BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 February, 2005, 12:23 GMT 17:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رملہ سے براہ راست: فلسطینی لڑکی کی آپ بیتی

سترہ سالہ سہد بدر رملہ میں رہتی ہیں
سترہ سالہ سہد بدر رملہ میں رہتی ہیں
مجھے گائے کا دودھ دوہتے ہوئے دیکھ کر لوگ میری طرف عجیب سی نظروں سے دیکھتے تھے۔ ہمارے معاشرے میں عام طور پر یہ لڑکیوں کا کام نہیں ہے۔ لیکن میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا کیوں کہ اسرائیل میں تعمیراتی کاموں میں میرے والد کی نوکری چلی گئی اور وہ پاگل سے ہوگئے، انہوں نے شراب پینی شروع کردی۔۔۔۔

یہاں تک کہ منشیات اور شراب کے لئے بھی مجھے انہیں پیسے دینے پڑنے لگے۔ بیس برسوں سے زائد انہوں نے اسرائیل میں تعمیراتی کام کیے تھے، اب ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں۔ فلسطین میں نوکری کی کوئی امید بھی نہیں، اس کی وجہ سے میری زندگی تبدیل ہوگئی۔۔۔۔

گزشتہ دو سالوں میں میں اسکول نہیں گئی، میں پندرہ سال کی تھی، اچھی طالب علم تھی۔ میرے والدین کے علاوہ میرے تین بھائی بہن ہیں۔ میری ماں کام میں مدد کرتی ہے اور ہمارے پاس دو گائیں ہیں جن پر ہماری زندگی منحصر ہے۔ ہماری حالت دیکھ کر بہت لوگ دودھ خریدنے ہمارے یہاں آتے ہیں اور زندگی کی ہماری جدو جہد ایسی ہے کہ ہمارے لئے بھی دودھ نہیں۔۔۔۔

جب میرے چھوٹے بھائی بہن دودھ کے لئے روتے ہیں تو میرا دل رو بیٹھتا ہے۔۔۔

میرے والد نے اپنی نوکری سے کچھ نہیں بچایا لیکن کم سے کم وہ نوکری ٹھیک تھی۔ یہ سب کچھ ہونے سے قبل مجھے میرے بچپن کے وہ خوش نما دن یاد ہیں۔ میں یہودیوں اور اسرائیلیوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئی لوگوں کو دیکھتی ہوں لیکن ہمارے ارد گرد جو کچھ ہورہا ہے اس کے بارے میں مجھے زیادہ معلوم نہیں۔

میری زندگی میں جو تبدیلی آئی ہے اس نے مجھے نفرت کرنا نہیں سکھایا ہے بلکہ اس کے برعکس میں یقین کرنے لگی ہوں کہ نفرت سے نفرت پیدا ہوتی ہے جس سے کسی کا فائدہ نہیں ہوتا۔

میں ایک عملی سمجھوتے کے حق میں ہوں جس سے میں اسکول جاسکوں اور نارمل بچوں کی طرح اپنی زندگی بسر کرسکوں۔ مجھے نہیں لگتا کہ دوسرے ممالک میں رہنے والے بیشتر فلسطینی یہاں واپس آنا چاہتے ہیں۔ شاید وہاں ان لوگوں نے اپنی زندگی بسالی ہے۔ جو لوگ واپس آنا چاہتے ہیں ان کے لئے ہم تیاریاں کرسکتے ہیں۔۔۔

مجھے اس بات سے نفرت ہے جب لوگ ہم پر رحم کرتے ہیں۔ مجھے اس بات سے بھی نفرت ہوتی ہے جب کوئی مدد کا ہاتھ بڑھاتا ہے، تاہم جن مشکلات سے ہم گزرے ہیں اس میں میں نے سمجھوتہ کرنا سیکھ لیا ہے، ساتھ ہی میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی جانب زیادہ ذمہ دار ہوگئی ہوں۔

میری ماں کو دمہ کی بیماری ہے اور وہ زیادہ کام نہیں کرسکتی ہے۔ ہماری آمدنی کا بیشتر حصہ اس کے لئے دوائیں خریدنے میں صرف ہوجاتا ہے۔ ہم نے کچھ اثاثے فروخت کردیے ہیں اور اگر حالات یہی رہے تو ہمارے پاس دوسری نوکری تلاش کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا۔

لیکن اب تک میں نے نوکری کی کوشش نہیں کی ہے کیوں کہ میرے والد مجھے باہر جاتے ہوئے برداشت نہیں کرپائیں گے۔ وہ غصہ ہوجاتے ہیں، ہمیں مارتےہیں۔ میں اور ماں نے یہ سوچا کہ گھر پر جو بھی حالات ہیں ان سے نمٹنے کی کوشش کریں۔ ہماری مدد کے لئے ہماری دو گائیں ہیں۔

میں یہاں اسرائیلی فوجیوں کو تلاش کے لئے آتے ہوئے دیکھتی ہوں، وہ مختلف الزامات کے تحت مسلسل لوگوں کو گرفتار کرتے ہیں۔ میرے والد جب بھی انہیں دیکھتے ہیں غصہ ہوجاتے ہیں، چلانے لگتے ہیں، اور ہبریو زبان میں گالیاں دینے لگتے ہیں۔

مجھے ڈر لگتا ہے کہ اسرائیلی فوجی میرے والد کو بھی گرفتار نہ کرلے جائیں۔ کسی طرح میرے اندر یہ احساس ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ میرے والد ڈیپریشن میں ہیں اور اگر وہ انہیں گرفتار کرلیں تو یہ ان کے لئے ایک مسئلہ ہی ہوگا۔ ان لوگوں نے میرے والد کو کچھ نہیں کہا ہے اور نظر انداز کرتے رہے ہیں۔

مجھے غصہ آتا ہے جب میں فوجیوں کو اس گھر میں کسی کا لحاظ کیے ہوئے بغیر، زبردستی داخل ہوتے ہوئے دیکھتی ہوں۔ لیکن میرے حالات ایسے نہیں ہیں جن میں میں یہ سوچ سکوں کہ ہمارے ارد گرد کیا ہورہا ہے۔۔۔

نوٹ: سہد بدر نے رملہ میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لئے ہریندر مشرا سے بات چیت کی۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد