میری رائے: حیدرآباد دکن کی یہ لڑکی۔۔۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج کل ٹینس میں ثانیہ مرزا کی کامیابی سے مسلم گھرانوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی ہے، مسلم لڑکیاں اس کو اپنا آئیڈیل بناچکی ہیں، اور ان کو لگتا ہے کہ آج کے دور میں بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔ آسٹریلیا میں سرینا ویلیمز کے خلاف مقابلے کے بعد ثانیہ کی ایک امیج بن گئی اور خصوصی طور پر نوجوان نسل کے لئے ایک انسپائریٹر کے طور پر ابھری ہے۔ خصوصی طور پر مسلم لڑکیاں یہ سوچنے لگی ہیں کہ مذہب کھیل کے میدان میں یا عالمی فیگر بننے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ پہلے یہ سوچا جاتا تھا کہ لڑکیاں کھیل کے میدان میں نہیں جاسکتی ہیں، لیکن اب صرف مسلم لڑکیوں میں ہی نہیں بلکہ تمام لڑکیوں میں ایک نئی امنگ ہے۔ سب سے اہم یہ ہے کہ ثانیہ مرزا نے چھ سال کی عمر سے ہی ٹینس کھیلنی شروع کی تھی اور آج کل نئی نسل، کم عمر کے بچے بھی، اپنی زندگی اور کیریئر کا تعین کم عمر سے ہی کرنے کی سوچ رہے ہیں۔ والدین پر سوچنے لگے ہیں کہ بچوں کے لئے تعلیمی کیریئر ہی اہم نہیں ہے بلکہ کھیل کے میدان یا زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ لڑکے لڑکیاں صرف ٹینس ہی نہیں، بلکہ دوسرے کھیلوں جیسے تیراکی وغیرہ کے بارے میں سنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔ ثانیہ مرزا کے منظرعام پر آنے سے مسلم معاشرے میں نئی سوچ پیدا ہوئی ہے۔ وہ صرف نوجوانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ والدین کے لئے بھی ایک آئیڈیل ہے۔ ثانیہ چونکہ ابھی صرف اٹھارہ سال کی ہے اس لئے اس کا سب سے زیادہ اثر نئی نسل پر پڑا ہے۔ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت اگر آپ اپنےمسائل کے بارے میں کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھ بھیجئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||