’امیر ممالک امداد دوگنا کریں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی امدادی ایجینسی آ کسفیم نے اپنی ایک رپورٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ دنیا سے غربت ختم کرنے کے لئے امیر ممالک کو بہت زیادہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ اس غیر سرکاری تنظیم یا این جی او کا کہنا ہے کہ غریب ممالک اس وقت دس کروڑ ڈالر روزانہ امیر ممالک کو قرضوں کی واپسی کی صورت میں ادا کررہے ہیں جبکہ امیر ممالک کی طرف سے غریب ممالک کو دی جانے والی امداد کا بجٹ انیس سو ساٹھ کی دہائی کے مقابلے میں آدھا رہ گیا ہے۔ آ کسفیم کی ڈائیریکٹر باربرا سٹاکنگ نے اس موقع پر کہا ہے کہ، ’جیسے جیسے امیر ممالک زیادہ امیر ہورہے ہیں وہ اتنی ہی کم امداد دے رہے ہیں۔ یہ ایک سکینڈل ہے جسے ختم ہونا چاہئیے۔‘ ایجینسی کے مطابق افر یہ رجحان جاری رہا تو اگلے دس برسوں میں ساڑھے چار کروڑ بچے غیر ضروری طور پر ہلاک ہوجائیں گے۔ آ کسفیم کا کہنا ہے کہ امیر ممالک نے انیس سو ستر میں جو وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے مجموعی قومی آمدنی کا اعشاریہ سات فیصد امداد کے طور پر دیا کریں گے، وہ اب توڑ دیا گیا ہے اور زیادہ تر امیر ممالک اوسطً اپنی مجموعی قومی آمدنی کا صرف اعشاریہ دو فیصد امداد میں دیتے ہیں جبکہ امریکہ صدر اعشاریہ ایک فیصد امداد میں دیتا ہے۔ آ کسفیم کی اس رپورٹ میں جسے، ’پئینگ دی پرائس کا ٹائیٹل‘ دیا گیا ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ امداد کو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے اور کچھ ممالک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنے امدادی پروگرام کا حصہ بنا لیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے غربت کے خاتمے کے لئے بنائے گئے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ امیر ممالک امداد میں اضافہ کریں۔ رپورٹ کے الفاظ میں ، ’ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے امداد مہیا کرنا امیر ممالک کی نہ صرف اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ انصاف کا تقاضہ بھی ہے۔‘ بی بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار مائیک وولرج کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ برطانیہ کی طرف سے جی ایٹ ممالک کی تنظیم کی صدارت سنبھالنے سے پہلے سامنے آئی ہے اور آ کسفین چاہتی ہے کہ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر باقی جی ایٹ ممالک کو اس بات پر آمادہ کرلیں کہ وہ غریب ممالک کے قرضے معاف کردیں اور امداد کو دوگنا کردیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||