BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 July, 2004, 10:51 GMT 15:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جمہوریت بنام گلوبلائزیشن

گلوبلائزیشن تجارت سے ہی شروع ہوا تھا
گلوبلائزیشن تجارت سے شروع ہوا
ساری دنیا میں زیادہ تر انتخابات کو اب گلوبلائزیشن یا عالمگیریت کے خلاف ریفرینڈم سمجھا جانے لگا ہے۔ ترقی یافتہ دنیا میں ووٹرز اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کے روزگار ترقی پذیر ملک لے جا رہے ہیں جبکہ ترقی پذیر ملکوں میں ووٹرز جو گلوبلائزیشن کے فوائد حاصل نہیں کر پائے حکومتوں کے خلاف اپنی بے اطمینانی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ساری دنیا میں لوگ اس بات سے پریشان ہیں کہ اجتماعی مقدر پر جو کہ گلوبلائزیشن کی میراث ہے ان کا کنٹرول ختم ہورہا ہے۔

وہ اس حقیقت پر مایوس ہیں کہ وہ اپنے نمائندے تو چن سکتے ہیں لیکن ان کے نمائندوں کے پاس چناؤ کے لیے متبادل نہیں ہیں۔ عالمی معاشی ہم آہنگی اور بین الاقوامی معاہدوں کی وجہ سے متبادل پالسی ڈھونڈنا مشکل ہو گیا ہے۔

جمہوریت اور گلوبلائزیشن کے حامی ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ گلوبلائزیشن کی مخالفت اکثر جمہوریت کے نام پر کی جاتی ہے اور جمہوریت کو اکثر اس خوف سے نظر انداز کیا جاتا ہے کہ یہ گلوبلائزیشن کی رفتار کو آہستہ کر دیتی ہے۔ گلوبلائزیشن کے حامی اکثر یہ دلیل دیتے ہیں کہ دنیا میں معاشی ہم آہنگی کی وجہ سے جمہوریت ناگزیر ہوگئی ہے۔ کیا یہ محض ایک اتفاق ہے کہ ایک دہائی پہلے دنیا کی دوتہائی حکومتیں آمرانہ تھیں جبکہ اور اب صرف ایک تہائی حکومتیں ہی آمرانہ قرار دی جاسکتی ہیں۔ کیا اس کا گلوبلائزیشن کے ساتھ تعلق بھی محض اتفاقیہ ہے؟

جمہوریت بنام گلوبلائزیشن؟
 جمہوریت پسند اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ گلوبلائزیشن شہریوں کو ان کے حقوق سے محروم کر رہی ہے۔ گلوبلائزیشن کے حامی جمہوریت کے بارے میں بے صبر ہوجاتے ہیں۔ کیا جمہوریت اکثر لوگوں کےمعاشی مستقبل کو ایسی پالسیوں کی وجہ سے جن پر طویل المیعاد خوشحالی کا انحصار ہو خطرے میں نہیں ڈال دیتی؟

جمہوریت پسند اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ گلوبلائزیشن شہریوں کو ان کے حقوق سے محروم کر رہی ہے۔ گلوبلائزیشن کے حامی جمہوریت کے بارے میں بے صبر ہوجاتے ہیں۔ کیا جمہوریت اکثر لوگوں کےمعاشی مستقبل کو ایسی پالسیوں کی وجہ سے جن پر طویل المیعاد خوشحالی کا انحصار ہو خطرے میں نہیں ڈال دیتی؟ کیا جمہوریت اس حقیقت کو عیاں نہیں کرتی کہ معاشیات اور سیاست میں ایک بڑی مفارقت ہے؟ معاشیات کو گلوبلائزیشن کے ماحول کے وجہ سے دنیا میں ایک دوسرے پر انحصار کی حقیقتوں کو سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔ سیاست اب بھی اس دھوکے میں ہے کہ حکومت اور قومی ریاست دو آزاد ہستیاں ہیں جو اپنی مرضی سے اپنی دنیا تشکیل دیتی ہیں۔ اس نظریہ کے مطابق گلوبلائزیشن کے خلاف ایک جمہوری احتجاج طویل المیعاد خوشحالی کی ضمانت نہیں ہے۔ بلکہ جیسے مارکس نے کہا تھا ’سینٹ جسٹ کا دھوکہ‘ -- ایک آئیڈیل جمہوری سیاست کی آرزو جسے حاصل کرنا اس جدید دنیا میں ناممکن ہے۔

اکثر مباحثوں کی طرح گلوبلائزیشن اور جمہوریت کے درمیان چپقلش بھی بہت رسمی ہے۔ قومی پالیسی سازی پر دباؤ جس کیلئے ہم گلوبلائزیشن کو وجہ قرار دیتے ہیں اتنا زیادہ نہیں جتنا ہم تصور کرتے ہیں۔ ایک قوی خود انتظامی طرز حکومت اب بھی ممکن ہے۔ جمہوریت پر دباؤ اصل میں خود ریاستوں کے سیاسی ڈھانچوں سے آتا ہے۔ جھگڑے میں مبالغہ آمیزی کی وجہ سے گلوبلائزیشن کو اکثر ان بیماریوں کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے جس کی وہ ذمہ دار نہیں۔ مثال کے طور پر بھارت میں گلوبلائزیشن کو ہر برائی، بھوک کی وجہ سے موت سے لے کر بجلی اور پانی کی کمی تک، کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

گلوبلائزیشن غریب مخالف؟
 لیکن گلوبلائزیشن میں ایسا کیا ہے کہ حکومتیں جو خوراک کے ڈھیروں پر بیٹھی ہیں شہریوں میں بانٹنے سے روکتی ہیں؟ اور اگر پانی اور صحت پر پیسہ نہیں لگایا جا رہا تو کیا یہ گلوبلائزیشن کی وجہ سے ہے یا حکومتوں میں مفاد پرست عناصر کی وجہ سے جو بہت سے وسائل اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں؟

لیکن گلوبلائزیشن میں ایسا کیا ہے کہ حکومتیں جو خوراک کے ڈھیروں پر بیٹھی ہیں شہریوں میں بانٹنے سے روکتی ہیں؟ اور اگر پانی اور صحت پر پیسہ نہیں لگایا جا رہا تو کیا یہ گلوبلائزیشن کی وجہ سے ہے یا حکومتوں میں مفاد پرست عناصر کی وجہ سے جو بہت سے وسائل اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں؟ کچھ بھی ہوگلوبلائزیشن سے زیادہ ریاستیں خود جمہوریت کو داغ دار کرتی ہیں۔اور اکثر اوقات جو لوگ جمہوریت کے نام پر گلوبلائزیشن کی مخالفت کرتے ہیں خود نمائندہ اداروں کو حقیر سمجھتے ہیں اور روایتی سیاسی ساخت کی بجائے سول سوسائٹی کو اپنے اس حق کا منبع گردانتے ہیں۔

اگر گلوبلائزیشن کی جمہوریت کے نام پر مخالفت بناوٹی ہے توگلوبلائزیشن کے نام پر جمہوریت سے درگزر بھی خطرناک ہے۔ یہ بہت سے اخلاقی اور قابل عمل وجوہات کا معاملہ ہے۔ جمہوریت سے درگزر اخلاقی طور پر ناتوانی کی نشانی ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان شہریوں کی قابلیت پر سوالیہ نشان بنایا جا رہا ہے جن کے لیے گلوبلائزیشن خوشحالی لانا چاہتی ہے۔ اگر گلوبلائزیشن کا ترازو بھاری ہے اور اس میں اچھی تبدیلی لانے کی گنجائش ہے تو پھر یہ لوگوں کے دلائل کی قربان گاہ سے کیوں خوفزدہ ہے؟ جمہوریت کا خوف تو گلوبلائزیشن کے دعووں پر شکوک و شبہات کو جنم دے گا۔

گلوبلائزیشن اور ووٹر
گلوبلائزیشن جہاں مواقع پیدا کرتی ہے وہاں خطرات کو بھی جنم دیتی ہے۔ ووٹر حضرات جو معاشی حالات سے مطمئن نہیں وہ فقط گلوبلائزیشن کی مخالفت نہیں کر رہے بلکہ حقیقی معنوں میں وہ خطرات کی تقسیم پر سوال اٹھا رہے ہیں جو گلوبلائزیشن کے عمل میں پوشیدہ ہیں۔ مزدوروں کا ایک خاص گروہ ہی کیوں گلوبلائزیشن کی وجہ سے غیر محفوظ ہوجاتا ہے جب کہ سرمایہ دار ویسے ہی رہتا ہے؟ بھارت میں ایک چھوٹے کسان کی کم پیداور مگر خطرے سے محفوظ کاشت کی حکمت عملی کی جگہ ایک وسیع کمرشیل کاشتکاری کیوں اپنائے جس سے کسان اپنی زمین سے ہاتھ دھو بیٹھے؟

اگر بینک اور دوسرے قرض دینے والے ادارے بڑے معاشی نقصانات سے (انشیور) محفوظ ہو سکتے ہیں تو اپنا روزگار خود کمانے والے کیوں محفوظ نہیں ہو سکتے؟ جمہوریت ایک زیادہ مناسب ذریعہ ہے کہ ان خطرات کو سامنے لایا جائے جن سے نمٹنا ضروری ہے۔ بند معاشروں میں جہاں ہر معاشرتی نقش جم چکے ہیں کے بارے میں بحث کی کم ضرورت ہوتی ہے اس لئے کہ وہاں تبدیلی ممکن ہو وہاں نئے ممکنہ خطرات کو سامنے لانا بھی اتنا ہی ضروری ہوجاتا ہے۔ گلوبلائزیشن کی کوئی بھی ایسی شکل جو جمہوریت کو برداشت نہ کرے اس میں دو خامیاں ہوں گیں : وہ گلوبلائزیشن کے اثرات کے بارے میں اہم معلومات کی ترسیل کو روک دےگی اور گلوبلائزیشن کے خلاف مقدمہ تسلیم کررہی ہے کہ گلوبلائزیشن اصل مسائل کے صحیح ممکنہ حل کم کر دیتی ہے۔

گلوبلائزیشن کی دلیل
 گلوبلائزیشن کے حامی اکثر دلائل لوگوں پر ٹھونستے ہیں نہ کہ دلائل دیتے ہیں جیسا کہ جمہوریت کا تقاضہ ہے۔ گلوبلائزیشن کے خلاف ایک سیاسی نفرت کا بازار اس لیے گرم نہیں کہ لوگ اس کے فوائد سے آگاہ نہیں ہیں بلکہ یہ نفرت اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ گلوبلائزیشن کے ضوابط یکطرفہ بنائے جارہے ہیں۔ ایک پھیکی سی مثال یہ ہے کہ بہت کم ممالک ایسے ہیں جو بین الاقوامی معاہدوں پر بحث کرتے ہیں۔اکثر وہ انہیں اپنے قانون سازوں کے سامنے ایسے پیش کرتے ہیں جیسے یہ اٹل ہوں اور تبدیلی کی گنجائش نہ ہو۔

سادہ زبان میں گلوبلائزیشن زیادہ مضبوط اور کامیاب ہوگی اگر یہ بیشتر شہریوں کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے جواز مہیا کرے۔ تعاون زیادہ بامقصد تب ہوتا ہے جب یہ رضاکارانہ ہو اور کسی دباؤ کے تحت نہ ہو۔ جمہوریت سے گزرے بغیر رضاکارانہ تعاون کے بارے میں سوچنا بھی محال ہوجاتا ہے۔ گلوبلائزیشن کے حامی اکثر دلائل لوگوں پر ٹھونستے ہیں نہ کہ دلائل دیتے ہیں جیسا کہ جمہوریت کا تقاضہ ہے۔ گلوبلائزیشن کے خلاف ایک سیاسی نفرت کا بازار اس لیے گرم نہیں کہ لوگ اس کے فوائد سے آگاہ نہیں ہیں بلکہ یہ نفرت اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ گلوبلائزیشن کے ضوابط یکطرفہ بنائے جارہے ہیں۔ ایک پھیکی سی مثال یہ ہے کہ بہت کم ممالک ایسے ہیں جو بین الاقوامی معاہدوں پر بحث کرتے ہیں۔اکثر وہ انہیں اپنے قانون سازوں کے سامنے ایسے پیش کرتے ہیں جیسے یہ اٹل ہوں اور تبدیلی کی گنجائش نہ ہو۔

جمہوریت سست رفتار اور بے ترتیب سہی لیکن یہی وہ طریقہ ہے جو یقین دہانی کراتا ہے کہ تمام پہلوؤں پر سوچ بچار کے بعد دنیا کے لیے ایک نئے معمار کا تعین کیا جا رہا ہے۔ گلوبلائزیشن کا مستقبل اس امر پر منحصر ہے کہ اسے ایسی نظر سے دیکھا جاتا ہے جو ہر وقت اور ہر سطع پر بات چیت کے لیے تیار ہے یا قدرت کی ایسی طاقت سمجھا جا رہا ہے جسے آسانی سے برداشت کرنا ہوگا۔

جدید دنیا دو طرح کے اہم جذبات میں ڈوبی ہوئی ہے ایک وہ جو گلوبلائزیشن کے حامی پیش کر رہے ہیں، ایک ایسی ممکنہ دنیا جس میں خوشحالی اور ایک دوسرے پر انحصار ہوگا۔ اور دوسری وہ خاص سماجی اور معاشرتی دنیا جس پر جمہوریت پسند زور دیتے ہیں یہ وہ سماجی دنیا ہے جس کے خدوخال کو لوگ قبول کرنے کو تیار ہیں۔ کامیاب گلوبلائزیشن کا دارومدار اس بات پر ہے کہ اسے ایک ایسا عمل سمجھا جـائے جس سے ایسی دنیا کی تشکیل ممکن ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ گلوبلائزیشن کا جواز صرف جمہوریت مہیا کر سکتی ہے۔ دوسری طرف جمہوریت تب مضبوط ہوگی جب اسے ایک محفوظ اور خوشحال دنیا کے لیے درکار شرائط کا علم ہوگا۔ یہ دونوں تمنائیں اکثر ایک دوسرے کی ضد ہوتی ہیں لیکن سیاست کا اصل اور ٹھوس کام یہی ہے کہ ان دونوں کو جتنا ممکن ہو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا جائے۔ گلوبلائزیشن جمہوریت کے بغیر برگشتہ ہوگی اور جمہوریت گلوبلائزیشن کے بغیر غیر محتاط۔

ہمیں لکھئے: عالمگیریت سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟

نوٹ: بھانو پرتاپ مہتا نئی دہلی کے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں فلسفہ اور قانون کے پروفیسر ہیں۔ یہ مضمون بی بی سی اردو آن لائن اور ییل سنٹر فار دی اسٹڈی آف گلوبلائزیشن کے درمیان پارٹنرشِپ کے تحت شائع کیا جارہا ہے اور ییل گلوبل کی کائپ رائٹ ہے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد