منشیات پر ایک پس منظر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منشیات پر جب بھی بات ہوتی ہے تو صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں اور افغانستان کا ذکرضرور آتا ہے۔ لیکن اس میں ہمیشہ منشیات کی کاشت اور خرید وفروخت کو ایک مسئلہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ لیکن ضروری نہیں کہ مقامی لوگوں کا بھی یہی خیال ہو۔ چرس کی کاشت، خرید وفروخت اور اس پر کنٹرول کے بارے میں متضاد خیالات حسب ذیل ہیں۔ اکرام اللہ جان کوکی خیل خیبر ایجنسی قبائلی معاشرے میں چرس کی خرید وفروخت اور اس کا استعمال ایک عام سی بات ہے۔ ہمارے آباءواجداد ہمیشہ سےاس نشے کی تجارت کرنے کے علاوہ اسے خود بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔ پشتو کےکئی شعراء نے اپنے شعروں میں اس نشے کا تذکرہ کیا ہے۔
چرس اتنا برا نشہ بھی نہیں کیونکہ نشے کی دوسری اقسام کے مقابلہ میں اس کے اثرات اتنےزیادہ مضرنہیں۔اس بات کا اندازہ اس سے بھی لگا سکتے ہیں کہ بعض یورپی ممالک میں اس کے پینے پر کوئی پابندی نہیں ۔ شراب کے برعکس اس نشےمیں پینے والا اپنے ہوش و حواس نہیں کھوتا۔ جن قبائیلی علاقوں میں بھنگ کی کاشت ہوتی ہے، جس سے چرس بنتا ہے، وہاں پر بہت غربت ہے۔ پہاڑی اور ناہموار علاقے ہونے کی وجہ سےوہاں پر کوئی دوسری فصل کاشت نہیں ہوتی اس لیے لوگ مجبوراً بھنگ کاشت کرتے ہیں۔ قیام پاکستان سے آج تک ان علاقوں میں ترقیاتی کام نہیں ہوئے۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ حکومت نے جان بوجھ کر ان علاقوں کو پسماندہ رکھا۔ ان علاقوں میں بھنگ کی کاشت اور خرید وفروخت کا پرانا طریقہ تجارت ’بارٹر سسٹم’ یعنی اشیاء کے بدلے اشیاء کا طریقہ کار رائج ہے۔غریب کاشت کار ہرسال چرس کے تاجروں سے یا تو چیزیں لیتے ہیں یا ان سے پیسے قرض لیتےہیں جس کے بدلے میں وہ سال کے اختتام پر ان کو اسی حساب سے چرس دیتے ہیں۔اس طرح یہ دو طرفہ تعاون کا کاروبار سالہاسال جاری رہتا ہے۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ جو قبائیلی دس گرام یا بیس گرام چرس کے لین دین کے جرائم میں گرفتار ہوتے ہیں ان کو کئی سال تک جیل میں گزارنے پڑتے ہیں۔ ایسے مقدمات میں پولیس بہت زیادتی کرتی ہے اور مجرموں کو مارا پیٹا جاتاہے۔ بین الاقوامی تنظیموں کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیے، بلکہ بہتر یہ ہوگا کہ چرس کی خرید وفروحت اور اس کے استعمال پر پابندی ختم کردینی چاہیے کیونکہ قبائیلی علاقوں میں اسکی باقاعدہ کاشت ہورہی ہے وہاں سے یہ پاکستان کے دوسرے علاقوں میں جا رہا ہے۔ پاکستان کا کوئی شہر ایسا نہیں جہاں پر یہ ملتا نہ ہو۔ ان حالات میں اس پر پابندی کا کوئی فائدہ نہیں۔ محمود شاہ خیبر ایجنسی چرسں بھنگ کے خشک پودوں سے بنتا ہے۔ بھنگ کا پودہ سبز رنگ کا ہوتا ہے جسکا قد چھ سے سات فٹ ہوتا ہے۔یہ پودے عام طور پر برفانی اور پہاڑی علاقوں میں کاشت ہوتے ہیں۔ اسے مارچ اور مئی کے درمیان کاشت کیا جاتا ہے جبکہ ستمبر کے آخری ایام میں اس کی کٹائی ہوتی ہے۔ چونکہ بنیادی طور پر یہ ایک بارانی فصل ہے اس لیے بھنگ کم پانی والے علاقوں میں بھی کاشت ہوتی ہے۔ بھنگ کے پودے سے چرس بننے تک کا عمل کئی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ بھنگ کو کاٹنے کے بعد خشک کرنے کے لیے کھلے آسمان تلے رکھا جاتا ہے۔بارش اور برفباری کے دوران اسے کھلی جگہ سے ہٹایا نہیں جاتا، بلکہ کہا جاتا ہے کہ برف سے اس کی کوالٹی بہتر ہوتی ہے۔ جب یہ فصل اچھی طرح خشک ہوجاتی ہے تو اس سے گردہ نکالا جاتا ہے۔ گردہ مقامی زبان میں خام چرس کو کہتے ہے۔
گردہ کو ململ کے کپڑے سے چھنا جاتا ہے۔ چونکہ یہ بہت زیادہ خشک ہوتا ہے اس لیے اس کو کچھ دنوں کے لیے دنبے کے کھال میں بند کردیا جاتا ہے تاکہ یہ چکنا ہوجائے۔ تقریباً بیس سے پچیس دنوں تک یہ گردہ دنبے کی کھال میں بند رہتا ہے اور اس دوران یہ سرخ رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ چرس کے تاجر اس کو گردے کی شکل میں تھوک کے بھاؤ فروخت کرتے ہیں۔ آخر میں خشک گردے کوآگ پر سےگزارا جاتا ہے جس سےاس کا رنگ سیاہ ہوجاتاہے۔اس کو پکا ہوا چرس کہتے ہیں۔ چرس پینے کے ویسے تو کئی طریقے ہیں لیکن سگریٹ میں پینے کا طریقہ زیادہ عام اور آسان ہے۔ محمد جاوید شینواری تاجر لنڈی کوتل خیبر ایجنسی میری لنڈی کوتل بازار میں چرس کی ایک چھوٹی سی دکان ہے جس میں صرف چرس فروخت ہوتا ہے۔ میں خود بھنگ کاشت نہیں کرتا بلکہ کاشت کاروں سے مال خریدتا ہوں۔ قبائلی علاقوں میں چرس کی خرید وفروخت اور اسکی کاشت پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ چونکہ یہ علاقے قیام پاکستان سے آج تک نہایت پسماندہ رہے ہیں اسی وجہ سے ان علاقوں کے رہنے والے زیادہ تر لوگوں کا اہم ذریعہ معاش یہی کاروبار رہا ہے۔
بھنگ کی فصل صرف قبائیلی علاقوں میں کاشت ہوتی ہے ویسے تو یہ نیم خودمختار علاقے سات ایجنسیوں پر مشتمل ہیں لیکن بھنگ کی فصل زیادہ تر خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی اور جنوبی وزیر ستان کے علاقوں میں پیدا ہوتی ہے۔ کوالٹی اور ذائقے کے لحاظ سے چرس کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔ جوگردہ فصل کے شروع کےپھولوں سے نکالا جاتاہے اسکی قیمت آجکل سات ہزار سے نو ہزار روپے فی کلوگرام ہے جبکہ دوسرے اور تیسرے درجے کا گردہ چار ہزار روپے سے بارہ سو روپے فی کلوگرام تک ہوتی ہے۔ پاکستان کےقبائلی علاقوں سے چرس بیرون ممالک بھی سمگل ہوتا ہے۔ جو لوگ گروہ کی شکل میں غیر قانونی طورپر بیرون ممالک جاتے ہیں، یا سمگل کیے جاتے ہیں، وہ اپنے ساتھ چرس بھی لیکر جاتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالفتاح پشاور بلا شبہ یہ ایک خطرناک نشہ ہے جو جسم میں سب سے زیادہ اثر دماغ پر کرتا ہے ۔ چرس کے عادی افراد کا اعصابی نظام وقت کے ساتھ ساتھ کمزور ہوتا رہتا ہے اور اس میں اکثر لوگ پاگل ہوجاتے ہیں۔ چونکہ یہ نشہ بہت زیادہ خشک ہوتا ہے اسی وجہ سے یہ پینے والے کے دماغ کو بھی خشک کردیتا ہے۔ چڑچڑا پن اور غصہ تو اس میں عام سی باتیں ہیں۔
اس نشے میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس کے عادی کسی کام کے نہیں رہتے۔ یہ لوگ ہر کام میں سستی کرتے ہیں، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ان کا جی کسی کام میں نہیں لگتا۔ اس کےعادی افراد گوشہ نشین ہوجاتے ہیں اس لیے چرس کے عادی افراد کاانجام بہت برا ہوتا ہے ۔ یہ نشہ کرتے کرتے ایک وقت ایسا بھی آجاتا ہے کہ نشہ کرنے والا اس کو پھر کبھی نہیں چھوڑ سکتا۔ ہماری تنظیم ’نجات سنٹر‘ نشے کے عادی افراد کے بحالی کے لیے کام کررہی ہے۔ ہمارے پشاور اور کابل میں کئی مراکز جن میں اب تک ہیروئن ، افیون اور چرس کے عادی ہزاروں مریضوں کا کامیاب اور مفت علاج کیا گیا ہے۔ کوئی بھی نشہ چھوڑنے کے لیے عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان ایک دفعہ ارادہ اور نیت کرے تو کوئی کام بھی مشکل نہیں۔ طلبہ کو اس نشے سے دور رہنا چاہیے کیونکہ یہ ان کے لیے زہر قاتل ہے۔ شاہ زمان خان ڈائریکٹر جنرل فاٹا (وفاق کے زیرانتظام قبائیلی علاقے) پشاور وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں حکومت کی جانب سے چرس کی خرید وفروخت اور اس کی کاشت پر مکمل پابندی عائد ہے لیکن بدقسمتی سے ان نیم خود مختار علاقوں میں قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ دراصل یہ علاقے قیام پاکستان کے وقت سے آزاد اور خود مختار رہے ہیں یہاں کی اپنی روایات اور طور طریقے ہیں۔ ان علاقوں کے انتظامی امور پو لیٹکل ایجنٹ چلاتے ہیں جو وفاقی حکومت کا نمائندہ ہوتا ہے جبکہ صوبائی حکومت کا ان علاقوں کے امور میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔
چند ایک انتظامی امور کے علاوہ حکومت نے کبھی بھی ان علاقوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کی ہے۔ چونکہ چرس کے اثرات اتنے زیادہ مضر نہیں جتنے افیون یا ہیروئن کے ہوتے ہیں،اسی وجہ سے حکومت نے ان علاقوں میں اسکی کاشت اور تجارت کے حوالے سے زیادہ پابندیاں نہیں لگائی ہیں لیکن اس میں شک شبہے کی گنجائش نہیں کہ چرس کا نشہ ایک بہت بڑی لعنت ہے۔ گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد سے حکومت نے قبائیلی علاقوں میں جو ترقیاتی کام شروع کیے ہیں اس سے ان علاقوں میں خواندگی میں اضافہ ہوگااور لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوگا جس سے اس لعنت کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ حکومت قبائلی علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور توقع ہے کہ آئندہ دس پندرہ برسوں میں یہ علاقے بندوبستی علاقوں کے برابر آجائیں گےاوریہاں پرغیر قانونی کاموں کا خاتمہ ہوجائے گا۔ ماضی میں قبائلی علاقوں میں افیون کا باقاعدہ کاروبار ہوتا تھا اور اسکی کاشت بھی ہوتی تھی لیکن جس طرح حکومت نے ان علاقوں سے افیون کا مکمل خاتمہ کردیا ہے اور اس کو زیرو لیول تک لے آئے ہیں اسی طرح چرس کا دھندہ بھی ختم کر دیاجائےگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||