ورلڈ بینک: غربت مکاؤ یا فوج بڑھاؤ؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ورلڈ بینک پاکستان میں غربت کم کرنے کے لئے 2005-2004 میں ایک بلین ڈالر کا قرض دے گا- حکومتی پالیسیوں کے ناقدین کا تاثر ہے کہ ورلڈ بینک کے بڑھتے ہوئے قرضہ جات کے ساتھ ساتھ غربت بھی بڑھ رہی ہے- اس سال کے آخر تک ورلڈ بینک کا پاکستان پر قرضہ آٹھ بلین ڈالر سے بھی تجاوز کرجائے گا اور غربت کی شرح بھی اب چالیس فیصد کے قریب قریب پہنچنے والی ہے- اس کے برعکس حکومتی نمائندوں کا دعویٰ ہے کہ پچھلے ایک سال میں غربت میں ایک فیصد کمی آئی ہے اور آئندہ سالوں میں مزید کمی ہونے کی توقع ہے- بعض ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں غربت دیئے جانے والے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے اور عالمی ادارے اور حکومت پاکستان غربت کو سمجھنے اور اس کا حل نکالنے سے قاصر ہیں۔ گزشتہ ہفتے کئے جانے والے اعلان کے مطابق ورلڈ بینک پاکستان کو فوری طور پر تین سو ملین ڈالر کا قرضے دے گا۔ حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ ورلڈ بینک پاکستان کو اسی سال سات سو ملین ڈالر کا مزید قرضہ دے گا۔ مشرف حکومت کو پہلے دو سالوں میں ملنے والے قرضوں کے اعداد و شمار نہیں مل سکے لیکن پچھلے سالوں میں غربت گھٹانے کے لئے 2.6 بلین کا قرضہ ملا ہے۔ غربت کم کرنے کے لیے ملنے والے یہ قرضہ جات سافٹ قرضے کہلاتے ہیں کیونکہ ان پر کوئی سود نہیں ہوتا اور ان کی ادائیگی پینتیس سال میں ہوتی ہے۔ پہلے پچیس سالوں تک ادائیگی شروع نہیں ہوتی اور اگر ان قرضوں کو پیداواری انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ قرضے ملک پر بوجھ نہیں بن سکتے۔ لیکن ایسا شاذو نادر ہوتا ہے۔ اسی پس منظر میں ڈاکٹر عشرت حسین نے اسٹیٹ بینک کا گورنر بننے سے پہلے ایک ذاتی گفتگو میں کہا تھا کہ بنیادی طور پر پاکستان کا تمام قرضہ فوجی اخراجات کی وجہ سے ہے۔ اسی طرح سٹی بینک کے ایک پرانے اہلکار جناب شفقت خان کا بھی کہنا ہے کہ ورلڈ بینک کے قرضے تو بہت ہی مناسب شرائط پر ملتے ہیں اور ان سے ملکی ترقی میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکتا ہے لیکن عملاً یہ قرضے بجٹ کی بالواسطہ چالاکیوں کے ذریعے فوجی ضرورتوں کے لئے استعمال ہوجاتے ہیں۔ ورلڈ بینک اور دوسرے مالی اداروں کو بھی اس کا بخوبی علم ہوتا ہے اسی لئے ایسے قرضہ جات امریکہ کے ایماء پر منظور کئے جاتے ہیں۔ اسی لئے تو 11/9 کے بعد پاکستان کی قسمت کھلی ہے۔ اس سلسلے میں مشرف انتظامیہ کی کارکردگی ملی جُلی ہے۔ حکومت کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے قرضہ جات کو بڑے سگھڑ طریقے سے استعال کیا ہے۔ مثلا پاکستان نے ایشین ڈیویلپمنٹ بینک کے 2.17 بلین ڈالر کے مہنگے قرضے وقت سے پہلے ہی واپس کردیئے ہیں۔ اسی طرح دوسرے بڑھی ہوئی شرح سود والے پرائیویٹ قرضے بھی واپس کئے گئے ہیں۔ اس مثبت پہلو کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ مشرف حکومت کے دور میں غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں اعداد و شمار کافی حد تک غیر سائنسی بنیادوں پر جمع کئے جاتے ہیں۔ غربت کے اعداد و شمار بھی عام مشاہدے کی نفی کرتے ہیں۔ اگر دیہاتوں اور کچی آبادیوں کا مشاہدہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارتی ہے۔ اگر پاکستان کی ستر فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے تو اس کا زیادہ تر حصہ بے روزگاری اور غریبی کی زندگی گزار رہا ہے۔ مشینی زراعت کی وجہ سے گاؤں کے گاؤں بیکار اور بے روزگار ہوچکے ہیں۔ زیادہ تر علاقوں میں زمین تقسیم در تقسیم کے باعث زیادہ تر کسان کلی یا جزوی طور پر بے روزگار اور غریب ہیں۔ مزید برآں صنعتی ترقی کے فقدان کی وجہ سے گاؤں کے بیکار کسانوں کو کہیں بھی روزگار میسر نہیں آتا۔ اگر ان کے ساتھ شہری غریبوں کے جم غفیر کو شامل کرلیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ غریبوں کی تعداد 50 فیصد سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان عالمی اداروں کے قرضے میں کمی لانے سے قاصر ہے؟ کیا غربت کے نام پر دیئے جانے والے قرضے فوجی امداد ہے؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||