BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 May, 2004, 13:03 GMT 18:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عزت نفس کی جستجو: فلسطینی طالبہ
ریم حسن سادا
فلسطینی طالبہ: ریم حسن سادا
ریم حسن سادا کی عمر انیس سال ہے، وہ بیت اللحم یونیورسٹی میں مینیجمینٹ کے دوسرے سال کی طالبعلم ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے ہمارے نمائندے ہریندر مشرا سے بات چیت کی۔

’مشرق وسطی میں تاریخ کا سب سے بڑا جرم ہو رہا ہے، اسرائیل نے باڑھ کی تعمیر کی اور یہ بات کتنی افسوسناک ہے کہ اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا اور اس پر کوئی احتجاج نہیں ہوا۔ سلامتی کے نام پر باڑھ بنا کر ہمیں اپنے پیاروں سے اور روز گار سے کاٹ دیا گیا۔ ہمیں تنگ کرنے اور ہم پر دباؤ ڈالنے کی اسرائیل کی ایک طویل المدت حکمت عملی جاری ہے۔

میں بیت اللحم یورنیورسٹی میں مینیجمینٹ کے دوسرے سال میں پڑھ رہی ہوں۔ مجھے دن میں دو بار رکاوٹوں کو عبور کرنا پڑتا ہے اور اس سے مجھے بہت زیادہ ذہنی اذیت ہوتی ہے۔ ویسے بھی موجودہ صورتحال میں جو کچھ میں یورنیورسٹی میں پڑھ رہی ہوں، مجھے اس کا مستقبل میں کوئی فائدہ یا استعمال نظر نہیں آتا۔ مجھے یہ سب بے معنی لگتا ہے۔

اس علاقے میں اسرائیل کے اتنےلمبےعرصہ سے جاری قبضے کی وجہ سے معیشت بالکل تباہ ہو چکی ہے۔ سیاحت جس پر ابھی تک معیشت کا انحصار ہے، اس کی حالت بھی دگرگوں ہے۔ ان حالات میں کون اپنی جان کا خطرہ مول لے کر سیاحت کے لئے یہاں آئےگا؟ پچھلے کرسمس کے موقع پر ہم بڑے پرامید تھے کہ تین سالوں کے انتظار کے بعد اب سیاح یہاں آنا شروع ہو جائیں گے لیکن ہماری یہ امید پوری نہ ہوئی۔ میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد کسی فرم میں مینجر کی حیثیت سے کام کرنا چاہتی تھی لیکن اب میں اپنے پانچ بھائیوں اور پانچ بہنوں کی کفالت کے لئے کوئی بھی کام کرنے کے لئے تیار ہوں ۔

عزتِ نفس
 موجودہ حالات میں نہ تو ہماری کوئی عزت نفس ہے اور نہ ہی ہمیں کام کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہمیں ہر وقت ذلیل و خوار کیا جاتا ہے۔
ریم حسن سادا

میرے والد درمیانے درجے کے تاجر تھے لیکن حالات سے مجبور ہو کر وہ مشرقی یروشلم کے ایک ریستوران میں ویٹر کے طور پر کام کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اب وہ اکثر حفاطتی باڑھ اور سڑکوں پر دوسری رکاوٹوں کی وجہ سے کام پر نہیں جا سکتے اور اپنا غصہ وہ گھر کے افراد پر نکالتے ہیں۔

موجودہ حالات میں نہ تو ہماری کوئی عزت نفس ہے اور نہ ہی ہمیں کام کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہمیں ہر وقت ذلیل و خوار کیا جاتا ہے۔ جولائی میں اسرائیل کے علاقے سے فوجیں واپس بلانے کے اعلان کے باوجود وہ ابھی بھی مختلف بہانوں سے ہمارے علاقہ میں گھس آتے ہیں اور سلامتی کے نام پر معصوم لوگوں کو گرفتار کر لیتے ہیں۔

فلسطینیوں کے حالات انتہائی مخدوش ہوتے جا رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ رفتہ رفتہ ہتھیار اٹھانے والے فلسطینیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ فلسطینی نوجوانوں نے اچانک ہی اپنی جانیں قربان کرنا شروع کر دی ہیں۔ وہ ایسا کرنے پر اس لئے مجبور ہو ئے ہیں کیونکہ انہیں اپنی زندگی میں امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔ رسوائی اور مایوسی کی وجہ سے کتنی جانیں ضائع ہو گئی ہیں۔

تعلیمی ادارے ویران ہو گئے ہیں۔ جو طلباء پڑھنے آتے بھی ہیں، وہ ہر وقت اسی مسئلے پر گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ ایک خالی ذہن شیطان کی آماجگاہ ہوتا ہے اور یہاں پر یہی ہو رہا ہے۔ اپنے مستقبل سے مایوس نوجوانوں نے تعلیم چھوڑ کر اپنی عزت کے تحفظ کے لئے ہتھیار اٹھا لئے ہیں۔

میرے خیال میں نوجونوں کو ہتھیار اٹھانے یا کسی قومی مقصد کے لئے خود کو بموں سے اڑانے کی تعلیم نہیں دی جا رہی۔ اگر ایسا ہے تو پھر ماضی میں بھی ایسا ہونا چاہیے تھا۔ ایسا صرف پچھلے تین سالوں میں کیوں ہوا ہے؟ ماضی میں اس علاقے میں زمانۂ امن میں کوئی خود کو بم سے اڑانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ کسی بھی طرح کی نظریاتی تبلیغ سے کسی کو ایسا کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ زیادہ تر نوجوان اپنے روز مرہ کے تجربے کی روشنی میں ایسا کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ان کے بزرگوں کی ان کے سامنے تذلیل کی جاتی ہے بلکہ ساری آبادی کو بدترین ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہیں جگہ جگہ روک کر سر سے پاؤں تک تلاشی لی جاتی ہے۔ ان سے ان کے تھیلے اور دوسری اشیاء کھلوا کر دیکھی جاتی ہیں اور شک کی بنیاد پر ان کےہاتھ باندھ کر تلاشی لی جاتی ہے۔ کیا انسانوں سے ایسا سلوک کیا جاتا ہے؟

ہتھیار اٹھانے کی وجہ؟
 میرے خیال میں نوجونوں کو ہتھیار اٹھانے یا کسی قومی مقصد کے لئے خود کو بموں سے اڑانے کی تعلیم نہیں دی جا رہی۔ اگر ایسا ہے تو پھر ماضی میں بھی ایسا ہونا چاہیے تھا۔ ایسا صرف پچھلے تین سالوں میں کیوں ہوا ہے؟
ریم حسن سادا

وزیراعظم شیرون ایک لومڑ کی مانند چالاک ہیں اور کبھی بھی نہیں بدلیں گے۔ جب تک وہ اقتدار میں ہیں، اس وقت تک امن کی امید بے سود ہے۔ امن کی صرف ایک صورت ہے اور وہ یہ کہ شیرون اقتدار چھوڑ دیں اور اسرائیل میں بائیں بازو کی قوتیں امن کے لئے پرزور سخت اقدامات کریں۔

موجودہ صورتحال دونوں فریقوں کے لئے سود مند نہیں۔ دونوں طرف شدت پسندی نے جڑ پکڑ لی ہے اور ہر پرتشدد اقدام سے اس میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ لیکن زیادہ تر فلسطینیوں پر اسرائیل کا حملہ بلا اشتعال اور بغیر وجہ کے ہوتا ہے۔ شیرون ایسا اپنی کھال بچانے کے لئے کر رہے ہیں۔ انکا سارا خاندان بدعنوانی میں ملوث ہے اور ہمیں قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ شیرون اپنے اور اپنے خاندان کے تحفظ کے لئے خون بہا رہا ہے۔

دوسری طرف وہ ہمیں ہمارے عزیز رشتہ داروں سے جدا کر رہا ہے۔ ہم ان سے حفاظتی باڑھ کی خلاف ورزی کئے بغیر ان سے مل بھی نہیں سکتے۔ ہم نوجوان ہونے کی وجہ سے ایسا کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں لیکن ہمارے بزرگ کیا کریں۔ ان کے پاس باڑھ کے اس پار اپنے خونی رشتہ داروں سے رابطہ کا کوئی ذریعہ نہیں۔

فلسطینی زیرِانتظام علاقوں میں بھی ہم قیدیوں کی طری رہتے ہیں۔یہ علاقے ایک دوسرے سے متصل نہیں ہیں اور ہم عملاً ان کے رحم و وکرم پر ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال شدت پسندی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نہ چاہتے ہوئے بھی شدت پسندی کی طرف مائل ہو رہے ہیں کیونکہ اس کے سوا انہیں نجات کی کوئی اور صورت نہیں نظر نہیں آرہی۔

بین الاقوامی برادری کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے اور غیر جانبدار حیثیت میں اس علاقے میں امن و سلامتی کی بحالی کے لئے کوئی ٹھوس اقدام کرنا چاہیے۔‘

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد