غربت کی جیل میں کروڑوں قید: منڈیلا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افریقہ کے رہنما نیلسن منڈیلا نے امدادی ادارے آکسفام کی مہم ’غربت کو ماضی بنائیں‘ کے تحت لندن میں تین فروری کو ایک ریلی سے خطاب کیا۔ ان کی مکمل تقریر حسب ذیل ہے۔ ’’مجھے خوشی ہے کہ ’غربت کو ماضی بنائیں‘ تحریک کے تحت مجھے یہاں آنے کا موقع ملا ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، میں نے حال ہی میں عوامی زندگی سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے اور اس لئے حقیقت میں مجھے یہاں نہیں ہونا چاہئے تھا۔ لیکن جب تک دنیا میں غربت، ناانصافی اور عدم مساوات برقرار ہے، ہم آرام سے نہیں بیٹھ سکتے۔ مزید، گلوبل کیمپین اگنسٹ پورٹی یعنی غربت مخالف مہم ایسے مقصد کے لئے کام کررہی ہے کہ یہاں آنے کی اس کی اس دعوت کو میں ٹھکرا نہیں سکتا تھا۔ بڑے پیمانے پر غربت اور گندی بےانصافی ہمارے دور کی بڑی بیماریاں ہیں، ایک ایسے دور میں جب دنیا سائنس، ٹیکنالوجی، صنعت اور دولت جمع کرنے پر فخر کررہی ہے، جب ساتھ ساتھ غلامی اور اپارتھیڈ جیسی نسل پرستی بھی سماجی بیماریوں کے طور پر زندہ ہیں۔ غربت کے خلاف مہم۔۔۔ غلامی ختم کرنے کی تحریک اور اپارتھیڈ کے خلاف عالمی تحریک کے ساتھ ساتھ عوامی تحریک کی حیثیت اختیار کرسکتی ہے۔ اور میں (جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کی پالیسی) اپارتھیڈ کے خلاف جد و جہد میں برطانیہ کے عوام کی حمایت کو کبھی بھول نہیں سکتا۔ بہت لوگ اس جد و جہد میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔۔۔۔ آپ نے اپنے جذبات اور کوششوں کے ذریعے اس سماجی بیماری (اپارتھیڈ) کو ماضی کا حصہ بنادیا۔ لیکن اس نئی صدی میں دنیا کے غریب ملکوں میں کروڑوں لوگ غلامی میں اور (غربت کی) قید میں ہیں۔ وہ غربت کی جیل میں قید ہیں، وقت آگیا ہے کہ انہیں آزاد کرایا جائے۔ غلامی اور اپارتھیڈ کی طرح، غربت فطرتی عمل نہیں ہے۔ غربت انسان کی بنائی ہوئی ہے اور اسے انسانوں کے اقدام کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔ اور غربت کا خاتمہ کرنا بھیک نہیں ہے۔ یہ انصاف کا ایک قدم ہے۔ یہ ایک بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ہے، یہ ایک اچھی زندگی کے حقق کا تحفظ ہے۔ جب تک غربت قائم ہے، حقیقت میں آزادی نہیں ہے۔ ترقی یافتہ ممالک سے جن اقدام کی ضرورت ہے وہ واضح ہے۔ پہلی ضرورت ہے بین الاقوامی تجارت میں انصاف کی۔ میں نے پہلے بھی کہا ہے تجارت میں انصاف ایک اچھا طریقہ ہے جس کے ذریعے عالمی غربت کے خاتمے کی جانب ترقی یافتہ ممالک اپنی ذمہ داری دکھا سکتے ہیں۔ دوسری ضرورت ہے کہ غریب ترین ممالک کے قرض کا خاتمہ کرنے کی۔ تیسری ضرورت ہے کہ امداد فراہم کی جائے اور یہ بات یقینی بنائی جائے کہ امداد اعلی قسم کی ہے۔ سن دوہزار پانچ میں صحیح معنوں میں کچھ کر دکھانے کا موقع ہے۔ ستمبر میں دنیا کے رہنما نیویارک میں جمع ہوں گے یہ دیکھنے کے لئے کہ (اقوام متحدہ) کے ہزاریہ ترقیاتی اہداف کے تحت کیے جانے والے اقدام کہاں تک ہمیں ترقی کی جانب لے جارہے ہیں۔ ان اہداف کے تحت دنیا کی غربت کو (دوہزار پندرہ) تک آدھی کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ لیکن اس وقت ان اہداف کو حاصل کرنے کی کوششیں کافی پیچھے ہیں۔ ان رہنماؤں کو چاہئے کہ دنیا کے غریب ترین لوگوں کو کیے گئے اپنے وعدے ہر حال میں پورا کریں۔ کل (چار فروری کو) یہاں لندن میں، (ترقی یافتہ ممالک کی تنظیم) جی۔سیون کے وزرائے خزانہ ایک قدم اٹھاسکتے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ مجھے ان سے ملاقات کے لئے بلایا گیا ہے۔ جب جی-ایٹ کے رہنما جولائی میں اسکاٹ لینڈ میں ملاقات کریں گے تو انہوں نے پہلے ہی وعدہ کیا ہوا ہے کہ غربت کے مسئلے، بالخصوص افریقہ میں غربت، پر اپنی توجہ دیں گے۔ میں ان رہنماؤں سے کہتا ہوں: دوسری طرف نہ دیکھیں، ہچکچائیں نہیں۔ اس بات کا اعتراف کریں کہ دنیا اقدام چاہتی ہے، الفاظ نہیں۔ دوراندیشی اور ہمت کے ساتھ قدم اٹھائیں۔ مجھے یہ سفید پٹی پہننے پر خوشی ہورہی ہے جو دو ہزار پانچ میں (غربت کے خلاف) ایکشن کی تبلیغ ہے۔ یہ سفید پٹی میرے ملک سے ہے۔ چند لمحوں میں، میں یہ پٹی آپ کو، برطانیہ کے نوجوانوں کو، دوں گا اور آپ سے کہوں گا کہ اسے کروڑوں لوگوں تک پہنچائیں تاکہ اس کا پیغام جولائی میں ہونے والے اجلاس میں جی۔ایٹ ممالک کے رہنماؤں پر واضح کیا جاسکے۔ میں اسے آپ کو سونپتا ہوں۔ امیدوں کے ساتھ، آپ میری نظروں میں ہوں گے۔ ہم آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ یہاں آئے۔ کبھی کبھی عظمت ایک نسل کو پکارتی ہے۔ آپ ایک عظیم نسل بن سکتے ہیں۔ آپ اپنی عظمت کو کھِلنے دیں۔ یہ کام مشکل تو ہوگا۔ لیکن ایسا نہ کرنا انسانیت کے خلاف ایک جرم ہوگا، جس کے خلاف میں تمام انسانیت سے اٹھ کھڑا ہونے کی اپیل کرتا ہوں۔ دو ہزار پانچ میں غربت کو تاریخ بنائیں۔ دو ہزار پانچ میں تاریخ بنائیں۔ تب ہی ہم اپنا سر اٹھاکر کھڑا ہوسکیں گے۔‘‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||