BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 June, 2004, 15:40 GMT 20:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عالمگیریت: کافی کا سفر

کافی کے بِینز
کافی کے بِینز
چاہے موچا جاوا ہو یا کاپا جو، ہاف ڈیکیف ہو یا سکم، وہپ ہو یا نو وہپ لاٹے، کافی ہر شکل میں موجود ہے چاہے وہ بیجنگ کا ممنوعہ شہر ہی کیوں نہ ہو۔

لیکن سچ یہ ہے کہ کافی ہمیشہ سے ہر جگہ موجود نہیں تھی اور نہ ہی اتنی مقبول تھی۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں کافی کبھی تو ایک سربستہ راز رہی ہے اور کبھی یہ ایک شجر ممنوعہ کی مانند مشروب لیکن ان پابندیوں کے باوجود کافی اور اس کی مخصوص خوشبو کو کوئی بھی ایتھوپیا سے پوری دنیا میں پھیلنے سے نہیں روک سکا۔

شنید ہے کہ ایتھوپیا کے ایک گڈریے نے کافی دریافت کی تھی۔ یہ دریافت اس نے اپنے ریوڑ کو دیکھ کر کی جس پر ایک پودا کھا کر سرمستی کی کیفیت طاری ہو گئی تھی۔

فاتحِ عالم
 چاہے آپ کسی کاروباری میٹنگ پر نظر کریں یا کسی دوستانہ ملاقات پر یا صبح کو کام پر جانے کی جلدی پر، آپ کو کافی ہر جگہ ایک عالمی فاتح کی طرح نظر آئے گی۔

کافی ایتھوپیا سے یمن پہنچی جہاں اسےصدیوں تک کاشت کیا گیا۔ چودہ سو تریپن میں کافی کی ترکی میں آمد کے بعد کافی کے بیجوں کو پہلی دفعہ پکایا گیا اور پھر انہیں پیس کر پانی میں ملایا گیا۔ یہ کافی کی موجودہ شکل کی مانند تھی۔

اطالوی تاجروں نے یورپ میں کافی متعارف کرائی۔ سن سولہ سو میں پاپ کلیمنٹ نے اسے محترم قرار دیا کیونکہ اس نے آبادی کی عادتیں بہتر کرنے میں مدد کی تھی جو زیادہ تر الکحل کے مشروبات کی عادی تھی۔

اٹھارہویں صدی کے اوائل میں کافی نیدر لینڈ کے تاجر اپنے ساتھ بھارت اور انڈونیشیا لے کر گئے۔

ہرچند سلطنت عثمانیہ کے ترک ویانا فتح کرنے میں ناکام رہے تھے لیکن سولہ سو پچھتر میں شہر میں پہلا کافی ہاؤس کھلنے تک کافی پورے شہر کو فتح کر چکی تھی۔ اس وقت ویانا میں سترہ سو سترہ کیفے ہیں۔

کافی کی مقبولیت کے باوجود اس کا پودا آسانی سے دستیاب نہیں تھا۔ نیدرلینڈ نے غلطی سے کافی کا ایک پودا شاہ لوئیس چودہ کو دے دیا لیکن یورپ کا ٹھنڈا موسم کافی کی پیداوار کے لئے سود مند نہیں تھا۔ ’گرین ہاؤس‘ کی ایجاد ساتھ کافی کی پیداوار میں بہتری آئی بلکہ کچھ لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ دراصل کافی گرین ہاؤس کی ایجاد کا باعث بنی۔

News image
کافی کو دنیا کے بیشتر ممالک میں مقبولیت حاصل ہوئی

فرانسیسی نیول آفیسر جبرئیل میتھیو دہ کلیو سترہ سو تئیس میں کافی کا ایک پودا مارٹینیق لے کر آئے۔ یہ وہ نقطہ آغاز تھا جب کافی کی پیداوار بڑے پیمانے پر شروع ہوئی۔ اگلے پچاس سال میں اس جزیرے میں کافی کی پیداوار ایک پودے سے انیس ملین پودوں تک پہنچ گئی۔

کافی برازیل میں سترہ سو ستائیس میں متعارف ہوئی اور وہاں سے اٹھارہ سو تئیس تک باقی لاطینی امریکہ اور جزائرِ ہوائی تک پہنچ گئی۔ اٹھارہ سو ترانوے میں کافی افریقہ میں واپس اپنے گھر پہنچ گئی اور کینیا اور تنزانیہ میں بس گئی۔ اس طرح ایک ہزار سال کے سفر کے بعد کافی نے دنیا کے گرد سفر مکمل کرلیا تھا۔

دنیا میں اس وقت برازیل میں کافی کی پیداوار سب سے زیادہ ہے جہاں سن دو ہزار میں ایک بلین کلوگرام کافی کی فصل ہوئی۔ دنیا بھر میں کافی کی دو اقسام پیدا ہیں۔ ایک کا نام عربییکا ہے جس نے اپنا نام جزیرۃ العرب سے لیا ہے جہاں اس کا آغاز ہوا تھا۔ کافی کی یہ قسم دنیا کی کل پیداوار کا تین چوتھائی حصہ ہے اور زیادہ تر اسکی کاشت جنوبی امریکہ میں ہوتی ہے۔

کافی کی دوسری قسم کا نام روبسٹا ہے۔ یہ دنیا کی کل پیداوار کا ایک چوتھائی حصہ ہے اور اسکی زیادہ تر کاشت افریقہ، ایشیا اور انڈونیشیا میں ہوتی ہے۔ روبسٹا میں کیفین کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے۔

کافی اپنے غیر معمولی حالات میں جنم اور خفیہ بلوغت کے دور سے لے کر اب تک دنیا کو فتح کرنے والے سیاح کے روپ میں سامنے آئی ہے۔ چاہے آپ کسی کاروباری میٹنگ پر نظر کریں یا کسی دوستانہ ملاقات پر یا صبح کو کام پر جانے کی جلدی پر، آپ کو کافی ہر جگہ ایک عالمی فاتح کی طرح نظر آئے گی۔

ہمیں لکھئے: عالمگیریت سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟

نوٹ: یہ مضمون بی بی سی اردو آن لائن اور ییل سنٹر فار دی اسٹڈی آف گلوبلائزیشن کے درمیان پارٹنرشِپ کے تحت شائع کیا جارہا ہے اور ییل گلوبل کی کائپ رائٹ ہے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد