BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 June, 2004, 16:14 GMT 21:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹماٹر کے آغاز اور عروج کی کہانی
 ٹماٹر کی دریافت سب سے پہلے پیرو میں ہوئی تھی۔
ٹماٹر کی دریافت سب سے پہلے پیرو میں ہوئی تھی۔
ٹماٹر اطالوی کھانوں کی علامت ہے، میکسیکو کے کھانے اس کے بغیر مکمل نہیں ہوتے اور اس کی بغیر برگر کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ٹماٹر کی دریافت سب سے پہلے پیرو میں ہوئی تھی۔ آج ٹماٹر کی عالمی سطح پر مقبولیت اور مقامی کھانوں میں اس کا لازمی استعمال ایک نا قابل تردید حقیقت ہے۔ لیکن دنیا کے اس سفر میں ٹماٹر نے بہت سے نام بدلے ہیں۔

یہ بات حتمی طور پر کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ ٹماٹر پیرو سے میکسیکو کب اور کیسے پہنچا۔ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہسپانوی فاتح ہرنان کورٹز نے ٹماٹر کو پندرہ سو بیس میں سپین میں متعارف کرایا۔ سپین سے ٹماٹر اٹلی اور پھر فرانس پہنچا۔ اس کے مخلتف ناموں میں سپین میں ’پوم دی مورو‘ ( مورز کا سیب)، اٹلی میں ’پومی د اورو‘ (سنہری سیب) اور فرانس میں ’پوم د آمور‘ (محبت کا سیب) شامل ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹماٹر کی اولین اقسام پیلے رنگ کی تھیں کیونکہ اطالوی اسے سنہرا کہتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انگریزی میں مستعمل نام اس کے اصل نام ’ٹومیٹل‘ کے قریب ترین ہے۔

ٹماٹر کا ڈر
 شمالی یورپ کے لوگ شروع میں ٹماٹر کے استعمال سے گریزاں تھے۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ ٹماٹر بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے جس سے زہریلے پودوں ’نائٹ شیڈ‘ اور ’مینڈریک‘ کا تعلق ہے۔ ان کا خیال تھا کہ شاید ٹماٹر بھی انہی کی طرح نقصان دہ ہے۔

جنوبی یورپ میں ٹماٹر کی قبولیت کے باوجود شمالی یورپ کے لوگ شروع میں ٹماٹر کے استعمال سے گریزاں تھے۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ ٹماٹر بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے جس سے زہریلے پودوں ’نائٹ شیڈ‘ اور ’مینڈریک‘ کا تعلق ہے۔ ان کا خیال تھا کہ شاید ٹماٹر بھی انہی کی طرح نقصان دہ ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ ٹماٹر یورپ میں کھایا جا رہا تھا، انگریز سمجھتے تھے کہ ٹماٹر کا ذائقہ اور خوشبو ناخوشگوار ہے۔

لیکن ٹماٹر نےموت اور ذائقہ کے بارے میں ان خدشات پر جلد ہی قابو پا لیا اور اٹھارویں صدی کے درمیان تک ٹماٹر کی ترکیبیں برطانیہ کے باورچی خانوں کی زینت بن چکی تھیں۔

دریں اثناء ٹماٹر استعمال کے ساتھ شمالی امریکہ پہنچا لیکن وہاں اسے سجاوٹ کے لئے کام آنے والی خصوصیات کی بناء پر اگایا گیا۔ اٹھارہ سو بیس تک ٹماٹر امریکہ میں بھی مقبولیت کی سند حاصل کر چکا تھا۔ اٹھارویں صدی کے آخر تک ٹماٹر کی کھپت میں بہت اضافہ ہو چکا تھا۔ جوزف کیمپل اور ان کے سوپ کی بدولت انیس سو بیس سے ٹماٹر کی پیداوار میں اضافہ ہونے لگا۔

ایک حالیہ دریافت کے مطابق ٹماٹر میں ’لائیکوپین‘ نامی مرکب پایا جاتا ہے جو کینسر سے بچاؤ میں مددگار ہوتا ہے۔
ایک حالیہ دریافت کے مطابق ٹماٹر میں ’لائیکوپین‘ نامی مرکب پایا جاتا ہے جو کینسر سے بچاؤ میں مددگار ہوتا ہے۔

