پاکستان میں اقلیتوں کے لئے کتابوں کی کمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں حکومتِ پنجاب کی توجہ اقلیتوں کے لئے کتابوں کی کمی کی جانب دلانا چاہوں گا۔ پنجاب کی حکومت نے گزشتہ جون میں ایک اسکول مینیوول چیف منسٹر کے ایک آرڈر کے ذریعہ جاری کیا تھا جسے چند ماہ قبل شائع کیا گیا ہے۔ لیکن اس میں اقلیتوں کی تعلیمی ضروریات کی کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔ یہ مینیول صرف مسلم طالب علموں کے لئے ہے اور دوسرے مذاہب کے طالب علموں کے بارے میں ایک جملہ بھی اس میں نہیں لکھا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پنجاب کا شعبۂ تعلیم صرف مسلمانوں کے لئے ہے۔ حکومت کے اس اسکول مینیوول کے ساتھ ساتھ جو نصاب فراہم کیا گیا ہے اس میں بھی اقلیتوں کے لئے کسی کتاب کا ذکر تک نہیں ہے۔ ان سبھی غیرمسلم طالب علموں کو اسلامیات پڑھنی پڑتی ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سماجیات اور اخلاقیات کے موضوعات پر اقلیتوں کے لئے کتابیں فراہم کرے۔ کچھ اس طرح کی کتابیں جو اقلیتوں کے اپنے تعلیمی اداروں میں ہیں انہیں گورنمنٹ اسکول میں پڑھانے کی اجازت نہیں ہے۔ ضرورت ہے کہ گورنمنٹ اس بات کی اجازت دے کہ اقلیتی طالب علم یہ کتابیں گورنمنٹ اسکول میں بھی پڑھ سکیں۔ میری بھتیجی سارہ وِکٹر ایف اے فرسٹ ایئر میں پڑھتی ہے۔ میں نے لاہور جاکر اس کے لئے کتابیں تلاش کرنے کی کوششیں کی لیکن کوئی کامیابی نہیں ملی۔ نجی اداروں کی جانب سے بھی اقلیتوں کے لئے کوئی کتابیں شائع نہیں کی جارہی ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اقلیتوں کے لئے خصوصی طور پر مفت کتابیں فراہم کرے۔ پاکستان کے فیڈرل بورڈ کے تحت اقلیتی طالب علموں کے لئے نصاب ہے لیکن ان کے لئے کتابیں نہیں ملتی ہیں۔ غیرمسلم طالب علموں کے لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ کتابیں شائع کرے۔ اقلیتوں کے لئے کتابوں کی کمی کا مسئلہ صرف اسکول کی سطح پر نہیں ہے بلکہ کالجوں میں بھی یہ بڑا مسئلہ ہے۔ حکومتی سطح پر کچھ کرنے سے ہی غیرمسلم طالب علموں کے لئے کتابیں دستیاب ہوسکتی ہیں۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت اگر آپ بھی کسی موضوع پر لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||