آئی ایم ایف الودع : شوکت عزیز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان وزیر خزانہ شوکت عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان نے کشکول اٹھانا بند کردیا ہے اور اسی سال کے آخر تک عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کو خیرباد کہہ دے گا۔ شوکت عزیز نے کہا کہ ایک وقت تھا کہ جب ہم دوست ملکوں کے پاسں جایا کرتے تھے تو وہ سوچتے تھے کہ ہم امداد لینے آۓ ہیں لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے۔ شوکت عزیز بدھ کو لاہور کے ایوان صنعت و تجارت کی دعوت پر کاروباری حضرات کے ایک اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ امداد ایک دوا کی طرح ہے اور یہ ہماری بد انتظامی تھی کہ ہمیں آئی ایم ایف کی شرائط ماننی پڑیں اور اس کی کڑوی گولیاں نگلنی پڑیں ۔ انھوں نے کہا کہ اب ہم نے یہ کڑوی گولیاں لینا بند کردی ہیں۔ شوکت عزیز کا کہنا تھا کہ کئی برسوں بعد ملکی معیشت میں بہتری آئی ہے اور اب ملک اس حیثیت میں ہے کہ چھوٹے ملکوں کو قرضے دے سکے۔ وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ملکی پیداوار اس سال چھ فیصد رہی ہے جبکہ اگلے سال ساڑھے چھ فیصد ہونے کا امکان ہے۔ انھوں نے کہا کہ بڑے پیمانے کی اشیا کی پیداوار کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور درآمدات کی شرح میں تیس فیصد کے قریب اضافہ ہوا ہے جس میں زیادہ تر مشینری شامل ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی منڈی میں پاکستان اس وقت چین کے بعد ٹیکسٹائل کی مشینری کا دوسرابڑا خریدار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیمینٹ کے کارخانے اس وقت اپنی پیداواری استعداد کے نوے فیصد پر کام کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آئیندہ سال کے مالی بجٹ میں حکومتی اخراجات کم ہوجائیں گے اور ترقیاتی اخراجات میں اضافہ کیا جاۓ گا۔ انھوں نے کہا کہ بے روزگاری ختم کرنے کے لیے حکومت تعمیرات اور مالی شعبہ میں زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے اقدامات کررہی ہے۔ شوکت عزیز نے دعوی کیا کہ اس سال جون تک ملک میں براہ راست سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر ہوجاۓ گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||