ایک حالیہ دریافت کے مطابق ٹماٹر میں ’لائیکوپین‘ نامی مرکب پایا جاتا ہے جو کینسر سے بچاؤ میں مددگار ہوتا ہے۔ اس دریافت سے ٹماٹر کی اہمیت میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ ٹماٹر کا جوسں اب ’لائیکوپین‘ کا فوری ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ’لائیکوپین‘ الکحل استعمال کرنےوالوں کے لئہ بھی مفید ہے۔ اس سے ووڈکا کے مضر اثرات ختم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

دنیا میں اس وقت ٹماٹر کی سب سے زیادہ پیداوار امریکہ، چین، ترکی،اٹلی اور بھارت میں ہوتی ہے۔ چین میں ٹماٹر کی پیداوار انیس سو چھیانوے میں چودہ ملین میٹرک ٹن سے بڑھ کر سن دو ہزار میں سترہ ملین میٹرک ٹن ہوگئی۔ چین میں ٹماٹر کی کھپت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یہ کھپت انیس سو چھیانوے میں گیارہ اعشاریہ پانچ کلوگرام فی کس سے بڑھ کر سن دو ہزار میں تیرہ سترہ اعشاریہ پانچ کلوگرام فی کس ہوگئی ہے۔ لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس کھپت کا زیادہ ترحصہ ’کیچ اپ‘ پر مبنی ہے۔

سولہویں صدی میں جب برطانوی فوجی چین کے ساحل پر اترے تو انہیں ’کیچی ایپ یا کیٹسیپ‘ نامی مقامی چیز کھانے کے لئے پیش کی گئی۔ ’کیچی ایپ‘ کو مچھلی کا اچار بنانے والی مصالحوں اور تیل سے تیار کیا جاتا تھا اور یہ سوس کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ برطانیہ نے اس سوس کو اپنا لیا اور اس میں تبدیلی کر کے اسے ’کیچ اپ‘ کی شکل دے دی۔ برطانیہ میں ’کیچ اپ‘ کی پہلی ترکیب سترھویں صدی میں سامنے آئی جب سرکے، وہائیٹ وائن، ادرک، مرچ، لونگ اور لیموں کی’ کیچ اپ‘ بنائی گئی۔

اٹھارویں صدی کے اوائل میں نووا سکوٹیا، امریکہ میں جیمز میز نے پہلی دفعہ ٹماٹر کی کیچ اپ کی ترکیب شائع کی۔ اٹھارہ سو بیس تک کیچ اپ امریکہ کے طول و عرض میں بک رہا تھا۔ لیکن اٹھارہ سو بیس میں ایچ جے ہینز نے ’ٹماٹو کیچ اپ‘ کو اپنی مصنوعات کا حصہ بنا لیا جس کے بعد اس کی پیداوار میں حیرت انگیز اضافہ ہوا۔

پاستا اور سامبر بنا ٹماٹر کے
 ایک اطالوی کے لئے یہ ماننا کہ پاستا کبھی ’پومی ڈورو سوس‘ کے بغیر ہوتا تھا، اتنا ہی مشکل ہے جتنا ایک انڈین کے لئے یہ ماننا کہ ’روغن جوش‘ یا ’سامبر‘ ٹماٹر کے بغیر بھی تیار کیا جا سکتا تھا۔

ٹماٹر کی اس مقبولیت کی ایک وجہ اس کا تنوع بھی ہے۔ ٹماٹر ہر طرح کے کھانوں میں اس طرح رچ بس گیا ہے کہ یہ اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ ٹماٹر کی دریافت پیرو میں ہوئی تھی۔ ایک اطالوی کے لئے یہ ماننا کہ پاستا کبھی ’پومی ڈورو سوس‘ کے بغیر ہوتا تھا، اتنا ہی مشکل ہے جتنا ایک انڈین کے لئے یہ ماننا کہ ’روغن جوش‘ یا ’سامبر‘ ٹماٹر کے بغیر بھی تیار کیا جا سکتا تھا۔

ٹماٹر اب اتنا عام ہو گیا ہے کہ اس کے بغیر پیزا، برگرز، سالسا یا فرینچ فرائیز کا تصور بھی محال ہے۔ لوگوں میں اس بات پر تو اختلاف ہو سکتا ہے کہ ٹماٹر پھل ہے یا سبزی؟ لیکن اس بات پر سب متفق ہیں کہ ٹماٹر کے بغیر اس دنیا میں اتنا مزہ نہ ہوتا جتنا اب ہے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد