میری رائے: سعودی عرب میں ووٹنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج سے سعودی عرب میں پہلی بار ووٹنگ ہورہی ہے۔ یہ میونسپل الیکشن پہلا موقع ہیں جب لوگوں کو ووٹ دینے کا حق ملا ہے۔ تاہم یہ احساس ہوتا ہے کہ عام سعودی باشندے کے اندر شعور نہیں پیدا ہوا ہے کہ الیکشن کیا ہوتا ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے۔ سعودی حکومت عوام سے کہہ رہی ہے کہ ووٹ دیں۔ لیکن ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات میں الیکشن سے متعلق اشتہارات کم ہی ہیں، اور کبھی کبھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پڑھے لکھے لوگوں کے اندر یہ احساس تو ہے کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے، پاس پڑوس میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں لیکن عام سعودی باشندوں کے اندر جمہوری عمل کے بارے میں شعور نہیں ہے۔ الیکشن کے موقع پر یہاں گرما گرمی نہیں جیسا کہ پاکستان میں ووٹنگ کے وقت ہوتی ہے، اور جو بدو لوگ ہیں ان کو کوئی آئیڈیا بھی نہیں کہ الیکشن کیا ہوتا ہے۔ مدرسوں میں پڑھنے والے اٹھارہ۔بیس سال کی عمر کےعام سعودی نوجوانوں کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ الیکشن کا مطلب کیا ہے۔ سعودی عرب میں یہ کوشش اپنی نوعیت کی پہلی ہے لیکن تبدیلیاں آنے میں کافی وقت لگے گیں۔ تاہم تعلیم یافتہ لوگ اس کی تعریف ضرور کرتے ہیں۔ عراق کی حالیہ ووٹنگ کا اثر عام سعودیوں پر بالکل نہیں پڑا ہے، تاہم نوجوانوں کو پڑوس میں آنے والی ان تبدیلیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کبھی کبھی ضرور سنا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں میرے بچے کو بھی معلوم ہوجائے گا کہ میرے ایریا میں امیدوار کون ہے اور کس پارٹی کا ہے لیکن سعودی عرب میں حقیقت یہی ہے کہ عام لوگوں کو یہ معلوم بھی نہیں کہ یہ الیکشن کا موسم ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||