گلوبلائزیشن: مرچ کا سفر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چلی، چلی پیپر، آجی، ہاٹ پیپر، لوپ چیو، مرچ، فلافل، بسابس، اور چلی پپروک تمام ایک ہی پھل کے نام ہیں جو ساری دنیا کے لوگوں کے لیے فرحت کا باعث ہیں۔ ماہرِ نباتیات بے شک اس کی اصل جائے پیدائش پر متفق نہ ہوں لیکن اس کے حیرت انگیز سفر اور اس کے استعمال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مرچ تمام ثقافتوں اور ساری دنیا میں واقعی ایک بین الاقوامی خوراک ہے۔ ثقافتی اعتبار سے کچھ علاقوں میں مرچ اتنے لمبے عرصے،تقریباً پانچ سو برس، سے پائی جاتی ہے اس لیے زیادہ تر لوگ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ مرچ اصل میں جنوبی امریکہ سے آئی تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ میزو امریکہ میں مرچ تقریباً 5000 سال قبل از مسیح سے کھائی جا رہی تھی اور 7000 سال قبل از مسیح سے اگائی جا رہی تھی۔ ماہرِ آثارِ قدیمہ کے اندازے کے مطابق انسان نے 3400 اور 5000 سال قبل از مسیح سے مرچ اْگانے کا آغاز کر لیا تھا جس کا مطلب یہ ہوا کہ مرچ ان پرانی فصلوں میں سے ہے جو انسان نے شروع میں اْگانا سیکھیں۔ صاف ظاہر ہے کہ مرچ کرسٹوفر کولمبس کے امریکہ کے سفر سے بہت پہلے سے وہاں کھائی جا رہی تھی۔ حقیقت میں کولمبس کا خیال تھا کہ یہ وہ مرچ ہے جس کو وہ بھارت میں ڈھونڈنا چاہتا تھا اسی لیے اس نے اس کا نام پیمیئنٹو رکھا جس کو ہسپانوی زبان میں پیپر کہتے ہیں۔اصل میں مرچ کا کالی مرچ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں جس کو پائپر نائگرم کہتے ہیں اور جس کی تلاش کولمبس کو تھی۔ بعد میں کولمبس مرچ ہسپانیہ لایااور اسے مصالحہ کہتا رہا حالانکہ اس کا تعلق پودوں کی اس نوع سے جس میں ٹماٹر، آلو، اور تمباکو شامل ہیں۔ لیکن کولمبس کی غلطی کے باوجود مرچ کے ساری دنیا میں نقل مکانی میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی۔
ہسپانیہ کے مرچ پر دعویٰ کے باوجود ایسے لگتا ہے کہ پرتگالی تاجروں نے مرچ کو ساری دنیا میں عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پرتگال نے، جس کی بحری قوت جو سن چودہ سو اٹھانوے میں بھارت سے کیپ آف گڈ ہوپ تک پھیلی ہوئی تھی، مرچ کی جنوبی امریکہ سے نقل مکانی کا سامان کیا۔ سن چودہ سو چورانوے کے توردیسلاس معاہدے کے بعد دنیا دو حصوں یعنی پرتگال اور ہسپانیہ میں بٹ گئی۔ پرتگال اپنے حصّے خاص طور پر برازیل سے خوب استفادہ کرنا چاہتا تھا اور سولہویں صدی میں وہ برازیل سے باقاعدہ مرچ برآمد کر رہا تھا۔ معاہدے کے بعد جنوبی امریکہ کا صرف یہی حصّہ پرتگال کے حصّے میں آیا۔ سولہویں صدی کے ایک ماہرِ نباتات نے مرچ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا تعلق بحرِ ہند میں گوا کے جزیرے سے ہے تاہم اس نے اسے برازیل ہی کے ایک علاقے ’پرنامبوکو پیپرز‘ کا نام دیا۔ بھارت کے سفر کے دوران راستے میں پرتگالی تاجر افریقہ کی مختلف بندرگاہوں پر رکتے تھے۔ افریقہ کے لوگ چونکہ پہلے سے مصالحوں سے آشنا تھے انہوں نے جلد ہی تند اور تیز ذائقے والی مرچ کو اپنے کھانوں میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔ چند ہی سالوں میں مرچ براعظم افریقہ کے مشرق میں موزمبیق تک پہنچ گئی۔ تاہم تجارت ہی صرف اس کے پھیلنے کی وجہ نہ تھی۔ پرتگالیوں کی افریقہ میں مداخلت کا بھی اس کے پھیلنے میں خاصہ عمل دخل رہا۔ پرتگالیوں نے مختلف افریقی علاقوں سے لوگوں کو غلامی کی زنجیر میں جکڑ ا تاکہ وہ دریافت کیے جانے والی ’نئی دنیا‘ میں اپنے کھیتوں کو آباد کر سکیں۔ خیال تھا کہ اگر کھیتوں میں کام کرنے والے افریقی ایک دوسرے کی زبان سے آشنا نہیں ہونگے تو ان کے بغاوت کرنے کا امکان بھی کم ہوگا۔ اس حکمت عملی کا یہ نتیجہ ہوا کہ پرتگالیوں نے غلام بنانے کا ایک بڑا جال بچھا لیا اور وہ جہاں بھی گئے، مرچ ساتھ لے گئے۔ اس طرح مرچ تمام براعظم افریقہ میں استعمال کی جانے لگی۔ جنوبی امریکہ سے بحراوقیانوس کے دوسری طرف تک مرچ کے سفر کا سراغ تو ہمیں ملتا ہے لیکن بحرالکاہل کی طرف اس کے سفر کا پتہ چلانا ذرا مشکل ہے۔ سن پندرہ سو انتالیس زاراگوسا معاہدے کے تحت ایشیا پیسیفک کے خطے میں ہسپانوی اور پرتگالی سرحدوں کا تعین کیا گیا جس میں ہسپانیہ کو فلپائن ملا اور مولوکا جہاں مصالحے پیدا ہوتے ہیں پرتگال کے ہاتھ لگے۔ سن پندرہ سو چالیس میں پرتگالی انڈونیشیا میں بھی تجارت کر رہے تھے اور اس کے بعد ہی مرچ چین پہنچ گئی لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا پرتگالی لوگ ہی مرچ چین لائے تھے یا نہیں۔ علاوہ ازیں یورپی لوگوں کے آنے سے بہت پہلے بھارتی اور عربی لوگ چین کے ساتھ تجارت کر رہے تھے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ چین کے دو صوبوں حنان اور سیژوواں (جہاں مرچ کثرت سے استعمال کی جاتی ہے) شاہراہِ ریشم کے ذریعے چین سے باہر کی دنیا کے ساتھ رابطے میں تھے۔ اس زمانے میں چین کا ان صوبوں کے ساتھ کوئی زمینی رابطہ نہیں تھا۔ سن پندرہ سو انچاس میں پرتگالی جاپان پہنچے مگر پھر بھی یہ پتہ نہیں چلتا کہ آیا وہاں بھی مرچ انہوں نے متعارف کرائی کیونکہ جاپانی تو پہلے ہی سے ہسپانوی کشتیوں کے ذریعے میکسیکو تک سفر کر چکے تھے۔ سن پندرہ سو چونسٹھ میں مرچ فلپائن پہنچی اور وہاں سے ہسپانوی تجارتی راستے کے ذریعے مائیکرونیشی اور ملانیشیائی علاقوں تک پہنچ گئی۔ اگرچہ ایشیا، انڈیا اور افریقہ نے تو مرچ کو آسانی سے اپنی ثقافت میں کا حصّہ بنا لیا لیکن یورپ کے لوگوں نے اس کے استعمال کو صرف شوق، تجسس اور سجاوٹ تک ہی محدود رکھا۔ ہسپانیہ سے مرچ اینٹورپ پہنچی، وہاں سے سن پندرہ سوچھبیس میں اٹلی اور پھر سن پندرہ سو اڑتالیس میں برطانیہ۔ حیرت انگیز طور پر مشرقی یورپ میں مرچ یورپی تجارت کی وجہ سے نہیں پہنچی بلکہ خیال کیا جاتا ہے کہ مسلمان تاجر مرچ بھارت سے خلیجِ فارس کے ذریعے اسکندریہ یا شام کے شہر الیپو لائے اور وہاں سے مشرقی یورپ۔ ایک اور متبادل راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ ترک لوگ مرچ کو ایشیا سے لائے اور اسے خلیجِ فارس، ایشیاء کوچک اور بحیرہ اسود کے راستے ہنگری تک لے گئے جس پر انہوں نے پندرہ سو چھبیس میں قبضہ کرلیا تھا۔
ہنگری سے مرچ جرمنی پہنچی۔ تیسرا راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ پرتگالیوں نے ہرمز سے مرچ کو مشرقی یورپ برآمد کیا تا کہ بھارت سے لائی ہوئی کالی مرچ کا مقابلہ کر سکے۔ سن پندرہ سو بیالیسں میں جرمن ماہر نباتیات نے کھانا بنانے کی ایک ترکیب بتاتے ہوئے دونوں طرح کی مرچوں کا ذکر کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یورپی لوگوں کو صرف سن اٹھارہ سو اڑسٹھ میں معلوم ہوا کہ مرچ کا اصل گھر بھارت نہیں ہے۔ زیادہ حیرت کا پہلو یہ ہے کہ مرچ کو شمالی امریکہ پہنچنے میں طویل عرصہ لگا۔گومیکسیکو میں مرچ صدیوں سے اگائی جا رہی تھی لیکن شمالی امریکہ میں مرچ تب سامنے آئی جب غلاموں کی تجارت زوروں پر پہنچی۔ سن سولہ سو میں انگریزوں اور ولندیزیوں نے ہسپانیہ اور پرتگال کی بحری برتری ختم کر دی جس سے مصالحوں کی تجارت بھی قدرے آزاد ہوگئی۔ مگر مصالحوں کی تجارت کے باوجود شمالی امریکیوں کو مرچ کا چسکا نہیں لگا بلکہ افریقہ میں اس کی وافر مقدار کی وجہ سے یہ یہاں پہنچی۔ افریقی کھانوں میں مرچ کا استعمال اتنا اہم ہو گیا تھا کہ غلاموں کے تاجر بڑی مقدار میں مرچ کو بحراوقیانوس کے اس پار لے آئے۔ اس سے بھی بڑھ کر شمالی امریکہ میں غلاموں کے کھانے کی عادات کو قائم رکھنے کے لیے بھی مرچ اگانا ضروری ہو گیا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سترھویں صدی تک مرچ شمالی امریکہ میں جگہ بنا چکی تھی۔ آج کل مرچ کی پانچ قسمیں عام ہیں: میزو امریکہ میں کیپسیکم اینم جس کی دوسری شکلوں میں کیانی، بیل اور جالاپینو شامل ہیں، امازون کا نشیبی علاقہ جہاں کیپسیکم فروٹسن جس سے ٹوبیسکو نکلتا ہے، کیپسیکم چینز جو مغربی امازون میں ملتی ہے، کیپسیکم بکیٹم جو صرف جنوبی امریکہ میں پائی جاتی ہے اور کیپسیکم پیوبیسنز جو وسطی امریکہ اور میکسیکو میں بیسویں صدی میں ظاہر ہوئی اور ہر جگہ جانی پہچانی جاتی ہے۔ ساری دنیا میں مرچ کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس میں اتنی لچک تھی کہ یہ انسانی مداخلت کے بغیر بھی ہر طرف پھیل گئی۔ اس کا چھلکا آسانی سے اچھی طرح سوکھ جاتا ہے اور بیج زیادہ عرصے تک ثابت رہتا ہے جس کی وجہ سے اس کے لمبے سفر ممکن ہوئے۔ اس کے علاوہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے پرندے اس کے پھل کو کھاتے اور کئی میل دور تک اس کے بیج گراتے ہیں۔ کیپسیکم نامی مرکب ہے صرف مرچ ہی میں پایا جاتا ہے اور اس سے پھل کی گرمی کا تعین ہوتا ہے۔ گو کہ اس کے چھلکے اور بیج میں اس کی مقدار کم ہوتی ہے لیکن تقریباً نوے فی صد جلن پیدا کرنے والا مادہ اس کی سفید جھلی کے اندر پایا جاتا ہے۔ مرچ یا چلی کا نام قدیم آزٹک زبان نواتل سے نکلا ہے جس میں مرچ کو چلتیپن کہا جاتا ہے۔ مرچ نہ صرف کھانوں میں کڑواہٹ شامل کرتی ہے یہ دافع درد بھی سمجھی جاتی ہے۔ کیپسیاسن یا جلن پیدا کرنے والا مادہ جب ذہن تک پہنچتا ہے تو یہ نہ صرف درد پر قابو پاتا ہے بلکہ خوشگوار احساس پیدا کرتا ہے۔ کیپسیاسن کریم جوڑوں کے درد کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ اور بھی مختلف بیماریوں، جن میں گٹھیا، کمر کا درد، پاؤں کی سوجن اور رگوں سے متعلق بیماریوں کے لیے بنائی جانے والی دواؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔ آج کل بھارت مرچ کا استعمال اور برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ بھارت ہر سال اکیاون ہزار نوسو ٹن مرچ برآمد کرتا ہے۔ یہ اس کا پاوڈر، پسی ہوئی مرچ اور چلی اولیوریزن(تیل اور کشمش کامرکب) بھی برآمد کرتا ہے۔ زیادہ تر مرچ آندرہ پردیش، اوڑیسہ، مہاراشٹر، مغربی بنگال، تامل ناڈو اور راجستھان میں اگائی جاتی ہے۔کل ملا کر بھارت سالانہ تقریباً آٹھ ملین ٹن خشک مرچ پیدا کرتا ہے۔ آپ چاہے جیسے بھی مرچ استعمال کریں۔ چاہے یہ کسی ہندوستانی سالن میں ہو یا تھائی انداز میں بنی مچھلی میں، میکسیکو کے سالسہ کی شکل میں ہو یا کورین کمچی کی صورت میں، مرچ نہ صرف کھانوں کو ذائقہ اور زبان کو مزا دیتی ہے بلکہ مزاج کو بھی خوشگوار بناتی ہے۔ ہمیں لکھئے: عالمگیریت سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ نوٹ: یہ مضمون بی بی سی اردو آن لائن اور ییل سنٹر فار دی اسٹڈی آف گلوبلائزیشن کے درمیان پارٹنرشِپ کے تحت شائع کیا جارہا ہے اور ییل گلوبل کی کائپ رائٹ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||