BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 August, 2004, 17:15 GMT 22:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانIMF سے آزاد ہو رہا ہے؟

آئی ایم ایف
پاکستان کے نئے وزیراعظم سابق وزیرخزانہ ہیں
اس بات کا کافی امکان ہے کہ پاکستان کے نئے وزیر آعظم شوکت عزیز دعویٰ کریں گے کہ پاکستان کو اب آئی ایم ایف یا عالمی مالیاتی فنڈ کی خاص ضرورت نہیں رہی۔ غالبا عشرت حسین بھی نئی پالش کیے ہوئے سٹیٹ بینک کے ہارن بجاتے ہوئے آئیں گے اور سینہ تان تان کر کہیں گےکہ پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر 2ء12 بلین ڈالر ہوگئے ہیں اس لئے پاکستان کو اب آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ آدھا سچ اس طرح بیان کیا جائے گا کہ خبریں سننے اور پڑھنے والے مشکوک ہوتے ہوئے بھی بتا نہ پائیں گے کہ یہ حضرات ڈنڈی کہاں مار رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اب بھی پاکستان پر آئی ایم ایف کا 101ء2 بلین ڈالر کا قرضہ ہے اور
پاکستان اس وقت تک اس سے آزاد ہے جب تک اسے کھلی مارکیٹ سے قرضہ مل سکتا ہے ۔

اعلان کی وجہ
 ممکنہ اعلان کی وجہ یہ ہے کہ 27 اگست سے جناب محسن خان کی قیادت میں آئی ایم ایف کے اعلی سطح کے ماہرین کی ٹیم پاکستان کا دورہ کررہی ہے

کھلی مارکیٹ سے قرضے کا حصول کلی طور پر سیا سی استحکام کا محتاج ہے جو کہ اب جنرل مشرف کی ذات میں مرکوز ہے۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی معاشی آزادی کتنی پائیدار یا نازک حالت میں ہے۔ بہر حال آئی ایم ایف کی محتاجی ختم ہونے کا اعلان ہونے والا ہے۔

اس ممکنہ اعلان کی وجہ یہ ہے کہ 27 اگست سے جناب محسن خان کی قیادت میں آئی ایم ایف کے اعلی سطح کے ماہرین کی ٹیم پاکستان کا دورہ کررہی ہے۔

یہ ٹیم پاکستان کے غریبی گھٹانے اور ترقی کے لیے فراہم کردہ سہولت ( PRGF)
Poverty Reduction Growth Facility کو کامیابی سے مکمل کرنے کا جشن منانے گئی ہے۔

ٹیم کے لیڈر جناب محسن خان آئی ایم ایف میں کام کرنے والے پاکستانی معیشت دانوں میں سب سے زیادہ سینئر ہیں۔ اور آجکل آئی ایم ایف میں مشرق وسطی کے ڈائرکٹر ہیں ۔ آئی ایم ایف کی طرف سے عراق کی معیشت کی نگرانی بھی ان کے احاطہء اختیار میں ہے۔

وہ اچھے معیشت دان مانے جاتے ہیں۔ لیکن آئی ایم ایف کی افسری کرتے ہوئے وہ بھی وہی کرتے ہونگے جو ان کے ادارے کی پالیسی ہوتی ہے۔

اس پروگرام کی تکمیل کے بعد آئی ایم ایف قرضہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی کیونکہ پاکستان نے پہلے ہی کھلی مارکیٹ سے سرمایہ ادھار لینا شروع کردیاہے۔

پروگرام کے نام سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ غریبی ہٹانے کا پروگرام تھا لیکن حقیقت میں اس کا غریبی ہٹانے سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔

سن 2001 میں شروع ہونے والے 5ء1 بلین ڈالر ( بلین ایس ڈی آرز) کے اس پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستان کو معاشی اور سیاسی ڈھانچے کی ترتیب نو کے لیے مدد دینا تھا۔ چار قسطوں میں دیے جانے والے اس قرض کی کڑی شرائط تھیں۔ یعنی ایک قسط کے بعد دوسری قسط تب ملتی تھی جب پاکستان مقررہ شرائط کو پوری کردیتا تھا۔

غربت ہٹاؤ پروگرام کا مقصد
 سن 2001 میں شروع ہونے والے 5ء1 بلین ڈالر ( بلین ایس ڈی آرز) کے اس پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستان کو معاشی اور سیاسی ڈھانچے کی ترتیب نو کے لیے مدد دینا تھا

اس سے پہلے پاکستان حکومت نے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ ( ایس بی آر) کے 475 ملین ڈالر کے قرضے کی کامیابی سے تکمیل کی تھی۔ جس کی وجہ سے اسے حال میں مکمل ہونے والا غریبی گھٹاؤ پروگرام ملا تھا۔ آئی ایم ایف اور پاکستان کی حکومت اس بات پر نازاں ہیں کہ کوئی بھی جمہوری حکومت آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل نہیں کرسکی جبکہ مشرف انتظامیہ نے یہ کارنامہ دو مرتبہ کر دکھایا ہے ۔

جمہوری حکومتوں کے مکمل نہ کرنے کی وجوہات کی طرف ہم تھوڑی دیر بعد
آئیں گے۔

پاکستان کے موجودہ معاشی استحکام کو بھی ان ہی وجوہات کی ایک کڑی بتایا جاتا ہے۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے اکنامک منسٹر جناب ملک مشتاق کا کہنا ہے کہ پاکستان نے جب ایس بی آر کامیابی سے مکمل کیا تو اس کی پیرس کلب میں شنوائی ہوئی اور پیرس کلب نے جب گرین لائٹ دے دی تو پاکستان کو 18 ملکوں کے 5ء 12 بلین ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی میں تاخیر کی اجازت ملی۔

مطلب یہ کہ آئی ایم ایف کی منظوری کے بغیر پیرس کلب نہیں جایا جاسکتا اور پیرس کلب میں جائے بغیر قرضوں کی ادائیگی کو ملتوی نہیں کروایا جاسکتا۔ لہذا قرضوں کی ادائیگی کا التواء آئی ایم ایف کا مرہون منت ہے۔

پاکستان کو آئی ایم ایف کے ایس بی آر کے 475 ملین ڈالر کے قرضے کی اس لیے بھی ضرورت تھی کہ اس وقت پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر صرف پانچ سو سے سات سو ملین ڈالروں تک محدود تھے۔ پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی خبریں پھیلتی رہتی تھیں۔ اور اس کو بیرونی ادائیگیوں میں شدید مسائل کا سامنا تھا۔

اور پاکستان کی متزلزل معاشی حالت کی بناء پر اسے مناسب سود پر قرض بھی نہیں ملتا تھا۔

جناب مشتاق ملک کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف انتظامیہ کے معاشی بندوبست سے پانسہ پلٹا ہے اور اب پاکستان کو معاشی استحکام حاصل ہے۔ معترضین کا کہنا ہے کہ یہ صرف دین ہے 11/9 کی۔
جس کی وجہ سے امریکہ کے کہنے پر دنیا بھر نے پاکستان کو معاشی چھوٹ دی ہے اور پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ صرف ہنڈی بند ہونے سے ہوا ہے۔

جیسا کہ پہلے کہا جاچکا ہے کہ آئی ایم ایف کے قرضے کا غریبی کے گھٹانے سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ پاکستان کو راہ راست پر لانے کے لیے سستے ریٹ ( تقریبا 5ء1فیصد) پر قرضہ دیا گیا تھا۔ آئی ایم ایف کی بہت سی شرائط تھیں۔ جن میں بجٹ کے خسارے کا گھٹانا، مختلف ٹیکس لگانا اور بڑھانا، بجلی اور گیس کی قیمتوں کو مارکیٹ کے ریٹ کے برابر ہونے دینا، پٹرول کی قیمتیں ہر دو ہفتے میں مارکیٹ کی مطابقت میں رکھنا، درآمدات پر ایکسائز اور ڈیوٹیوں کو کم اور سادہ کرنا، قومی ملکیت میں بڑے بڑے بینکوں کی نجکاری اوروایڑا، ریلوے اور پی آئی اے کو خود کفیل بنانا، شامل تھا۔

ان شرائط کو پورا کرنے کے نتیجے میں اشیاء کی قیمتیں تیزی سے بڑھیں اور غربت میں اضافہ ہوا۔

جمہوری حکومتوں پر عوام کا دباؤ رہتا تھا جس کی وجہ سے وہ یہ شرائط کو پورا کرنے کے لئے اشیا--کی قیمتیں تیمی سے بڑھیں اور غربت میں اضافہ ہوا۔ جمہوری حکومتوں پر عوام کا دباؤ رہتا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ یہ شرائط پوری نہ کر پاتی تھیں۔ نتیجہ یہ ہونا تھا کہ آئی ایف پاکستان کو دیے جانے والے قرضے موقوف کردیتا۔ فوجی حکومتوں پر عوام کا دباؤ نہیں ہوتا لہذا انہوں نے یہ شرائط پوری کردیں اور سرخرو ہوگئی۔

آئی ایم ایف شرائط منوا کر جس طرح کا معاشی ماڈل پاکستان کو بنانا چاہتا ہے اس کے مطابق اگر پاکستان کی کلی معیشت مستحکم ہوجائیگی۔ تو روزگار بڑھیں گے اور غربت میں کمی ہوگی۔

سرمایہ کار جب زیادہ منافع کمائیں گے تو سرمایہ کاری کی ریزگاری نیچے ٹپکنے سے غریب بھی مستفیذ ہوں گے۔ لیکن جہاں جہاں بھی یہ ماڈل اپنایا گیا ہے غربت میں کمی ہونے کی بجائے اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اہم ترین حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت کا سارا استحکام جنرل مشرف کے ساتھ نتھی ہے اور جب بھی یہ مخدوش نظام ہلے گا پاکستان فورا پرانی صورت حال سے دو چار ہو جائے گا۔

شاید آئی ایم ایف کے کار پرواز وقت سے پہلے جشن منا رہے ہیں۔ اور یہ بھول رہے ہیں کہ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں، یا یہ کہ ابھی تو امتحاں شروع ہی نہیں ہوا ۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد