مسلم دنیا اور بین الاقوامی تجارت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اسلامی دنیا میں معاشرتی نشوونما، اقتصادی ترقی اور روزگار کی فراہمی سے انتہا پسندوں اور قدامت پرست گروہوں کی عوامی حمایت میں کمی آ جائے گی۔ مگر بہت کم ہیں جو اس بارے میں عملی طور پر کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کی مثال لیجئے۔ سن دو ہزار ایک میں اس وقت کے وزیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے ایک اخبار کو بتایا کہ: ’اگر آپ چاہتے ہیں پاکستان ایک روشن خیال اور ترقی یافتہ ملک بنے تو یہ تب تک نہیں ہوگا جب تک آپ اس ملک کے لوگوں کو روزگار نہیں مہیا کرتے۔‘ انہوں نے امریکہ سے کہا کہ وہ پاکستان سے درآمد کیے جانے والے کپڑوں پر ٹیرف یعنی محصول کم کردے۔ لیکن ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔ تین سال بعد پاکستان کے بنائے ہوئے سویٹر اور بستر کی چادروں پر لگایا جانے والا امریکی محصول جاپان اور یورپ سے آنے والی کاروں اور کمپیوٹر چِپس پر لگائے جانے والے محصول سے پانچ سے دس گنا زیادہ ہے۔ یہ مسئلہ صرف پاکستان اور امریکی محصول کا نہیں ہے۔ اس کا تعلق حقیقت میں اسلامی دنیا کی معاشی بدحالی سے ہے جو شمالی افریقہ سے لے کر بنگلہ دیش تک تیس ملکوں اور سات سو ملین لوگوں پر مشتمل ہے۔ معاشی ترقی کے لیے آزاد تجارت کی جس خوبی کا اکثر مغربی دنیا ڈھنڈورا پیٹتی ہے، عام طور پر مسلمان ملکوں کے ساتھ تجارت میں نظر نہیں آتی-
انیس سو اسی میں جب تیل کا بول بالا تھا اسلامی خطے کا عالمی برآمدات میں حصہ صرف چودہ فیصد تھا۔ پچیس سال بعد یہ اعداد وشمار پانچ فی صد سے بھی کم رہ گیا ہے۔۔۔ امریکی تجارت کے متعلق زیربحث آنے والے مسائل جیسے بیرونی وسائل کا استعمال اور دوسرے ملکوں میں کم مزدوری کے عوض کام کرانا یعنی آؤٹ سورسِنگ کا اسلامی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تمام کے تمام ستاون اسلامی ملک میں کل مل کر تقریباً اتنی بیرونی سرمایہ کاری ہوتی ہے جتنی یورپ کے کسی ایک چھوٹے ملک جیسے سویڈن اور ہالینڈ میں ہوتی ہے۔ ایک ایسے وقت جب زیادہ تر دنیا میں گلوبلائزیشن یعنی عالمگیریت پر بحث ہو چکی ہے، ایسا لگتا ہے کہ مسلم ممالک دنیا میں عالمی تجارت سے متعلق جو کچھ ہوا ہے وہ گلوبلائزیشن کی ضد ہے۔ ایک دور میں عالمی معیشت میں مسلم دنیا کا حصہ سکڑ کر پچہتر فی صد رہ گیا ہے۔۔۔ انیس سو اسی سے لے کر اب تک مشرق وسطیٰ کی آبادی 175 ملین سے بڑھ کر 300 ملین ہو گئی ہے۔ اسی طرح جنوب اور وسطی ایشیا میں مسلمانوں کی آبادی 225 ملین سے بڑھ کر 360 ملین ہو گئی ہے۔ اس طرح لگ بھگ 250 ملین نوجوان انہی ملازمتوں کے لیے لڑ رہے ہیں جو انیس سو ستر میں ان کے والدین کے زمانے میں تھیں۔ یہ کوئی حیرانگی کی بات نہیں کہ بہت سے نوجوان لوگ جو بیکار ہیں وہ آسانی سے بنیاد پرست گروہوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ مسلم دنیا میں جنگیں، مذہبی اور لسانی تفریق اس صورتحال کو اور بھی نازک بنا دیتے ہیں۔ اس صدی کے شروع سے ان مسائل کی انٹرنیٹ اور سیٹلائٹ ٹی وی چینلز پر کوریج نے اس حرارت کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ بہت احتیاط سے بنائی گئی تجارتی پالیسی بھی اس رجحان کو پلٹ نہیں سکتی۔ لیکن جیسے گیٹ (GATT ) کے تجارتی معاہدے کے تحت ہونے والے مختلف تجارتی معاہدوں کی وجہ سےانیس سو تیس کے عشرے میں مغربی عالمگیریت کی مخالفت کو پلٹنا ممکن ہوا اسی طرح آج کےدور میں ایک منصفانہ اور آزاد تجارتی ماحول مسلمان ملکوں کی معیشت کو سہارا دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔ تاہم اس وقت زیادہ تر اسلامی دنیا ایک معاشی جمود کی حالت میں ہے۔ مسئلے کی جڑ مقامی سطح پر بنائی جانے والی پالیسیاں ہیں۔ ملکی مفاد میں بنائی جانے والی معاشی پالیسیاں، جنہیں جنوب مشرقی ایشیا اور لاطینی امریکہ ایک عرصے سے چھوڑ چکا ہے، ملکوں کو ایک دوسرے سے اور عالمی معیشت میں الگ تھلگ کر دیتی ہیں۔ زیادہ تجارتی رکاوٹیں اس کی ایک مثال ہیں: شام میں گاڑیوں پر محصول دو سو فی صد ہے حالانکہ شام کوئی گاڑیاں نہیں بناتا۔ پچھلے بیس سالوں میں معاشی پابندیوں کے پھیلاؤ نے، چاہے اس کی سیاسی وجہ کچھ بھی ہو، اس علاقائی خلیج کو اور بھی گہرا کردیا ہے۔۔۔۔توانائی اور تیل کی منڈی پر اثر و رسوخ رکھنے کے باوجود مسلمان دنیا کا ڈبلیو ٹی او کے ذریعے عالمی تجارتی پالیسی بنانے میں عمل دخل مشرقی ایشیا، لاطینی امریکہ اور افریقہ کے صحارا پار کے علاقوں سے بھی کم ہے۔۔۔۔
اس طرح کی پالیسیاں ناقابل تبدیل نہیں ہیں۔ یورپ کے مسلمان اکثریت والے ممالک جیسے ترکی، البانیہ اور بوسنیا کی سوچ مختلف ہے۔ یہ جمہوریت اور یورپی یونین کے ساتھ انضمام کو ہی اپنا مقدر سمجھتے ہیں۔ دریں اثناء جنوب مشرقی ایشیا میں انڈونیشیا اور ملیشیا بڑے برآمد کنندگان اور ڈبلیو ٹی او کے اہم رکن ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں چھوٹے ممالک جیسے اردن، قطر، عرب امارات اور بحرین پالیسی میں نئے طریقے برتنے والے ملک ہیں۔ پاکستان بھی اپنی پالیسی میں تبدیلی لا رہا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے افغانستان اور عراق پر سے پابندیوں کا ہٹایا جانا ان ممالک اور ان کے پڑوسیوں کے لیے سود مند ثابت ہوگا۔ اسلامی ممالک کی معاشی اصلاحات میں کامیابی میں امریکہ اور یورپی دنیا کی واضح دلچسپی ہے۔ مگر ان کی موجودہ پالیسیاں ان کی مدد کی بجائے بعض اوقات ان کے لیے مشکلات کا باعث ہوتی ہیں۔ اس کی ایک مثال یورپی کاشتکاروں کی پالیسیاں ہیں۔ اٹلی، اسپین اور یونان کو زیتون کے تیل کی پیداوار کے لیے حکومتوں کی طرف سے دی جانے والی چھوٹ کوئی دو ارب ڈالر سالانہ ہے (یہ شرح یورپی یونین سے باہر کی دنیا میں زیتون کے تیل کی تجارت سے دو گنا زیادہ ہے) ،جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں یورپی تیل کی قیمتیں کم رہتی ہیں اور قیمتوں میں مقابلے کی وجہ سے مراکش اور تیونس کا اعلیٰ درجے کا زیتون کا تیل دنیا کی منڈی میں آ ہی نہیں پاتا۔ امریکہ کے آزاد تجارتی معاہدے اور ترجیحی جال ایک اور مسئلہ ہیں۔ ان اقدام کی وجہ سے افریقہ اور لاطینی امریکہ کے سڑسٹھ ترقی پزیر ممالک کو محصول معاف ہے۔ اس کا ایک غیر ارادی نتیجہ یہ ہے کہ یہ مسلمان دنیا کے برآمد کنندگان کو ناموافق صورتحال میں ڈال دیتا ہے۔ اگر امریکہ کے پرچون سٹور پیرو، لیسوتھو یا ال سلواڈور سے ایک شرٹ خریدنے پر کوئی محصول نہیں دیتے مگر وہی شرٹ اگر پاکستان، مصر اور ترکی سے خریدیں تو انہیں اس پر بیس فی صد محصول ادا کرنا پڑے گا۔ اگلے سال یہ دباؤ اور بھی بڑھ جائے گا جب ٹیکسٹائل کوٹا ختم ہونے پر بھارت اور چین جیسے بڑے ملک دوسرں سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گے۔ امریکی صدر بش کی انتظامیہ نے ایک تجویز پیش کی ہے جس میں امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک آزاد تجارتی خطے کی بات کی گئی ہے۔ ایک لحاظ سے یہ شاید حد سے زیادہ پر عزم تجویز ہے۔ ایک ہی جیسی سوچ رکھنے والی جمہوریتوں میں جہاں پر کچھ اندرونی جھگڑے ہیں، ایک آزاد امریکی تجارتی خطہ بنانا کافی مشکل مرحلہ تھا جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس طرح کا قدم اٹھانا کتنا مشکل کام ہے۔
دوسرے لحاظ سے یہ زیادہ پر عزم اقدام نہیں۔ اگر یہ کامیاب ہو بھی جاتا ہے اس کے بننے کے دس سال بعد تک کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوگی اور پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان اور وسطی ایشیا اس میں شامل نہیں ہیں۔ اس طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل اہم ملکوں کو اس سے باہر رکھا گیا ہے۔ مراکش اور بحرین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں کی کوشش زیادہ حقیقت پسندانہ ہے لیکن یہ دونوں ممالک خطے کی سات سو ملین آبادی میں سے صرف پینتیس ملین آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک آسان اور فوری طور پر زیادہ بااثر حل یہ ہوگا کہ اس تجویز کی طرف لوٹا جائے جس کا مشورہ پاکستانی وزیر نے تین سال پہلے دیا تھا۔ امریکی کانگریس پہلے ہی اس طرح کا خیال پیش کر چکی ہے۔ گزشتہ خزاں میں امریکی سینیٹرز میکس باکس اور جان مکین نے دو ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر ایک بل متعارف کرایا تھا تاکہ اٹھارہ مسلمان ملکوں کی اشیاء پر سے محصول ہٹا لیا جائے، ان میں شمالی امریکہ سے لے کر پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔ صدارتی امیدوار جان کیری نے اسی طرح کا نظریہ بہت پہلے دیا تھا ۔۔۔۔ اس طرح کی حکمت عملی سے جلد ملازمت کے مواقع پیدا کرنے اور سرمایہ کاری میں مدد ملے گی۔ ممکن ہے اس سے ایک ایسا تجارتی نظام وجود میں آئے گا جس کا جھکاؤ اصل میں امریکہ کے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادیوں کے خلاف ہوگا۔ ایک ڈیوٹی فری خطہ بن جانے سے مستقبل کی امریکی انتطامیہ ایک مثبت بنیاد ڈالنے کی پوزیشن میں ہوگی۔اس کے ساتھ ہی وہ مسلمان دنیا کے ساتھ زیادہ بہتر تجارتی تعلقات گھڑنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر سوچ بچار کر سکتے ہیں۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے وزیر عبدالرزاق داؤد کے مشورے پر تین سال پہلے عمل نہیں کیا مگر اس آغاز کے لیے اب بھی وقت ہے۔ نوٹ: یہ مضمون بی بی سی اردو آن لائن اور ییل سنٹر فار دی اسٹڈی آف گلوبلائزیشن کے درمیان پارٹنرشِپ کے تحت شائع کیا جارہا ہے اور ییل گلوبل کی کائپ رائٹ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||