خوف کی زندگی کسے پسندہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب صدر سادات اسرائیل آئے تومیں خود کو رونے سے نہ روک سکی۔ میری ماں کچھ ہی سال پہلے فوت ہو چکی تھیں اور میں سوچ رہی تھی کہ وہ اگر اس دن زندہ ہوتیں تو اپنی آنکھوں سے علاقے میں امن ہوتے دیکھ سکتیں۔ اس دن ہر کوئی یہ کہہ رہا تھا کہ اب چونکہ مصر کے ساتھ امن ہو گیا ہے تو آئندہ کوئی جنگ نہیں ہوگی۔ لیکن افسوس کہ آج اتنے سال گزر جانے کے باوجود ایسا نہیں ہوا۔ علاقے میں امن دیکھنے کی خواہش اب حسرت بن گئی ہے اور مایوسی نے امید کی ہر کرن کو بجھا دیا ہے۔ میں عرب بدوؤں کے علاقے میں ایک سکول میں پڑھایا کرتی تھی لیکن مجھے مجبوراً قبل از وقت ریٹائر ہونا پڑا کیونکہ اس علاقے میں یہودیوں اور عربوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی تھی۔ اگرچہ سکول کے عرب بچے اپنے یہودی اساتذہ کی بہت عزت کرتے تھے لیکن ان کے بڑے ہمیں بالکل پسند نہیں کرتے تھے۔ ایک یہودی استاد کوپیٹا گیااور دوسرے کئی استادوں کو دھمکیاں دیں گئیں۔ میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا لیکن پھربھی میں اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہی تھی۔ سکول میں ایک بھی یہودی بچہ نہیں تھا۔ میں نے اپنے شوہر کی مدد کے ساتھ وقت سے پہلے ریٹائر ہونےاور اپنی پنشن پر گزارہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ بھی صرف اس وجہ سے ممکن ہوا کہ میرے شوہر ایک انجینئیر ہیں اور اچھے پیسے کما رہے تھے۔ یہ خیال کہ اگر میرے پاس نوکری چھوڑنے کی استطاعت نہ ہوتی اور مجھے اسی سکول میں کام کرتے رہنا پڑتا، میرے لیے خوف سے خالی نہ تھا۔ اپنے ہی ملک میں خوف میں زندہ رہنا کسے اچھا لگ سکتا ہے؟ اور پھر ان لوگوں سے خوفزدہ رہنا جنہیں اس ملک میں ہر سہولت میسر ہے اوروہ اس ٹیکس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جو ہم اپنی حکومت کو دیتے ہیں۔ میری تین بیٹیاں ہیں۔ ایک یروشلم میں رہتی ہے۔میں کبھی بھی خبریں سننا نہیں بھولتی اور جب بھی یروشلم میں کوئی خود کش حملہ ہوتا ہے میرا دل ڈوب جاتا ہے۔ کئی بار ایسا بھی وقت آیا کہ میں بیٹی کی خیریت معلوم کرنے کے لیے فون کرنا چاہتی اور میرے ہاتھ بےاختیار کانپنا شروع کر دیتے۔ اس دن تو میں بے ہوش گئی جب ہیبرو یونیورسٹی کے کیفے میں بم پھٹا کیونکہ میں جانتی تھی کہ میری بیٹی اسی کیفے میں دن کا کھانا کھاتی ہے۔ عربوں اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تشدد سے میں عربوں کے بارے میں بدظن ہوتی جا رہی ہوں۔ یہ سچ ہے اور میں اسے چھپانا بھی نہیں چاہتی۔ یہاں جنوبی اسرائیل میں ہم لوگ عربوں میں گھرے ہوئے ہیں اور آئے دن یہ لوگ ہمارے گھروں میں چوریاں کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ ہمارے قبرستانوں سے چوری کرنے سے باز نہیں آتے۔ ایک عرصے تک میں یہی سوچتی تھی کہ یہ لوگ چوری اس وجہ سے کرتے ہیں کہ یہ غریب ہیں اور ان کے پاس ملازمتیں نہیں ہیں لیکن اب مجھ ایسا لگتا ہے کہ ایسا نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ ہم سے نفرت کرتے ہیں۔ عرب ہمارے ساتھ کئی دہائیوں سے امن میں رہ رہے ہیں اور یقین جانیے ان کی معاشی حالت ان عربوں سے کئی گنا بہتر ہے جو فلسطینی علاقوں میں رہ رہے ہیں۔ہماری حکومت ان کے ساتھ کوئی تعصب نہیں کرتی۔ ان کو وہ سب حقوق حاصل ہیں جو ہم یہودیوں کو ہیں۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس کی عرب دنیا کے ملکوں میں کوئی مثال نہیں۔اس بات کا ثبوت یہ بھی ہے کہ یہاں رہنے والے عرب کبھی بھی اپنی بیٹیوں کو فلسطینی اتھارٹی کے علاقوں میں نہیں بیاہتے، بلکہ خود وہاں سے شادی کر کے یہاں لاتے ہیں۔ اس سب کے باوجود ہم سے ان کی نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔مجھے تو یہاں امن کی کوئی امید نہیں ہے۔ جس دن ہمارے علاقے یعنی بیرشیوامیں خود کش حملہ ہوا تومیں تو بالکل بوکھلا گئی۔ میں ٹیلیفون پر اپنے شوہر سے بات کر رہی تھی اور ان کی کال ختم ہوتے وقت میں نے فون پردھماکے کی آواز سنی۔ بعد میں مجھے پتا چلا کہ وہ تومحفوظ رہے لیکن وہ واقعی دھماکے کی جگہ کے قریب تھے ۔ اس واقعہ سے میرےایک اور اعتماد کو دھچکہ لگا۔ میرا خیال تھا کہ عرب اس علاقے میں ایسی کارروائی نہیں کریں گے کیونکہ یہاں ان کی بہت بڑی تعداد رہتی ہے۔ بعد میں جب اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ اس دھماکے کے پیچھے واقعی اسرائیل میں رہنے والے عربوں کاہاتھ ہے تو میرا ان لوگوں پر اعتماد بالکل ہی اٹھ گیا۔ پچھلے چار سال کے تشدد نے میری زندگی پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔مجھےایک ملازمت پیشہ خاتون سے ایک گھریلوخاتون میں بدلنا پڑ گیا ہے۔ اس بات کا اندازہ اسی شخص کو ہو سکتا ہے جو اس میں سے گزرا ہو۔سارا دن محض اپنے شوہر کا انتظار کرنا، کھانا پکا دینا، اور کچھ بار فون پر اپنی بیٹیوں کی خیریت معلوم کر لینا۔۔۔۔ان کاموں کے علاوہ میرے پاس کرنے کو کچھ بھی نہیں۔ میں دماغی طور نڈھال ہو چکی ہوں۔ اگر حالات ٹھیک رہتے تومیں اپنےشوہر کے ساتھ ریٹائر ہوتی اور میری حالت اتنی خراب نہ ہوتی۔ میری بیٹیوں کو بھی میری پریشانی کا اندازہ نہیں اور وہ میری کالوں سے چڑجاتی ہیں جس سے میرا دل اور ٹوٹتا ہے۔ میری کئی ایک دوست اب بھی کام کر رہی ہیں۔ انہیں دیکھ کر مجھے اپنی حالت پر ترس آتا ہے۔پچھلے تین سال سے میری زندگی کسی جہنم سے کم نہیں اور خود پر قابو رکھنا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||