صفر کا ارتقاء اورگلوبلائزیشن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صفر ایک غیرمعمولی ہندسہ ہے۔ ایک معمولی کردار سے لیکر کیلکولس کی ایجاد تک صفر نے بڑے عظیم دماغوں سے لے کر مختلف خطوں تک کا سفر کیا ہے۔ صفر جس کی دریافت صدیوں قبل ہوئی تھی، آج روزمرُہ کی زندگی میں کافی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ صفر کے تصور کے فروغ میں صدیوں کا عرصہ لگا ہے۔ یہ بہت سے انسانی دماغوں کی سوچ بچار کا نتیجہ ہے۔ اس دوران صفر کے ہندسے نے ان گِنت ملکوں کا سفر کیا ہے۔ آج دنیا میں صفر کے ہندسے کے بغیر کسی قسم کے کام کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ صفر کے ہندسے کے بغیر کیلکولس، فِنانشیل اکاؤنٹنگ جیسے علوم کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بغیر نہ تو روزمرہ کا حساب کتاب کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کمپیوٹر کام کر سکتے ہیں۔۔۔ جب ہم ایک سو، دو سو یا سات ہزار کا تصور کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں ایسے ہندسے کا خیال آتا ہے جس کے بعد بہت سے صفر ہوں۔ صفر کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیجئے کہ ایک ہندسے کے بعد ایک صفر کے اضافہ کرنے یا ہٹا دینے سے اس ہندسہ کی قدر تبدیل ہوجاتی ہے۔ ذرا تصور کریں کہ اگر آپ کی تنخواہ میں سے ایک صفر نکال دیا جائے یا اس میں ایک صفر کا اضافہ کر دیا جائے تو کیا ہو گا؟
سمیرینز سے یہ نظام پہلے پچیس سو قبل مسیح میں اقادینوں (Akkadians) اور پھردو ہزار قبل مسیح میں اہل بابل (Babylonians) تک پہنچا۔ اہل بابل نے سب سے پہلے ایک کالم میں کسی عدد کی غیر موجودگی ایک علامت کے ذریِعے دکھانے کا استعمال شروع کیا۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے 1025 کے ہندسے میں صفر یہ بتاتا ہے کہ اس عدد میں کوئی ’سو‘ نہیں ہے۔ ہر چند اہل بابل کا یہ نظام اچھا آغاز تھا لیکن صفر کا موجودہ شکل میں استعمال صدیوں بعد ممکن ہو سکا۔ قدیم یونان کے ریاضی دانوں نے ریاضی کا بنیادی علم مصریوں سے حاصل کیا۔ لیکن ان کے پاس بھی نہ تو صفر کے لئے کوئی نام تھا اور نہ ہی اہل بابل جیسا نظام۔ ہندوستانی پہلے لوگ تھے جنہوں نے صفر کو ایک علامت اور خیال کے طور پر سمجھا اور استعمال کیا۔ براہما گپتا نے چھ سو پچاس عیسوی میں ریاضی کے بنیادی مسئلوں کے حل کے لئے باضابطہ طور پر صفر کا استعمال شروع کیا۔ اس نے اعداد کے نیچے نقطوں کو صفر کے طور پر استعمال کیا۔ ان نقطوں کو ’شونیہ‘ اور ’خا‘ بھی کہا جاتا تھا جن کا مطلب بالترتیب ’خالی‘ اور ’جگہ‘ تھا۔ براہما گپتا نے جمع اور منفی اور بنیادی ریاضی کے مسائل کے حل کے لئے اصول بھی وضع کیے۔ اس کے ان اصولوں میں واحد خامی ’صفرکی تقسیم‘ کے بابت تھی۔ یہ خامی بعد میں آئزک نیوٹن اور جی ڈبلیو نے دور کی۔
یورپ میں صفر کی آمد اور استعمال صدیوں بعد ممکن ہوسکی۔ پہلے پہل عرب سیاح ہندوستان سے براہما گپتا کے کام کے مسودے دوسری اشیاء تجارت کے ساتھ لحکر آئے۔ صفر بغداد میں سترہ سو تہتر عیسوی میں پہنچا اور عرب ریاضی دانوں نے اس کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔نویں صدی میں محمد ابن موسی الخوارزمی نے الجبراِ ایجاد کیا جس کی بنیاد صفر پر تھی۔اس نے الگورتھم نامی ضرب اور تقسیم کا آسان طریقہ بھی دریافت کیا۔ اس نے صفر کو ’صفر‘ کا نام دیا۔ آٹھ سو اناسی عیسوی تک صفر کو اس کی وجودہ ’بیضوی‘ شکل میں لکھا جانے لگا تھا۔ مسلمانوں کے سپین فتح کرنے کے ساتھ صفر یورپ پہنچا اور بارہویں صدی کے درمیان تک الخوارزمی کے کام کے تراجم برطانیہ پہنچ چکے تھے۔ اطالوی ریاضی دان فبوناچی نے الخوارزمی کے الگورتھم کے کام کو آگے بڑھایا اور بارہ سو دو میں ایک کتاب ’لائبر اباچی‘ یا ’ایباکس بک‘ (Abacus book) لکھی۔ فبوناچی کا کام خصوصاً صفر پر کام جلد ہی اطالوی تاجروں اور جرمن بینکاروں میں مقبول ہوگیا۔ لیکن حکومتیں ابھی بھی صفر کے استعمال کے بارے تحفظات کا شکار تھیں۔ اس کی وجہ صفر کی بڑی سہولت کے ساتھ ایک عدد کو دوسرے عدد میں تبدیل کر دینے کے صلاحیت تھی۔ صفر کے استعمال پر پابندی کے باوجود تاجر صفر کا استعمال خفیہ پیغامات کے ذریعے کرتے رہے۔ اور اسی سے لفظ ’سائفر‘ (Cipher) نے جنم لیا جس کا مطلب ’کوڈ‘ ہے اور عربی لفظ صفر سے بنایا گیا ہے۔ رینی ڈیکارٹے (Descartes) بعد میں آنے والا ایک اور بڑا ریاضی دان تھا جس کےسر ’کارٹیسین کوآرینیٹز‘ کی دریافت کا سہرا باندھا جاتا ہے۔ ایک مثلث یا پیرا بولہ کا گراف کھینچنے والے ڈیکارٹے کے اوریجن 0،0سے واقف ہوں گے۔ اگرچہ صفر کا استعمال اب کافی عام ہوگیا تھا لیکن کیلکولس کے موجد نیوٹن اور لیبنیز (Lebiniz) ابھی اس میں مزید بہتری لانے والے تھے۔
صفر کی جمع، تفریق اور ضرب تو کافی آسان تھی لیکن صفر کی تقسیم میں ابھی کچھ الجھنیں تھیں۔ مثلاً یہ کہ ایک دس میں کتنے صفر ہوتے ہیں۔۔۔۔ اس مسئلہ کا جواب کیلکولس کی بنیاد ہے۔ مثال کے طور پر سٹور پر جاتے ہوئے ایک کار کی رفتار کبھی بھی یکساں نہیں ہوتی۔ٹریفک، اشارے کی بتی اور رفتار پر پابندیاں کار کی رفتار میں کمی یا تیزی کا باعث بنتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایک خاص لمحے پر کار کی رفتار کا تعین کیسے ہو؟ سولہویں صدی میں نیوٹن اور لیبنیز نے اس مسئلہ کا حل نکال کر ساری دنیا پر ممکنات کا ایک لاامتناہی سلسلہ کھول دیا۔ انہوں نے کیلکولس ایجاد کر کے فزکس، انجینیرنگ، معاشیات اور فنانس جیسے موجودہ علوم ممکن بنائے۔ صفر کی صحیح سمجھ اور استعمال نے تہذیبوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ صدیوں، مختلف برآعظموں اور عظیم دماغوں پر محیط صفر کے اس سفر نے اسے انسانی دماغ کے عظیم کارناموں میں سے ایک کارنامہ بنا دیا ہے۔ چونکہ صفر ایک عالمی زبان ہے اور کیلکولس اس کے سر پر تاج، اس لئے صفر ہر جگہ نہ صرف موجود ہے بلکہ استعمال بھی ہوتا ہے۔ ایک عدد کے طور پر اور ایک خیال کے طور پر اپنے مطلب ’غیر موجودگی‘ کی طرح صفر بظاہر کچھ نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ وائی ٹو کے (Y2k) سے پیدا ہپونے والے خدشات کو یاد کریں تو آپ یقیناً اس بات سے اتفاق کریں گے کہ صفر محض ایک دیوانے کی بڑ نہیں ہے۔ ہمیں لکھئے: عالمگیریت سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ نوٹ: یہ مضمون بی بی سی اردو آن لائن اور ییل سنٹر فار دی اسٹڈی آف گلوبلائزیشن کے درمیان پارٹنرشِپ کے تحت شائع کیا جارہا ہے اور ییل گلوبل کی کائپ رائٹ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||