کو عالمگیریت سے کوئی خاطرخواہ فائدہ نہیں ہوا بلکہ کچھ معاملوں میں تو ان کی حالت پہلے سی بھی خراب ہوگئی ہے۔ غربت کی مجموعی شرح میں خاتمے کے باوجود دنیا کی تین چوتھائی آبادی ابھی بھی غربت کی چکی میں پس رہی ہے۔ عالمگیریت کے اصول اور ان اصولوں پر عمل درآمد کروانے والے عالمی ادارے جیسے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی تشکیل بھی امیر اور غریب قوموں کے درمیان موجود طاقت کے فرق کی غمازی کرتے ہیں۔ دنیا میں معلومات کے آزادانہ تبادلے کی وجہ غریب ممالک اب امیر اور ترقی پذیر ممالک کے مابین موجود فرق کے بارے میں بڑی اچھی طرح آگاہ ہیں۔ اس آگہی کا اظہار ونیزویلا سے لے کر فلپائن تک ہونے والے امریکہ مخالف مظاہروں سےہوتا ہے۔ دنیا کی اشیاء اور نظریات کے ذریعے یکجہتی کے ناقد اور حمایتی دونوں موجود ہیں۔ ایرانی طلباء امریکی انداز زندگی اپنانا چاہتے ہیں تو مغرب میں بہت سے لوگ عالمگیریت کو سرمایا دارانہ نظام یعنی کیپِٹلزم کی علامت قرار دے کر اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال یہ ہے کہ مغرب کی قیادت میں عالمگیریت کا مقصد اسلام کو تباہ کرنا ہے۔ ان تمام عوامل کا عالمگیریت پر کیا اثر ہو گا؟ کیا عالمگیریت بڑھتی ہوئی عالمی بے اطمینانی اور دہشت گردی کے خطرے کے سامنے گھٹنے ٹیک دی گی؟ بلاشبہ ماضی میں بھی عالمگیریت کی رفتار میں کمی واقع ہوئی۔ دونوں عالمی جنگوں کے درمیان قیمتوں میں اضافہ اور آزاد نقل و حرکت کے باعث آزادانہ تجارت اور لوگوں کے نقل و حرکت میں سستی آ ئی۔ لیکن دوسری جنگ عظیم میں اتحادیوں کی نازیوں اور جاپان کے خلاف فتح سے عالمگیریت کی راہیں کھل گئیں اور تجارت اور سفر میں بھی بہت اضافہ ہوا۔
عالمی یکجہتی کے لئے اس وقت سب سے بڑا خطرہ یورپ میں آنے والے تارکین وطن کے خلاف جذبات، مغرب کی زراعتی سبسِڈی، انٹلیکچوئل پراپرٹی کے حقوق کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات اور گیارہ ستمبر کے بعد سے امریکہ کی سخت ویزہ پالیسی ہیں۔ خوشحالی کی تلاش میں لوگ اب بھی دوسرے ممالک میں کاروبار پھیلاتے ہیں۔ دوسروں کے بارے میں وہی تحیر جس نے ابن بطوطہ کو گھر چھوڑنے پر مجبور کیا، وہ اب بھی لاکھوں لوگوں کو سیاحت، غیر ملکی فلمیں دیکھنے، مختلف کھانے کھانےاور بین الاقوامی موسیقی اور کھیلوں سے لطف اندوز ہونے پر مائل کرتا ہے۔ ماضی اور آج کی عالمگیریت کے درمیان فرق رفتار اور بالکل واضح نظر آنے کا ہے۔ اپنے تمام تر مثبت اور منفی پہلوؤں کے ساتھ عالمگیریت کا تاریخی عمل جاری رہےگا اور مزید واضح ہوتا جائے گا۔ ہمارا کام ، چاہے ہم شہری ہوں یا اسکالر یا مدبر، یہ ہونا چاہئے کہ ہم عالمگیریت کو سمجھیں اور آگے بڑھائیں۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم اس کے مثبت پہلوؤں کی حوصلہ افزائی کریں اور منفی پہلوؤں سے صرف نظر کریں۔ نوٹ: نین چندا یل گلوبل آن لائن کے ایڈیٹر ہیں۔ یہ مضمون بی بی سی اردو آن لائن اور یل سنٹر فار دی اسٹڈی آف گلوبلائزیشن کے درمیان پارٹنرشِپ کے تحت شائع کیا جارہا ہے اور یل گلوبل کی کائپ رائٹ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||