اوسلوکے وقت امید تھی: فلسطینی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صالح عمر خطیب کی عمر ستر سال ہے۔ وہ یروشلم اور غرب اردن کے درمیان واقع شہر ہجمہ کے باشندے ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی۔فلسطینی تنازعے پر تاریخ کو یوں یاد کیا: ’’فلسطینیوں کا المیہ یہ ہے کہ انہیں ہر جانب سے بےوفائی ملی۔ ایک ٹینیجر کی حیثیت سے میں نے سامراجی طاقت کی بےوفائی دیکھی، صیہونیوں کی بےوفائی بھی دیکھی، اور پھر عرب دنیا کی بےوفائی کا کیا کہئے۔۔۔ مجھے لگتا کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کا میرا خواب شاید میری زندگی میں پورا نہ ہو جیسا کہ یاسر عرفات کے ساتھ بھی ہوا۔ سامراجی قوتوں نے یہاں ویسا ہی کچھ کیا جیسا کہ انہوں نے دوسرے ملکوں میں کیا، اس کی مثال برصغیر بھی ہے جہاں جنگ اور تقسیم کی وجہ سے لاکھوں لوگ مارے گئے اور تقسیم ہوگئے۔ فلسطینی بھی مشرق وسطیٰ کے کئی علاقوں میں تقسیم ہوگئے ہیں، بغیر عزت کے زندگی بسر کرتے ہیں، اس امید میں کہ ایک دن گھر واپس آنے کا موقع ملے گا۔ میرا کئی رشتہ داروں سے تعلق چھوٹ گیا اور آج تک مجھے نہیں معلوم وہ کہاں ہیں۔ اس کے بارے میں جب بھی میں آج سوچتا ہوں تو ڈیپریشن میں چلا جاتا ہوں۔ اسرائیلی ریاست کے قیام کی بنیاد یورپ کے ضمیر میں ہے۔ انہوں نے یہودی لوگوں کے ساتھ جو زیادتیاں کی اس کی قیمت ہم چکا رہے ہیں۔ آج یہودی لوگ وہی سب کچھ ہمارے ساتھ کررہے ہیں۔
انیس سو اڑتالیس کی جنگ کے بعد جو حقیقت سامنے آئی اس کو سمجھنے میں کافی وقت لگا۔ عرب ملکوں نے زمین چھڑانے کے لئے جنگ کرنے کا وعدہ کیا اور فلسطینیوں نے امید کرلی کہ وہ سرخ رو ہوکر وطن لوٹیں گے۔ اس طرح کا کچھ بھی نہ ہوا۔ اس احساس کے ساتھ جیتے رہے کہ پہلے کی جگہ ایک نئی سامراجی قوت آبیٹھی ہے، جو پہلے سے بھی زیادہ ظالمانہ ہے۔ انیس سو چھپن کی جنگ میں عرب فوج کی شکست نے ہمیں احساس دلایا کہ ہم دوسروں کا انتظار نہیں کرسکتے، ہمیں اپنی لڑائی خود لڑنی ہے۔ ایک ایسے دور میں یاسر عرفات نے ہماری آنکھوں میں چمک پھونک دی۔ اور اگرچہ اوسلو معاہدے کو آج کی نسل اہم نہیں سمجھتی ہے لیکن ہمارے وقت میں یہ بڑی کامیابی تھی جس کے ذریعے ہماری کچھ زمین ہمیں مل گئی۔ بدقسمتی سے عرب دنیا کا ہمارے ساتھ رویہ ٹھیک نہیں رہا ہے۔ عرب قومیت جس کے بارے میں ہم نے کبھی سنا اور میں اس میں دلچسپی رکھتا تھا کیوں کہ میں ہمیشہ سیاسی شخص رہا ہوں، ایک مضحکہ خیز چیز ہے۔ یہ ایک تقسیم شدہ دنیا ہے جس میں سب کا (امریکہ کے ساتھ تعلقات میں) اپنا مفاد ہے۔ کچھ لوگ بھول جاتے ہیں کہ اردن میں فلسطینیوں کے ساتھ برا سلوک ہوا اور یاسر عرفات کو انیس سو ستر کے عشرے میں نکال دیا گیا۔ ہم کمزور تھے اور ہم نے پورے عزم کے ساتھ جد و جہد جاری رکھی ہے۔ یہ ہمارا واحد ہتھیار ہے۔ لیکن ہم نے کچھ ٹیکٹیکل غلطیاں بھی کی (انیس سو نوے میں) عراق کی حمایت کرکے جس سے عرب ملک خفا ہوگئے۔ یہ امریکہ کے خلاف ایک جذباتی قدم تھا، اور عرب ممالک کے خلاف نہیں تھا۔۔۔ میں نے اسرائیل میں کام کیا ہے اور کئی بار جیل بھی گیا ہوں۔ کئی بار ان کے پاس مجھے جیل بھیجنے کی صحیح وجوہات تھیں، کبھی نہیں۔ لیکن جہاں تک میرا سوال ہے ہماری جد و جہد جائز ہے۔ آج آپ اسرائیل میں جو خوش حالی دیکھتے ہیں وہ ہمارے لوگوں کی وجہ سے ہے جنہوں نے وسائل اور عمارتیں تعمیر کی۔۔۔۔ میرے گاؤں کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسرائیل میں کام کرتی تھی، ان کی بستیاں تعمیر کی جو آپ چاروں طرف دیکھ سکتے ہیں تاہم انہوں نے ہماری بےعزتی کی، ہمیں ستایا۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ انہیں ہماری ضرورت پھر پڑے گی۔ انہوں نے غیرملکی مزدور لانے کی کوشش کی۔ ہمارے بہت سے لوگ مشکل سے جینے کی کوشش کررہے ہیں کیوں کہ ہماری زندگی یہودی لوگوں کے پیسوں پر منحصر ہے۔۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ یاسر عرفات پرخلوص تھے، انہیں میں ذاتی طور پر جانتا تھا، انہوں نے اپنی زندگی ہمارے لئے وقف کردی، وہ امن عمل کی جانب خلوص نیتی سے کام کررہے تھے۔ میں کوئی ایسی وجہ نہیں دیکھ سکتا جس کی وجہ سے یہ کہا جاسکے کہ ان کے ارادے نیک نہیں تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اسرائیلی مقاصد پر شک ہونے لگا تھا۔ لہذا وہ اس بات میں یقین کرنے لگے کہ فلسطینیوں کو ہتھیار چھوڑنے کے لئے اپیل نہ کریں۔
محمود عباس پرخلوص شخص ہیں اور نیک نیتی سے کام کررہے ہیں۔ لیکن مجھے امید نہیں ہے۔ اسرائیلی رہنما ہمیشہ اپنے وعدوں سے پھر گئے ہیں، جس کا احساس جلد ہی آپ کو ہوجائے گا۔ یہ ان کے مفاد میں ہے کہ یہ تنازعہ زندہ رہے، یہودی معاشرے میں جو اختلافات ہیں وہ ہماری جانب سے پیدا ہونے والے خطرے کی وجہ سے کنٹرول میں ہیں۔ وہ ایک طاقتور ملٹری پاور ہیں، ہم سے ان کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے۔۔۔۔ اوسلو معاہدہ ایک واحد وقت تھا جب مجھے یقین ہوچلا تھا کہ ہماری سرزمین پر امن قائم ہوجائے گا اور ہمیں آزاد فلسطینی ریاست مل جائے گی۔ زمین پر ہمارا حق ہے۔ یہودی لوگوں کو اس زمین سے اپنا تعلق ثابت کرنے کی ضرورت ہے، لیکن ہمارے کیس میں ان کے ذریعے حقیقت تبدیل کی جارہی ہے تاکہ ہمارے وجود کے بارے میں غلط تصورات جنم لیں۔ ایک دور میں ہم ساتھ ساتھ بھی رہے، اقتصادی ترقی ملی، لیکن اسرائیل نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ وزیراعظم رابن کی موت سے کافی دھچکا پہنچا۔ یاسر عرفات کو رابن میں اعتماد تھا۔ ہم میں سے بعض لوگوں نے غلطیاں کی یہ نہ سمجھ کر کہ تشدد کا وقت یہ نہیں تھا۔ اس تنازعے میں تین اہم باتیں ہیں جو قیام امن کے لئے ضروری ہیں: فلسطینی ریاست کا قیام اور مشرقی یروشلم میں مذہبی مقامات پر ہمارا کنٹرول، فلسطینی پناہ گزینوں کی اسرائیل واپسی جس کے لئے فلسطینی تحریک جاری رہی ہے، اور اوسلو معاہدے کے تحت فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی فوج کی واپسی۔ آج ہمارے سامنے جو کچھ ہے اس سے لگتا ہے کہ امریکہ کی مدد سے جو اسرائیلی کا غزہ سے واپسی کا پلان ہے اس کے تحت ہمیں کم زمین ملے گی، بہ نسبت اس کے جو ہمیں اوسلو معاہدے میں وعدہ کیا گیا تھا۔ فلسطینی اسے قبول نہیں کرسکتے۔‘‘ نوٹ: صالح عمر خطیب نے ہمارے نمائندے ہریندر مشرا سے بات چیت کی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||