BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 June, 2004, 13:24 GMT 18:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چائے پانچ ہزار سال بعد بھی گرم

جب آپ ہلکے رنگ کا مرکب اپنے کپ میں انڈیلتے اور اس خوشبودار مشروب کو ہونٹوں کے ساتھ لگاتے ہیں تو یہ تصور کرنا مشکل ہوتا ہے کہ آپ پانچ ہزار سال پرانی روایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بلاشبہہ تاریخی اعتبار سے چائے ایک پرانا مشروب ہے۔

آسام چائے پوری دنیا میں مشہور ہے
آسام چائے پوری دنیا میں مشہور ہے

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ افسانوی مشروب پانچ ہزار سال پہلے ایک غلطی کے نتیجے میں سامنے آیا جب چین کا بادشاہ پانی کے ابلتے ہوئے برتن میں چائے کے کچھ پتے دیکھ کر پریشان ہوگیا۔ تجسس کی وجہ سے بادشاہ نے پانی چکھا اور اسے اس کا ذائقہ پسند آیا۔ جلد ہی چائے چین کی ثقافت کا حصہ بن گئی اور سن 800 عیسوی تک ایک ذین بدھ راہب چائے کے استعمال پر تفصیلی تاریخ لکھ چکا تھا اور چونکہ ذین بدھوں کا خیال تھا کہ چائے روحانی ارتکاز میں مدد دیتی ہے اس لئے یہ مشروب ان کی کئی مزہبی رسومات کا حصہ بن چکا تھا۔

بدھ مشنری جب جاپان گئے تو اپنے ساتھ چائے بھی لے گئے۔ چائے کی دیومالائی داستان میں وہ وقت بھی آیا جب کچھ بھارتی اور جاپانی بدھوں نے چائے کا استعمال مہاتما بدھ کی کہانی بیان کرنے کے لئے کیا۔ ان کے مطابق مہاتما بدھ پانچ سال بعد جب مراقبے سے جاگے تو انہوں نے چائے کے جنگلی درخت سے پتے کھائے۔ جاپان میں تعارف کے بعد جلد ہی وہاں پر چائے کی ثقافت نے جس میں چائے کی رسم جسے ’چاؤ نو یو‘ بھی ہے، جنم لیا جس کا لفظی مطلب چائے کے لئے گرم پانی ہے۔ چائے کی اس رسم میں چائے انڈیلنا اور ’گیشا‘ کے مہمان کو چائے پیش کرنا نفاست اور خوش اسلوبی کا انداز سمجھا جانے لگا۔

آیرش-یونانی صحافی اور تاریخ دان لفسادیو ہرن نے جسے اس زمانے میں جاپانی شہریت ملی تھی، چائے کی اس رسم کو دیکھا اور اس کے بارے میں لکھا۔ جیسے جیسے وہاں کے امراء کے درمیان چائے کے مقابلے عام ہونے لگے چائے کے استعمال میں سے اصلی ذین بدھ مت کا عنصر ختم ہونے لگا۔ ان مقابلوں میں چائے کی صحیح آمیزش بتانے والا مقابلہ جیت جاتا اور انعام میں اسے جواہراور زرہ بکتر دیا جاتا۔ تیرہویں صدی میں بدھ راہبوں نے چائے کو اس کی اصل ذین ترکیب استعمال کی طرف لانے کی ناکام کوشش کی۔

جب یورپی تجارت چین اور جاپان کے ساتھ عام ہوئی تو چائے یورپ میں لائی گئی لیکن کسی بھی تاجر کو معلوم نہیں تھا کہ یہ کیسے بنتی ہے۔ کچھ کا کہنا تھا کہ اس کے ابلے ہوئے پتے نمک اور مکھن کے ساتھ کھائے جاتے ہیں۔ سن 1560 میں جب پرتگالی مشنریوں نے چین کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار کیے تو یورپ میں چائے درآمد کی جانے لگی۔ کچھ تاریخ دان اس کی مخالفت کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے ایک سال پہلے عرب تاجر چائے وینس میں لا چکے تھے۔

کوئی بھی پینے کو تیار نہ تھا
ہر کوئی اس انجانے مشروب کو پینے کو تیار بھی نہیں تھا۔ ڈاکٹر اور اسکالرز کا کہنا تھا کہ یہ کالا اور کڑوا مرکب کیسے لوگوں کے لئے اچھا ثابت ہو سکتا ہے؟ تقریباً ایک سو سال بحث کے بعد سن 1600 میں عام لوگوں تک چائے کی رسائی ہوئی۔

شروع شروع میں چونکہ چائے بہت مہنگی تھی اس لئے یہ صرف امراء کا مشروب بن کر رہ گئی، ڈچ لوگوں میں عام ہوئی۔ ہر کوئی اس انجانے مشروب کو پینے کو تیار بھی نہیں تھا۔ ڈاکٹر اور اسکالرز کا کہنا تھا کہ یہ کالا اور کڑوا مرکب کیسے لوگوں کے لئے اچھا ثابت ہو سکتا ہے؟ تقریباً ایک سو سال بحث کے بعد سن 1600 میں عام لوگوں تک چائے کی رسائی ہوئی۔ ڈاکٹروں کی مخالفت کے باوجود یورپ کے لوگوں کی صحت پر چائے کا مثبت اثر ہوا۔ پینے کا پانی چونکہ صاف نہیں تھا اس لئے چائے کو محفوظ سمجھا جاتا تھا۔

برطانیہ میں چائے کی تجارت سن 1652 میں ہوئی۔ اسی سال کافی اور کوکا کی بھی آمد ہوئی۔ سن 1700 میں برطانیہ 240000 پونڈ چائے برآمد کر رہا تھا۔ چائے کی وجہ سے انگریزوں کی روزمرہ کی زندگی میں ایک خوشگوار تبدیل آئی اور سہ پہر کی چائے کا رواج عام ہوا۔ برطانوی تجارتی کمپنیاں چائے کی برآمد کے لئے سارے یورپ میں مشہور ہوئیں خاص طور پر ایسٹ انڈیا کمپنی جس نے برطانوی راج بھارت تک پھیلانے میں اہم کردار کیا تھا۔

اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ تجارتی ساتھیوں میں بہت تعاون تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھارت میں سیاسی عدم استحکام کی آڑ لیتے ہوئے یہ کہنا شروع کیا کہ اس کی وجہ سے تجارت کو نقصان ہو رہا ہے، آہستہ آہستہ بھارت کے ساحلی کناروں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا اور وہاں کے مقامی باشندوں کو پوست اگانے پر مجبور کیا جس کے بدلے وہ چین سے چائے خریدتے تھے۔ اس طرح انگریز اصل سرمایہ اپنی سلطنت تک ہی محدود رکھتے۔ پوست کے بدلے چائے کی اس تجارت کی وجہ سے اٹھارہویں صدی میں پوست کی جنگیں ہوئیں جس کے بعد انگریز مکمل طور پر چائے کی تجارت پر قابض ہوگئے۔

چائے پلانے کی اجازت
 انگلینڈ میں ایک عورت نے جو روٹی کی دکان پر کام کرتی تھی اپنے مالک کو مجبور کیا کہ وہ اسے اپنے خاص گاہکوں کو چائے پیش کرنے کی اجازت دے۔ سن 1864 میں اس عورت نے اجازت لی کہ دکان میں کچھ میز کرسیاں رکھ سکے تاکہ لوگ ادھر ہی چائے پی سکیں۔

انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں یورپ اور امریکہ کی معاشرتی تحریکوں میں چائے نے اہم کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔ انگلینڈ میں ایک عورت نے جو روٹی کی دکان پر کام کرتی تھی اپنے مالک کو مجبور کیا کہ وہ اسے اپنے خاص گاہکوں کو چائے پیش کرنے کی اجازت دے۔ سن 1864 میں اس عورت نے اجازت لی کہ دکان میں کچھ میز کرسیاں رکھ سکے تاکہ لوگ ادھر ہی چائے پی سکیں۔ اس طرح چائے خانہ خواتین کے لئے ایک نئی طرز کے معاشرتی میل جول کا ذریعہ بنا اور خواتین کی آزادی کا سبب بنا۔ اسی طرح ان لوگوں کے لئے جو شراب نہیں پیتے تھے چائے ایک متبادل مشروب کی صورت میں ابھرا۔

امریکیوں نے 1904میں ’آئیس ٹی‘ایجاد کر کے چائے کو مزید ترقی دی اور پھر 1908 میں پہلی بار ’ٹی بیگ‘ بنا کر اس کے استعمال میں اضافہ کیا۔

آج کل چائے مختلف اقسام میں ملتی ہے۔ روایتی طور پر امریکی اور یورپی لوگ کالی چائے پسند کرتے آئے ہیں لیکن اب سبز چائے کے فوائد کی بنا پر اس کی طرف بھی راغب ہیں۔ اب ہر کوئی اپنی مرضی اور ضائقہ کے مطابق چائے لے سکتا ہے۔ چائے پینے کے انداز اور طریقے سے لوگ اپنی انفرادیت کا اظہار کرتے ہیں حالانکہ جب 1300 سال پہلے جب ذین بدھوں نے چائے کو ذاتی غور و فکر کے لئے عام کیا تو ان کا ہر گز یہ مقصد نہیں تھا۔

ہمیں لکھئے: عالمگیریت سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟

نوٹ: یہ مضمون بی بی سی اردو آن لائن اور ییل سنٹر فار دی اسٹڈی آف گلوبلائزیشن کے درمیان پارٹنرشِپ کے تحت شائع کیا جارہا ہے اور ییل گلوبل کی کائپ رائٹ ہے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد