 |  بیروت میں رفیق حریری کے قتل کے بعد شام کے خلاف مظاہرے |
عراق پر حملوں کے بعد سے مشرق وسطیٰ میں کافی تبدیلیاں دیکھی جارہی ہیں۔ عراق میں تشدد کے درمیان عوام نے مزاحمت کاروں کی دھمکیوں کے باوجود ووٹ دینے کا ایک جرات مندانہ قدم اٹھایا، اگرچہ سنی برادری نے ووٹنگ میں مختلف وجوہات کی وجہ سے حصہ نہیں لیا۔ سعودی عرب کی حکومت بھی دباؤ میں رہی ہے اور پہلی بار وہاں میونسپل الیکشن منعقد کرائے گئے۔ سعودی حکومت وعدے کررہی ہے کہ آئندہ انتخابات میں خواتین کو بھی ووٹ دینے کا حق ملے گا۔ مصر کی حکومت پر بھی بیرونی اور داخلی سیاسی دباؤ ہے۔ مصر کے صدر حسنی مبارک نے انتخابی اصلاحات کا اعلان کیا ہے جس کے تحت آئندہ صدارتی انتخابات میں مختلف جماعت اپنے امیدوار نامزد کرسکیں گے۔ یہی مطالبات مصر میں حزب اختلافات کے رہنما کرتے رہے تھے۔ ادھر فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی موت کے بعد صدارتی انتخابات میں محمود عباس اور بلدیاتی انتخابات میں حماس کے رہنما بھاری مقبولیت سے کامیاب ہوئے ہیں۔ شام اور ایران کی حکومتوں پر بھی کافی بیرونی دباؤ ہے۔ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں رفیق حریری کے قتل کے بعد حالیہ مظاہروں اور بین الاقوامی دباؤ کے تحت شام اپنی افواج لبنان سے واپس بلانے کی کوشش کررہا ہے۔ آپ کے خیال میں مشرق وسطیٰ میں جو تبدیلیاں آرہی ہیں ان کا اثر کیا ہوگا؟ اگر آپ مشرق وسطیٰ کے کسی شہر میں ہیں تو ہمیں بتائیں کہ وہاں کے لوگ آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں
شاہد لقمان، سعودی عرب: سعودی عرب میں ہونے والے انتخابات امریکہ کے دباؤ کا نتیجہ ہیں۔ شاہد جاوید، امریکہ: میں ذیشان کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہر بات کا ذمہ دار امریکہ نہیں بلکہ اپنی غلطیوں پر بھی غور کرنا چاہیے لیکن اس کے باوجود میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ درست نہیں کہ عراق اور افغانستان کی تباہی میں امریکہ کا ہاتھ ہے؟ اب ایران، لبنان اور شام میں جو ہو رہا ہے اس میں بھی امریکہ اور اسرائیل ہی کا ہاتھ ہے؟ عمیر بن ریاض، حیدرآباد: اس طرح تو امریکہ خود پھنس رہا ہے۔ عوام میں جوں جوں سیاسی شعور بیدار ہوتا جا رہا ہے امریکی پالیسیوں کی قلعی بھی کھل رہی ہے اور امریکہ سے نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ میرے خیال میں خلیجی ممالک میں جمہوری حکومتوں کے قیام سے اسرائیل کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔ اس کی وجہ سے یہ ہے خلیجی ممالک کے عوام اسرائیل سے شدید نفرت کرتے ہیں اس لیے ان کی منتخب کی گئی حکومتیں ایسی ہی پالیسیاں اپنائیں گی۔ جاپانی سپیشل: میں آپ کی توجہ ایک اہم بات کی طرف دلاتا ہوں کہ یہ لڑکیاں جو انتہائی بےہودہ طریقے سے لڑکوں کے کندھوں پہ چڑھی ہیں۔۔۔ انہیں کیا شرم نہیں آتی؟ اختر نواز، یو اے ای یہ تبدیلی عرب عوام کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ درحقیقت مشرقِ وسطیٰ کی حکومتیں طاقت میں شراکت برداشت نہیں کرتی ہیں۔ جہاں تک بات امریکہ کی ہے وہ مشرقِ وسطیٰ کی معیشت پر تو پہلے ہی قابض ہے۔ عطا الرحمنٰ، کینیڈا یہ سب امریکہ کی گیم ہے۔ امریکہ اسرائیل کو مضبوط کرنے کے لیے مسلم ممالک میں بے چینی پیدا کر رہا ہے۔ فدا زاہد، کراچی مشرقِ وسطیٰ میں ہونی والی تبدیلیاں واقعی باعثِ تشویش ہیں۔ یہ سب امریکہ کے دباؤ پر ہو رہا ہے۔ لبنان سے شامی افواج کا انخلاء اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ محی الدین، کوئٹہ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی تبدیلیاں امریکہ کی اس خطے میں طاقت کا توازن اپنے حق میں کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ جاوید ملک، چکوال: یہ تبدیلی ہے تو مثبت لیکن ایسی تبدیلیاں کسی بیرونی طاقت کے دباؤ میں نہیں آنی چاہییں۔ ہر ملک کے عوام کو آزادی ملنی چاہیے لیکن اس سلسلے میں امریکہ کا رویہ قابلِ مذمت ہے۔ زاہد، کراچی: کوئی تبدیلی نہیں آ رہی۔ یہ سب امریکہ اور اس کے حواریوں کا کیا دھرا ہے۔ عارف نظامی، جہانیاں: امریکہ دینِ اسلام کا خاتمہ چاہتا ہے اور اس لیے وہ اسلامی ممالک میں اپنے پنجے گاڑ رہا ہے۔ عرفان راجہ، راولپنڈی: جو نظر آ رہا ہے وہ اصل حقیقت نہیں۔ دراصل ایک مسلمان کی سوچ کبھی جمہوری نہیں ہو سکتی۔ ذیشان سعید، ملتان: ہم امریکہ کو ہر چیز کا ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے۔ ہمیں اپنی غلطیوں پر بھی غور کرنا چاہیے۔ عامر مسعود، اسلام آباد: موجودہ حالات میں یہ بہت ضروری ہے کہ شام لبنان میں اپنی فوجیں رکھے۔ نصراللہ خان، پرتگال: اس وقت دنیا میں بہت بڑی تبدیلی آنے والی ہے جس کی ابتداء مشرقِ وسطیٰ سے ہو رہی ہے۔ ابو حبیب، دبئی اس افراتفری کے پیچھے دراصل اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ ابھی تو مشرقِ وسطیٰ میں کچھ نہیں بدلا، تبدیلی تو اب آئے گی۔ نوید نقوی، کراچی: انگریز دو سو سال آگے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور یہ سب جو مشرقِ وسھیٰ میں ہو رہا ہے اسی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ ساجد احمد، اسلام آباد امریکہ لبنان میں یہ سب کچھ اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے کر رہا ہے۔ رملہ حسن، برطانیہ: امریکہ نہ جانے کیوں امریکہ ہر کسی کے معاملات میں دخل اندازی کرتا ہے۔ دو کشتیوں کے سوار اکثر ڈوب جاتے ہیںاور امریکہ تو کئی کشتیوں میں سوار ہے۔ افتخار احمد شاعر، قطر: مڈل ایسٹ کی سیاست میں زبردست تبدیلی دیکھنے کو آرہی ہے۔ اب یہاں پر بنیادی انسانی حقوق کی بات ہورہی ہے۔ اور اس خطے میں امریکہ کی موجودگی تبدیلیوں کی بنیادی وجہ ہے اور ایک بہت مثبت اشارہ ہے آنے والے دنوں کے لئے۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: مشرق وسطیٰ میں جو تبدیلیاں آرہی ہیں ان کی نوعیت خواہ کچھ بھی ہو خدا کرے کہ یہ سب لوگ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں آنے والی پریشانیوں کا ابھی بھی کچھ اندازہ کرسکتے ہیں تو کرلیں۔۔۔۔ مبشرحسین، سعودی عرب: یہ سب تبدیلیاں داخلی نہیں ہیں، یہ سب امریکہ کے دباؤ میں لائی جارہی ہیں۔۔۔۔ امتیاز، بنڈرال پبلک اسکول: میرے خیال سے امریکہ ساری دنیا پر حکمرانی کرنا چاہتا ہے۔ اس کی وجہ سے امریکہ جنرل مشرف کا استعمال کررہا ہے۔۔۔ شمع یاسانی فضی، سعودی عرب: حالات اپنے آپ ہی نہیں بدل رہے ہیں۔ یہ امریکہ ہے جو تبدیلیوں کے لئے دباؤ ڈال رہا ہے۔ لیکن یہ تبدیلی اچھائی کی جانب نہیں ہے، یہ دلوں میں تبدیلی کی خواہش کی وجہ سے نہیں ہے۔ عارف جبار قریشی، سندھ: یہ سب امریکہ کا دباؤ ہے۔ مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورت حال کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل ہیں۔ رفقی حریری کا قتل افسوس ناک ہے، اس کے پیچھے بھی صیہونی لابی کا ہاتھ ہے، مصر، شام، لبنان، سعودی عرب، فلسطین پر امریکہ کنٹرول چاہتا ہے ویسے ہر ملک کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہئے۔ عرفان بیگ، کراچی: امریکہ اور اس کے اتحادی اسی طرح کے مظاہرے چاہتے ہیں۔۔۔۔ ایم اے بنیان، العین، بحرین: یہاں کے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ سب امریکہ کی چال ہے۔ وہ عرب ممالک کو اپنے چنگل میں پھنسانا چاہتا ہے اور وہاں اپنی نمبرداری چمکانے کے لئے یہ سب کچھ کروا رہا ہے۔ یہاں اب باشعور لوگ امریکہ سے سخت نفرت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ امریکہ عرب ممالک سے نکل جائے۔ اگر یہ ممالک متحد ہوگئے تو امریکہ یہاں ٹھہر نہیں سکتا۔ سعید احمد بےگانہ، نماٹا سٹی: حالات بدل نہیں سکتے۔ اگر آپ دس سال بعد بھی یہی سوال پوچھیں گے تو اس وقت بھی ایسے ہی حالات ہوں گے۔ سید ہاشمی، شیکاگو: میرے خیال میں ان اقدامات سے لوگوں کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ کیوں کہ یہ مذہب یا حکومتوں کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ایشو کلچر کا ہے، جس علاقے کے لوگ اسلام کے ماننے والے ہیں۔ اسلام کسی بھی سماج سے زیادہ آزادی اور حقوق دیتا ہے۔ مثال کے طور پر کاروکاری کی رسم اسلام میں نہیں ہے۔۔۔۔ |